Book Name:Ijtimai Sunnat e itikaf ka Jadwal

وَاٰلہٖ وَسَلَّم کی اَزواجِ مُطَہَّرَات رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُنَّ اعتِکاف کرتی رہیں۔ ([1])   

دو حج اور دو عمروں کا ثواب

     میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اعتکاف کرنے سے جہاں سنت پر عمل ہوتا،مساجد آباد ہوتیں  اور اس کی برکتیں ملتی ہیں وہاں ڈھیروں ڈھیر نیکیاں بھی ہاتھ آتی ہیں چنانچہ امیرُالْمُؤمنین حضرتِ مولائے کائنات، علیُّ المُرتَضٰی شیرِِِخدا کَرَّمَ اللّٰہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم سے رِوایت ہے کہ  رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عظیم ہے:جس نے رَمَضانُ الْمُبارَک میں دس دن کا اعتِکاف کر لیا وہ ایسا ہے جیسے دوحج اور دو عمرے کئے۔([2])

ہر روز ایک  حج کا ثواب

     حضرتِ سیِّدُنا حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی سے منقول ہے: معتکف کو ہر روز ایک حج  کا ثواب ملتاہے۔ ([3])

گناہوں سے تحفُّظ اور بِغیر کیے نیکیوں کا ثواب

     حضرتِسیِّدُنا عبدُ اﷲ ابنِ عبّاس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے رِوایت ہے کہ نبیٔ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ معظَّم ہے:اِعتِکاف کرنے  والاگناہوں سے بچارہتاہے اور اس کے لیے تمام نیکیاں لکھی جاتی ہیں جیسے ان کے کرنے والے کے لیے ہوتی ہیں۔ ([4])  اعتِکاف کا یہ بہت بڑا فائدہ ہے کہ  معتکف جتنے دن اعتِکاف میں رہے گا گناہوں سے بچا رہے گا اور جوگناہ وہ باہَر رہ کر کرتا،ان سے بھی محفوظ رہے گا۔لیکن یہ اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی خاص رحمت ہے کہ باہَر رہ کرجو نیکیاں وہ کیا کرتا تھا ، اعتِکاف کی حالت میں اگرچِہ وہ ان کو انجام نہ دے سکے گا مگر پھربھی وہ اس کے نامۂ اعمال میں بدستور لکھی جاتی رہیں گی اور اسے ان کاثواب بھی ملتا رہے گا۔ مَثَلاً کوئی اسلامی بھائی مریضوں کی عِیادت کرتا تھا اور اعتِکاف کی وجہ سے یہ کام نہیں کر سکا تووہ اس کے ثواب سے محروم نہیں ہو گا بلکہ اس کو ایسا ہی ثواب ملتا رہے گاجیسے وہ خود اس کو انجام دیتا رہا ہو۔

اعتِکاف کی خوبیاں

     مُعتَکِفرضائے الٰہی پانے اور ثوابِ آخرت کمانے کے لیے اپنے آپ کوتمام مشاغِل سے فارِغ کر کے مسجِدمیں ڈیرے ڈال دیتا ہے۔ فتاویٰ عالمگیری میں ہے: اعتِکاف کی خوبیاں بالکل ہی ظاہِرہیں کیونکہ اس میں بندہ اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی رِضا حاصل کرنے کے لیے  مکمل طور پر اپنے آپ کو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی عبادت میں منہمک کر  دیتا ہے اور ان تمام مشاغلِ دنیا سے کنارہ کش ہو جاتا ہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے قُرب کی راہ میں حائل ہوتے ہیں اور مُعتَکِف کے تمام اوقات حَقیقۃ ًیا حکما ًنَماز میں گزرتے ہیں۔ (کیونکہ نَماز کا انتِظار کرنابھی نمازکی طرح ثواب رکھتاہے) اور اعتِکاف کا مقصودِ اصلی جماعت کے ساتھ نَماز کا انتِظار کرنا ہے اور مُعتَکِف ان  (فِرشتوں)  سے مُشابَہَت رکھتاہے جو اللہ عَزَّوَجَلَّ  کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو کچھ انہیں حکم ملتا ہے اسے بجا لاتے ہیں اور ان کے ساتھ مُشابَہَت رکھتا ہے جو شب و روز اللہ عَزَّوَجَلَّ  کی تسبیح (پاکی) بیان کرتے رہتے ہیں اور اس سے اُ کتاتے نہیں۔ ([5])

اجتماعی اعتکاف کی برکات

        تبلیغِ قرآن وسنَّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کے  زیرِ اہتمام ہونے والے اِجتماعی اِعتکاف  کی تو کیا بات ہے کہ اِس میں ہزار ہا عاشقانِ رسول معتکف ہو کر دیگر  عبادات کے ساتھ ساتھ علمِ دین حاصل کرتے اورسُنّتوں کی تربیت پاتے ہیں۔نیز اجتماعی اعتکاف میں شریک ہونے والے اسلامی بھائیوں کی بیماریاں ،پریشانیاں دُور ہونے، دَورانِ اعتکاف عاشقانِ رسول کے قرب میں مانگی جانے والی دُعاؤں کے قبول ہونے ، اجتماعی اعتکاف کی برکت سے عقائدِ باطلہ 



1     بخار ی، کتاب الاعتکاف،  باب الاعتکاف فی العشر...الخ ،  ۱/۶۶۴،  حدیث ۲۰۲۶

2     شعب الایمان،  باب فی الاعتکاف، ۳ / ۴۲۵ ، حدیث: ۳۹۶۶

3     شعب  الایمان،  باب فی الاعتکاف، ۳ / ۴۲۵ ، حدیث: ۳۹۶۸

4     ابنِ ماجہ، کتاب الصیام،  باب  فی ثواب الاعتکاف، ۲ /۳۶۵ ،  حدیث : ۱۷۸۱

5     فتاویٰ ھندیة، کتاب الصوم، الباب السابع فی الاعتکاف، ۱ /۲۱۲



Total Pages: 43

Go To