Book Name:Ijtimai Sunnat e itikaf ka Jadwal

سحری کا اِعلان

رَمَضان الْمُبارَک میں روزانہ صُبحِ صادِق سے تین مِنَٹ پہلے ہر مَسجِد میں بُلندآواز سے صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب ! صلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمّد کہنے کے بعد اِس طرح تین بار اِعلان کر دیا جائے، ’’روزہ رکھنے والو! آج سَحَری کا آخری وَقت  (مَثَلاً)  چار بج کر بارہ مِنَٹ ہے۔ وَقت  خَتْم ہو رہا ہے، فوراً کھانا پینا بند کر دیجئے۔ اذان کا ہرگز انتظار نہ فرمائیے ، اذان سَحَری کا وقت ختم ہو جانے کے بعد نَمازِ فجر کے لئے دی جاتی ہے۔‘‘ (فیضانِ سُنّت جلد اوّل ص۱۰۰۶)

افطاری کا اِعلان

جہاں مساجِد ہوں وہاں کاش یہ طریقۂ کار رائج ہو جائے کہ جیسے ہی آفتاب غُروب ہونے کا یقین ہو جائے۔ بُلند آواز سے ’’ صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب !صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد “کہنے کے بعد اس طرح تین بار اِعلان کر دیا جائے:’’روزہ  دارو! روزہ اِفطار کر لیجئے۔‘‘  (فیضانِ سُنّت جلد اوّل ص۱۰۱۱)

٭٭٭٭٭

اعتکاف کی نیتیں

فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم:نِیَّۃُ الْمُؤمِنِ خَیْرٌ مِّنْ عَمَلِہٖ مسلمان کی نیّت اس کے عمل سے بہتر ہے۔  (معجم کبیر، ۶/۱۸۵، حدیث:۵۹۴۲)

اپنے اعتکاف کی عظیم الشان نیکی کے ساتھ مزید اچّھی اچّھی نیتیں شامل کر کے ثواب میں خوب اِضافہ کیجئے۔مکتبۃ المدینہ کی طرف سے شائع کردہ کارڈ میں سے سرکارِ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُرَبِّ الْعِزَّت کی بیان کردہ مسجِد میں جانے کی40 نیّتوں کے ساتھ ساتھ مزید یہ نیّتیں کر کے گھر سے نکلئے۔ ( مسجِد میں آ کر بھی حسبِ حال نیّتیں کی جا سکتی ہیں، جب بھی اچّھی اچّھی نیتیں کریں ثواب کی نیّت پیشِ نظر رکھا کریں۔)

 (۱) رَمَضانُ المُبارَک کے آخِری دس دن (یا پورے ماہ)  کے  (سنّت)  اعتِکاف کے لیے جا رہا ہوں  (۲)  تصوُّف کے ان مَدَنی اصولوں  (الف)  تقلیلِ طَعام (یعنی کم کھانا)  (ب)  تَقلِیلِ کلام ( یعنی کم بولنا)  (ج)  تَقلیلِ مَنام (یعنی کم سونا)  پر کار بند رہوں گا  (۳) روزانہ پانچوں نَمازیں پہلی صَف میں (۴)  تکبیرِ اُولیٰ کے ساتھ (۵)  باجماعت ادا کروں گا  (۶)  ہر اذان اور  (۷)  ہر اِقامت کا جواب دوں گا (۸)  ہر بار مع اوّل و آخِر دُرُود شریف اذان کے بعد کی دُعا پڑھوں گا (۹)  روزانہ تہجُّد  (۱۰)  اِشراق  (۱۱)  چاشت اور  (۱۲)  اَوَّابِین کے نوافِل ادا کروں گا (۱۳)  تِلاوت اور  (۱۴)  دُرُود شریف کی کثرت کروں گا  (۱۵)  روزانہ رات سورۃُ الْمُلْک پڑھوں یا سُنوں گا  (۱۶)  کم از کم طاق راتوں میں صلوٰۃُ التسبیح ادا کروں گا  (۱۷)  تمام سنّتوں بھرے حلقوں اور  (۱۸)  بیانات میں اوّل تا آخِر شرکت کروں گا (۱۹)  رِشتے داروں اور مُلاقاتیوں کو بھی اِنفِرادی کوشش کر کے سنّتوں بھرے حلقوں میں بٹھاؤں گا  (۲۰)  زَبان پر قفلِ مدینہ لگاؤں گا یعنی فُضُول گوئی سے بچوں گا اور ممکن ہوا تو اِس نیّتِ خیر کے ساتھ ضَرورت کی بات بھی حتَّی الْاِمکان لکھ کر یا اشارہ سے کروں گا تاکہ فُضُول یا بُری باتوں میں نہ جا پڑوں یا شور و غُل کا سبب نہ بن جاؤں (۲۱)  مسجِد کو ہر طرح کی بدبُو سے بچاؤں گا (۲۲)  مسجِد میں نظر آنے والے تنکے اور بالوں کے گچھے وغیرہ اٹھاتے رہنے کے لیے اپنی جیب میں شاپر رکھوں گا۔ فرمانِ مصطَفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم: جو مسجِد سے اَذِیّت کی چیز نکالے اللہ عَزَّوَجَلَّ اُس

کے لیے جنّت میں ایک گھر بنائے گا۔  (ابنِ ماجہ ،۱ / ۴۱۹،  حدیث:۷۵۷ )   (۲۳)  اپنے پسینے ، مُنہ کی رال وغیرہ کی آلودَگی سے مسجِد کے فرش یا دری کو بچانے کیلئے صرف اپنی چادر یا چَٹائی پر ہی سوؤں گا (۲۴) بہ نیّتِ حیا سونے میں پردے میں پردہ کا ہر طرح سے خیال رکھوں گا  (سوتے وقت پاجامے پر تہبند باندھ کر مزید اوپر سے چادر اوڑھ لینی مفید ہے۔ مَدَنی قافِلے میں،گھر میں اور ہر جگہ اس کا خیال رکھنا چاہئے)   (۲۵)  وُضوخانہ فِنائے مسجِد میں



Total Pages: 43

Go To