Book Name:Ijtimai Sunnat e itikaf ka Jadwal

قطبِ مدینہ، صدرالافاضل، امام غزالی،مفتی احمد یار خان ، سیدی قطبِ مدینہ، مفتی ِدعوتِ اسلامی، حاجی مشتاق،حاجی فاروق ،حاجی زمزم رضا۔تمام مبلغات و مبلغین و مرحومین ۔

اے اللہ عَزَّوَجَلَّ !ہم سب کے رزق میں ،کاروبارمیں،اولاد میں، گھر بار میں خیروبرکتیں نازل فرما۔ ہر قسم کی بلاؤں ، پریشانیوں ، مصیبتوں،آزمائشوں،جادو ٹُونوں سے ہم سب کو ہمارے گھر بار کو محفوظ فرما۔ اپنا فضل و کرم ہم سب کے شاملِ حال فرما۔تمام عالمِ اسلام کی خیر فرما ۔اسلام کا بول بالا کر اور دشمنانِ اسلام کا منہ کالا کر۔ امیرِاہلسنّت ، مرکزی مجلسِ شوریٰ اور دعوتِ اسلامی کے تمام مبلغین و مبلغات کی حفاظت فرما۔ہماری تمام دعائیں خاکِ مدینہ کے صدقے قبول فرما۔

کہتے رہتے ہیں دُعا کے واسطے بندے تیرے

کر دے پوری آرزو ہر بے کس و مجبور کی

جب دمِ واپسی ہو یا اللہ !...آنکھوں کے سامنے ہو جلوۂ مصطفےٰاور لب پہ ہو: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ مُحَمَّدٌرَّسُوْلُ اللّٰہ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَآلِہٖ وَسَلَّم

نمازِ اِشراق و چاشت

 ( دُعا کے بعدیُوں اعلان کیجئے )

     الله  عَزَّ وَجَلَّ کی رضاپانے اور ثواب کمانے کے لئے مدنی انعام نمبر 19 کے دو جُز، اِشراق وچاشت کے نفل ادا کرنے کی سعادت حاصل کریں گے۔ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ

 ( اب اشراق و چاشت کی ایک ایک فضیلت بھی بیان فرمائیں )

فضیلتِ نمازِ اشراق

    حضرتِ سیِّدُنا اَنَس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُسے روایت ہے کہ نبیٔ کریم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم  نے ارشادفرمایا:جو فجر کی نمازجماعت سے پڑھ کر بیٹھا ذکرِ خدا کرتا رہا، یہاں تک کہ آفتاب بلند ہوگیا پھر دو رکعتیں پڑھیں تو  اُسے پورے حج اور عمرہ کا ثواب ملے گا۔ ([1])

فضیلتِ نمازِ چاشت

   حضرتِ سیِّدُنا اَبُوْذَر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم  صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: تمہارے ہر جوڑپر صدقہ ہے اور ہر تسبیح یعنی سُبْحَانَ اللّٰہ کہناصدقہ ہے اور ہر تحمید یعنی اَلْحَمْدُ لِلّٰہ کہنا صدقہ ہے اور ہر تہلیل یعنی لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ کہناصدقہ ہے اور ہر تکبیریعنی اَللّٰہُ اَکْبَر کہنا صدقہ ہے اور اچھی بات کا حکم دینا صدقہ ہے اور بری بات سے روکنا صدقہ ہے اور چاشت کی دو رکعتیں ان سب کو کفایت کرتی ہیں۔ ([2])   

   حضرتِ سیِّدُنا ابو بُرَیْدَہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ میں نے نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو فرماتے ہوئے سنا،آدمی کے تین سو ساٹھ (360)  جوڑ ہوتے ہیں، اسے ہر جو ڑ کا صدقہ ادا کرنا لازم ہے ۔ صحابۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَان نے عرض کی:اس کی طاقت کون رکھ سکتا ہے ؟ فرمایا:مسجد میں پڑی ہوئی رینٹھ کودفن کر دینا اور راستے سے تکلیف دہ چیز کو ہٹا دینا صدقہ ہے ،اگر تم اس پر قدرت نہ رکھو تو چاشت کی دو رکعتیں تمہاری طر ف سے کفایت کریں گی ۔ ([3])

        حضرتِ سیِّدُنا ابوہریرہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں کہ رسولِ کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے مجھے تین چیزوں کی وصیت فرمائی ، لہٰذامیں انہیں ہرگز نہیں



[1]     ترمذی،  کتاب السفر، باب ماذکر مما یستحب من الجلوس...الخ ،  ۲/۱۰۰،  حدیث: ۵۸۶

2     مسلم ،  کتاب صلوة  المسافرین ...الخ ، باب استحبا ب...الخ  ، ص ۳۶۳،  حدیث: ۸۲۰۱

1     مسند احمد،  حدیث بریدہ الاسلمی ، ۹/۲۰، حدیث: ۲۳۰۵۹



Total Pages: 43

Go To