Book Name:Ijtimai Sunnat e itikaf ka Jadwal

طرف سے ادا ہو گیا اور اگر کسی ایک نے بھی نہ کیا تو سبھی مُجرِم ہوئے۔ ([1]) اِس اعتِکاف میں یہ ضَروری ہے کہ رَمَضانُ الْمُبارَک کی بیسویں تاریخ  کو غُروبِ آفتاب سے پہلے پہلے مسجِدکے اندر بہ نیّتِ اعتِکاف موجود ہو اور انتیس کے چاندکے بعد یاتیس کے غُروبِ آفتاب کے بعد مسجِد سے باہَر نکلے۔ ([2])  اگر بیس رَمَضانُ المبارک کو غُروبِ آفتاب کے بعدمسجِدمیں داخِل ہوئے تو اِعتِکاف کی سنّتِ مُؤَکَّدَہ ادانہ ہوئی بلکہ سورج ڈوبنے سے پہلے پہلے مسجِد میں تو داخِل ہو چکے تھے مگر نیَّت کرنا بھول گئے تھے یعنی دل میں نیَّت ہی نہیں تھی  (نیَّت دل کے اِرادے  کوکہتے ہیں )  تواِس صورت میں بھی اعتِکاف کی سنّتِ مُؤَکَّدہ ادا نہ ہوئی۔ اگر غُروبِ آفتاب کے بعد نیّت کی تو نفلی اعتِکاف ہوگیا۔دل میں نیّت کر لینا ہی کافی ہے زَبان سے کہنا شرط نہیں،البتّہ دل میں نیَّت حاضِرہونا ضَروری ہے ساتھ ہی زَبان سے بھی کہہ لینا زیادہ بہترہے۔ اس اعتکاف کی نیت اس طرح کیجیے:”میں اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رِضاکے لیے رَمَضانُ الْمُبارَک کے آخِری عَشرے کے سنّتِ اِعتِکاف کی نیَّت کرتا ہوں۔“

     اعتکافِ نفل:نذر اور سنّتِ مُؤَکَّدہ کے علاوہ جو اعتِکاف کیا جائے وہ مستحب (یعنی نفلی ) و سنّتِ غَیر مُؤَکَّدہ ہے۔ ([3])  اِس کے لیے نہ روزہ شرط ہے نہ کوئی وَقت کی قید۔جب بھی مسجِد میں داخِل ہوں اِعتِکاف کی نیّت کر لیجیے۔جب تک مسجِدمیں رہیں گے کچھ پڑھیں یا نہ پڑھیں اِعتِکاف کاثواب پائیں گے ، جب مسجِد سے باہَرنکلیں گے اِعتِکاف ختم ہو جائے گا۔ میرے آقا اعلیٰ حضرت ،امامِ اہلسنَّت مولانا شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں :مذہبِ مُفتٰی بِہٖ پر  (نفلی)  اِعتِکاف کے لیے روزہ شرط نہیں اور ایک ساعت کا بھی ہوسکتا ہے جب سے داخِل ہو باہر آنے تک  (کے لیے) اِعتِکاف کی نیّت کر لے ،انتظارِ نماز و ادائے نماز کے ساتھ اِعتِکاف کا بھی ثواب پائے گا۔ ([4])  

اعتکاف قضا کرنے کا طریقہ

     رَمَضانُ الْمُبارَک کے آخِری عَشَرَہ کااِعتِکاف کیا اورکسی وجہ سے ٹوٹ گیا تو دس  دن کی قَضا کرنا ضَروری نہیں۔صِرف اُس ایک دن کی قَضاہے جس دن اِعتِکاف ٹوٹا ہے۔اگر ماہِ رَمَضان کے دن ابھی باقی ہیں تو ان میں بھی قضا ہو سکتی ہے۔اگر رَمَضان شریف گزر گیا تو پھرکسی دن قضا کر لیجیے اور اُس میں روزہ بھی رکھیے۔قضا  کا طریقہ یہ ہے کہ کسی دن غُروبِ آفتاب  سے چند منٹ قبل بہ نیّت قضا اعتِکاف مسجِد میں داخِل ہو جایئے اور  اب جو دن آئے گا اس میں روزہ رکھ کر غُروبِ آفتاب تک مُعتَکِف رہئے۔

معتکف کے مسجد سے باہر نکلنے کی صورتیں

     اعتِکاف کے دَوران دو وُجُوہات کی بِنا پر  (احاطہ)  مسجِدسے باہَرنکلنے کی اجازت ہے: (۱)  حاجتِ شَرْعی  (۲)  حاجتِ طَبعی حاجتِ شَرْعی:یعنی جن اَحکام و اُمور کی ادائیگی شرعاً ضروری ہو اورمُعْتَکِف، اعتِکاف گاہ میں ان کوادا نہ کر سکے، اُن کو  حاجاتِ شَرعی کہتے ہیں مَثَلًااگر مسجد میں وضوخانہ نہ ہو  تو وضو کے لیے مسجد سے باہر جانا۔

     حاجتِ طَبْعی:یعنی وہ ضَرورت جس کے بِغیرچارہ نہ ہو مَثلًا پیشاب، پاخانہ وغیرہ۔ عام طور پر نَمازیوں کی سہولت کے لیے مسجِدکے اِحاطے میں بیتُ الخلا، غُسْل خانہ ، اِستِنجا خانہ اور  وُضُوخانہ ہوتا ہے لہٰذا مُعتکِف انہیں کو استِعمال کرے ۔

معتکف اور احترامِ مسجد

 



2     بہارِ شریعت، ۱/۱۰۲۱،  حِصَّہ: ۵

[2]     بہارِ شریعت، ۱/۱۰۲۱،  حِصَّہ: ۵

4     بہارِ شریعت، ۱/۱۰۲۱،  حِصَّہ: ۵

5     فتاویٰ رضویہ ، ۵/۶۷۴



Total Pages: 43

Go To