Book Name:Ijtimai Sunnat e itikaf ka Jadwal

     پیارے مُعتکف اسلامی بھائیو!چُونکہ آپ کو مسجِدہی میں وقت  گزارنا ہے اِس لیے اِحتِرامِ مسجِدسے مُتَعَلِّق چند باتیں سیکھ لیجیے۔

٭دَورانِ اعتِکاف مسجِد کے اندر ضَرورۃً دُنیَوی بات کرنے کی اجازت ہے لیکن دِھیمی آوازکے ساتھ اور احتِرامِ مسجِد کو مَلحُوظ رکھتے  ہوئے بات کیجیے۔یہ نہیں ہونا چاہیے کہ آپ چِلّا  کر کسی اسلامی بھائی کو بُلا رہے ہوں اور وہ بھی آپ کو چِلّا کر جواب دے رہا ہو، ”ابے تبے“اور غُل غَپاڑے سے مسجِد گونج رہی ہو۔ یاد رکھیے! مسجِد میں بِلاضَرورت دُنیوی بات چیت کی مُعتکف کو بھی اجازت نہیں۔ ٭مسجِد کے اندر کسی قسم کاکُوڑا ہرگز نہ پھینکیں۔” مسجِد میں اگر خَس  (یعنی معمولی سا تنکا یا ذَرّہ) بھی پھینکا جائے تو اس سے مسجِد کو اس قَدَر  تکلیف پہنچتی ہے جس قَدَر تکلیف انسان کو اپنی آنکھ میں خَس (یعنی معمولی ذَرّہ) پڑ جانے سے ہوتی ہے۔“ ([1])  ٭مسجِدکی دیوار، اِس کے فَرش، چَٹائی یا دَری کے اوپر یا اس کے نیچے تھوکنا ، ناک سِنکنا ، ناک یا کان میں سے میل نکال کر لگانا، مسجِدکی دری یا چٹائی سے دھاگہ یا تِنکا وغیرہ نَوچنا سب ممنوع ہے۔٭ضَرورتاً اپنے رومال وغیرہ سے ناک پُونچھنے میں کوئی مُضایقہ نہیں۔٭مسجِد کاکُوڑا جھاڑ کر ایسی جگہ مت ڈالیے جہاں بےاَدَبی ہو۔٭جُوتے اُتار کر مسجِد میں ساتھ لے جانا چاہیں تو گَرد وغیرہ باہَر جھاڑ  لیں۔ اگر پاؤں کے تَلووں میں گَرد کے ذَرّات لگے ہوں تو اپنے رومال وغیرہ سے پُونچھ کر مسجِد میں داخِل ہوں۔٭مسجِد کے وُضو خانے پر وُضو کرنے کے بعد پاؤں وُضو خانے ہی پر اچّھی طرح خشک کر لیجیے۔گیلے پاؤں لیکرچلنے سے مسجد کا فرش گندا اور دَریاں میلی اور بدنُما ہو جاتی ہیں۔٭مسجِد میں دوڑنا یا زور سے قدم رکھنا، جس سے دَھمک پیداہومنع ہے۔ ٭وُضُو کرنے کے بعد اَعضائے وُضُو سے ایک بھی چِھینٹ پانی فرشِ مسجد پر نہ گرے۔ (یاد رکھیے! اعضائے وُضُوسے وُضُوکے پانی کے قطرے فرشِ مسجِد پر گِرانا ، ناجائز ہے) ٭مسجِد کے ایک دَرَجے سے دوسرے دَرَجے کے داخِلے کے وَقت (مَثَلًا صحن میں داخل ہوں تب بھی اورصحن سے اندرونی حصّے میں جائیں جب بھی)  سیدھا قدم بڑھایا جائے حَتّٰی کہ اگر صَف بچھی ہو اس پر بھی سیدھا قدم رکھیں اور جب وہاں سے ہٹیں تب بھی سیدھا  قدم فرشِ مسجد پر رکھیں (یعنی آتے جاتے ہر بچھی ہوئی صَف پر  پہلے سیدھا قدم رکھیں)  یا خَطِیب جب مِنبرپر جانے کا اِرداہ کرے، پہلے سیدھا قدم رکھے اور جب اُترے تو  (بھی)  سیدھا قدم اُتارے۔٭مسجِد میں اگر چِھینک آئے تو کوشش کریں آہستہ آواز نکلے اسی طرح کھانسی۔سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم مسجِد میں زور کی چھینک کو ناپسند فرماتے۔اِسی طرح ڈَکارکو ضَبط کرنا چاہیے اور نہ ہو توحَتَّی الْاِمکان آواز دبائی جائے اگرچِہ غیرمسجِدمیں ہو۔ خُصُوصاً مجلس میں یاکسی معظَّم  ( یعنی بزر گ )  کے سامنے بے تَہْذِیبی ہے۔٭مسجِد میں ہنسنا منع ہے کہ قبرمیں اندھیرا لاتا ہے۔موقع کے لحاظ سے تَبَسُّم میں حَرَج نہیں۔٭مسجِد کے فرش پر کوئی چیزپھینکی نہ جائے  بلکہ آہِستہ سے رکھ دی جائے۔ موسِمِ گرما میں لوگ پنکھاجَھلتے جَھلتے پھینک دیتے ہیں  (مسجِدمیں ٹوپی ، چادر وغیرہ بھی نہ پھینکیں اسی طرح چادر یا رومال سے فرش اس طرح نہ جھاڑیں کہ آواز پیدا ہو)  یا لکڑی، چَھتری وغیرہ رکھتے وقت دُورسے چھوڑ دیا کرتے ہیں  اِس کی مُمَانَعَت ہے۔ غَرَض مسجد کا اِحتِرام ہر مسلمان پر فرض ہے۔٭مسجِد میں حَدَث ( یعنی رِیح خارِج کرنا) منع ہے ضَرورت ہو تو  (جو اعتِکاف میں نہیں ہیں وہ) باہَرچلے جائیں لہٰذا مُعتکِف کو چاہیے کہ ایّامِ اعتِکاف میں تھوڑا کھائے، پیٹ ہلکا رکھے کہ قَضائے حاجت کے وَقت کے سوا کسی وَقت اِخراجِ رِیح کی حاجت نہ ہو۔ وہ اس کے لئے باہَر نہ جاسکے گا۔ (البتّہ اِحاطہ مسجِد میں موجود بیتُ الخلا میں رِیح خارِج کرنے کے لیے جاسکتا ہے۔)         

٭٭٭٭٭

               اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ  وَالصَّلٰوۃُ  وَالسَّلَامُ  عَلٰی  سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

          اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ط

26 مدنی پھول برائے اجتماعی  اعتکاف

 



1     جذبُ الْقُلُوب ،  ص۲۲۲



Total Pages: 43

Go To