Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

دودھ اس طرح پلا دے کہ اس بچّے کے حَلْق سے نیچے اُتر جائے۔ اگر بچی گود لینا ہو تو شوہر سے رضاعت کا رِشتہ قائم کرنے کے لیے شوہر کی بہن یا بھانجی یا بھتیجی کا دودھ اسے پلا دیا جائے ۔ اس طرح اب جن جن سے دودھ کا رِشتہ قائم ہوا اُن سے پردہ واجِب نہ رہا۔اعلیٰ حضرت  عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت فرماتے ہیں: بحالتِ جوانی یا اِحتمالِ فتنہ پردہ کرنا ہی مناسب ہے کیونکہ عوام کے خیال میں اس  (دودھ کے رشتے)   کی ہیبت بہت کم ہوتی ہے۔ ([1])  یہ یاد رہے کہ ہجری سِن کے حساب سے دو برس کے بعد بچّہ یابچّی کو اگرچہ عورت کا دودھ پلانا حرام ہے۔ مگر ڈھائی برس کے اندر اگر دودھ پلائے گی تو رضاعت  (یعنی دودھ کی رِشتہ داری)   ثابت ہو جائے گی۔

بَہُو کا اپنے سُسَر کو” ابّا جان“ کہنا کیسا؟

سُوال: کیا بَہُو اپنے سُسَر کو” ابّا جان“ کہہ سکتی ہے؟

جواب: بَہُو اپنے سُسَر کو ”ابّا جان“ کہہ سکتی ہے۔ اگر عام لوگ بھی کسی شخص کو اپنا ”حقیقی والِد“ ظاہر نہ  کریں صِرف یوں ہی ’’ ابّاجان ‘‘  کہہ کر پکاریں جب بھی حرج نہیں جیسا کہ بعض عمر رسیدہ لوگوں کو سب ’’ ابّاجان ‘‘   کہہ کر پکارتے ہیں تو ایسوں  کو” ابّا جان“ کہہ کر مخاطِب ہونے میں کوئی مُضایقہ نہیں۔

صرف ماں کے سیِّدہ ہونے سے اولاد سیِّد نہیں ہوتی

سُوال:جس  کا والد سیِّد نہ ہو لیکن والدہ سیدہ ہو تو وہ اپنے آپ کو سید کہہ یا کہلوا سکتا ہے؟

جواب:جس کا والد سیِّد  نہ ہواگرچہ والدہ سیدہ ہو تو وہ اپنے آپ کو سید نہیں کہہ یا کہلوا سکتا  کیونکہ شریعتِ مطہرہ میں نَسَب  ( یعنی خاندان کا سلسلہ)   والد سے ہوتا ہے نہ کہ والدہ سے۔ ([2])   اعلیٰ حضرت، امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن اَحْسَنُ الْوِعَاءِ  لِآدَابِ الدُّعَا میں فرما تے ہیں: بعض سُفہائے بے عقل جن کا باپ شیخ یا اور قوم سے ہے،  صرف ماں کے سیِّدانی ہونے پر سیِّد بن بیٹھتے ہیں اور اس بنا پر اپنے آپ کو سیِّد کہتے کہلاتے ہیں۔یہ بھی محض جہالت و معصیت اور وہی دوسرے باپ کو اپنا باپ بنانا ہے۔شرع مطہر میں نَسَب باپ سے لیا جاتا ہے نہ  (کہ)   ماں سے ۔ ([3]

فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 198 پر ہے:جو واقع میں سیِّد نہ ہو اور دِیدہ و دَانستہ  (یعنی جان بوجھ کر )   سید بنتا ہو وہ مَلْعُون  (لعنت کیا گیا)   ہے،  نہ اس کا فرض قبول ہو  نہ نفل۔رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں:جو کوئی اپنے باپ کے سِوا کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو مَنْسُوب کرنے کا دعویٰ کرے یا کسی غیر والی کی طرف اپنے آپ کو پہنچائے تو



[1]    فتاویٰ رضویہ، ۲۲ / ۲۳۵، ماخوذاً رضا فاؤنڈیشن مرکز الاولیا لاہور 

[2]    ساداتِ کرام کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کے لیے دعوتِ اسلامی کے اِشاعتی اِدارے مکتبۃ المدینہ کا مطبوعہ رسالہ ”ساداتِ کرام کی عظمت“ کا مطالعہ کیجیے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)

[3]    فضائلِ دُعا، ص ۲۸۵ مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی 



Total Pages: 21

Go To