Book Name:Qutub-e-Alam Ki Ajeeb Karamat Ma Deger Dilchasp Sawal Jawab

جواب:نسب کا دار ومدار وَلدیت پر ہوتا ہے اس لیے ہر جگہ حقیقی باپ ہی  کا نام لکھا اور بولا جائے۔اپنے باپ کے عِلاوہ کسی دوسرے کی طرف بیٹا ہونے کی نسبت کرنا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے لہٰذا شادی کارڈ ،  شناختی کارڈ اور پاسپورٹ وغیرہ ہر جگہ حقیقی باپ ہی کا نام لکھا اور بولا جائے۔ یاد رکھیے!  ماں کو طَلاق دینے والے ”باپ “سے اولاد کا رِشتہ ختم نہیں ہو جاتا،  بطورِ باپ اب بھی اُس کی خدمت  کرنی ہو گی اگرچہ  ماں ناراض ہوتی ہو،  اگر ماں کے کہنے میں آ کر کسی نے  باپ کی حق تلفی کی  تو وہ  سخت گنہگار اور عذابِ نار کا حقدار ہے۔اگر کسی سے ایسی غلطی ہوئی ہو تو اُسے چاہیے کہ توبہ کرے اور باپ اگر زندہ ہو تو اس سے معافی بھی مانگے، اگر باپ کا اِنتقال ہو گیا ہو تو پھر کثرت سے اس کے لیے  اِستِغفار اور مَغْفِرت کی دُعا کرے۔اللہ عَزَّوَجَلَّ ہمیں اپنے والدین کا خدمتگار اور فرمانبردار بنائے۔اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْن صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وَسَلَّم ([1])   

مطیع اپنے ماں باپ کا کر میں انکا

ہر اِک حکم لاؤں بجا یاالٰہی   (وسائلِ بخشش

لے پالک بچے کی وَلدیت تبدیل کرنا  کیسا؟

سُوال:لے پالک بچے یا بچی کے نام کے ساتھ پرورش کرنے والے کا اپنا نام بطورِ وَلدیت بولنا یا لکھنا کیسا ہے؟

جواب: لے پالک بچہ یا بچی لے کر اس کے حقیقی باپ کی جگہ پرورش کرنے والے کا اپنے آپ کو اس کا  حقیقی باپ ظاہر کرنا ،  لکھنا اور لکھوانا حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے۔پرورش کرنے اور منہ بولا بیٹا یا بیٹی  کہہ دینے سے وہ حقیقی بیٹا یا بیٹی نہیں بن جاتے قرآنِ کریم میں اس کی ممانعت آئی ہے چنانچہ پارہ 21 سورۃُ الاحزاب کی آیت نمبر 4 اور 5 میں اِرشاد ہوتا ہے:

وَ مَا جَعَلَ اَدْعِیَآءَكُمْ اَبْنَآءَكُمْؕ-ذٰلِكُمْ قَوْلُكُمْ بِاَفْوَاهِكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَقُوْلُ الْحَقَّ وَ هُوَ یَهْدِی السَّبِیْلَ (۴)  اُدْعُوْهُمْ لِاٰبَآىٕهِمْ هُوَ اَقْسَطُ عِنْدَ اللّٰهِۚ-

ترجمۂ کنزالایمان:اور نہ تمہارے لیے پالکوں کو تمہارا بیٹا بنایا یہ تمہارے اپنے منھ کا کہنا ہے اور اللہ حق فرماتا ہے اور وہی راہ دکھاتا ہے۔ انہیں ان کے باپ ہی کا کہہ کر پکارو یہ اللہ  کے نزدیک زیادہ ٹھیک ہے۔

یاد رکھیے!  مُنہ بولے بھائی بہن، منہ بولے ماں بیٹے اورمنہ بولے باپ بیٹی میں بھی پردہ ہے حتّٰی کہ لے پالک بچہ جب مرد و عورت کے مُعامَلات سمجھنے لگے تو

اس سے بھی پردہ ہے اَلبتہ دودھ کے رِشتوں میں پردہ نہیں مثلاً رَضاعی ماں بیٹے اور رَضاعی بھائی بہن میں پردہ نہیں لہٰذا لے پالک بچّے کوہجری سن کے مطابق دو سال کی عمر کے اندر اندر عورت اپنا یا اپنی سگی بہن یاسگی بیٹی یا سگی بھانجی کا کم از کم ایک بار



[1]    والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرنے  کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ  کے رسالے ’’سمندری گنبد“ کا مطالعہ کیجیے۔ (شعبہ فیضانِ مدنی مذاکرہ)



Total Pages: 21

Go To