Book Name:Subh e Baharan

کرم ہو گا ۔  پہلے اسلامی بھائی کا شیطانی وسوسوں پر مبنی غیر ذِمّہ دارانہ اعتراض اگر چِہ قدموں کو مُتَزَلزَل کر کے ،  بوریت دلا کر اجتِماع مِیلاد سے محروم کر کے واپَس گھر پہنچانے والا تھا مگر دوسرے اسلامی بھائی کا جواب صد کروڑ مرحبا! کہ وہ نفسِ لَوّامہ کو جگانے والااور شیطان کو بھگانے والا تھا۔  چُنانچِہ وہ جوابِ بِالصّواب تاثیر کاتیر بن کر میرے جگر میں پیوست ہو گیا میں نے ہمّت کی،  قدم اُٹھائے اور اجتِماع مِیلاد کے وَسط میں جا پہنچا اور عاشِقانِ رسول کے اندر جم کر بیٹھ گیا اور نعتوں کے پُرکیف نغموں میں کھو گیا ۔  صُبحِ صادِق کا سہاناوَقت قریب آیا،  تمام عاشِقانِ رسول صُبحِ بہاراں کے اِستِقبال کیلئے کھڑے ہو گئے،  اجتِماع پر ایک وَجدسا طاری تھا،  ہر طرف مرحبا کی دھومیں مچی تھیں ،  شاہِ خیرالانام صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی بارگاہ ِ بے کس پناہ میں دُرُود و سلام کے گلدستے پیش کئے جا رہے تھے،  عاشقانِ رسول کی آنکھوں سے سَیلِ اشک رواں تھے،  ہر طرف سے آہوں اور سسکیوں کی آوازیں آرہی تھیں ،  مجھ پر بھی عجیب کیف و مستی طاری تھی،  میری گنہگار آنکھوں نے ہر طرف ہلکی ہلکی بُندکیاں اور خوشگوارپُھوار برستی دیکھی ،  گویا سارے کا سارا اجتِماع بارانِ رَحمت میں نہا رہا تھا،  میں سر کی آنکھیں بند کئے پیارے پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکےحسین تصوُّر میں گُم دُرُود و سلام پڑھنے میں مشغول تھا۔  یکایک دل کی آنکھیں کُھل گئیں ،  سچ کہتا ہوں ،  جس کا جشنِ ولادت منایا جا رہا تھا اُسی شَہَنْشاہِ اُمَم،  نُورِ مُجَسَّم،   نبِیِّ محترم ، رسولِ مُحتَشَم ، حبیبِ ربِّ اکرم،  شاہِ بنی آدم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے مجھ سراپا گنہگار و سزاوارِ ذَم پر کر م بالائے کرم فرمادیا،  اورمجھے اپنا جلوہ ٔزَیبادکھا دیا، اَلْحَمْدُ للہ عَزَّ وَجَلَّدیدارِ مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے کلیجہ ٹھنڈا ہو گیا۔  واقِعی اُس اسلامی بھائی نے بِالکل سچ کہا تھا کہ دعوتِ اسلامی کا اجتِماعِ میلاد تو حسبِ سابِق سوزو رقّت والا ہی ہے مگر ہماری اپنی کیفیت بدل گئی ہے اگر ہم مُتوجِّہ رہیں تو آج بھی اُن کے جلوے عام ہیں  ؎  

آنکھ والا ترے جَوبن کا تماشہ دیکھے       دیدۂ کَور کو کیا آئے نظر کیا دیکھے

کوئی آیاپا کے چلا گیا ، کوئی عمر بھر بھی نہ پا سکا

یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے یہ بڑے نصیب کی بات ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 ’’مرحبا یا مصطَفٰے‘‘     کے بارہ حُرُوف کی نسبت سے جشنِِ ولادت کے12 مَدَنی پھول

]1[ : جشنِ ولادت کی خوشی میں مسجِدوں ،  گھروں ،  دکانوں اورسُواریوں پرنیزاپنے مَحَلّے میں بھی سبز سبز پرچم لہرایئے،  خوب چَراغاں کیجئے ،  اپنے گھرپر کم ازکم بارہ بَلْب تو ضَرور روشن کیجئے۔  ربیع النور شریف کی بارھویں رات حُصُولِ ثواب کی نیّت سے اجتِماعِ ذِکر و نعت میں شرکت کیجئے اور صُبحِ صادِق کے وَقت سبز سبز پرچم اُٹھائے دُرُودوسلام پڑھتے ہوئے اشکبار آنکھو ں کے ساتھصبحِ بہاراں  کا اِستِقبال کیجئے۔  12ربیعُ النُّور شریف کے دن ہو سکے تو روزہ رکھ لیجئے کہ ہمارے پیارے آقا مکّی مَدَنی مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  پیر شریف کو روزہ رکھ کر اپنا یومِ وِلادت مناتے تھے جیسا کہ حضرتِ سیِّدُنا اَبُو قَتادہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُفرماتے ہیں :  بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں پِیر کے روزے کے بارے میں دریافت کیاگیا توارشاد فرمایا: ’’ اِسی دن میری وِلادت ہوئی اور اسی روز مجھ پر وَحی نازِ ل ہوئی۔ ‘‘  (صَحیح مُسلِمص۵۹۱ حدیث۱۹۸۔  (۱۱۶۲) ) شارِح صحیح بُخاری حضرت سیِّدُنا امام قسطلانی رَحْمَۃُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :  ’’اور ولادت باسعادت کے ایّام میں محفلِ میلاد کرنے کے خواص سے یہ اَمْرمُجرَّب (یعنی تجرِبہ شدہ)  ہے کہ اس سال اَمْن و اَمان رہتا ہے اور ہر مُراد پانے میں جلدی آنے والی خوشخبری ہوتی ہے۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ  اُس شخص پر رَحمت نازِل فرمائے جس نے ماہِ ولادت کی راتوں کو عید بنا لیا۔ ‘‘  (مواہِبُ لَّدُنیَّہ ج۱ ص۱۴۸ )

]2[ : کعبۃُ اللہ شریفکے نقشے  (MODEL) میں مَعَاذَ اللہ کہیں کہیں گُڑیوں کا طواف دکھایا جاتا ہے،  یہ گناہ ہے۔ زمانۂ جاہلیَّت میں کعبۃُُ اللہ شریفمیں تین سو ساٹھ بُت رکھے ہوئے تھے ،  ہمارے پیارے اور میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے فتحِ مکّہ کے بعد



Total Pages: 16

Go To