Book Name:Subh e Baharan

اللہ عَزَّوَجَلَّ   کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔  اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وسلَّم

آمدِ سرکار سے ظلمت ہوئی کافور ہے

کیا زمیں ،  کیا آسماں ،  ہر سَمْت چھایا نور ہے

 (وسائلِ بخشش ص۴۷۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                         صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

دعوتِ اسلامی اور جشنِ ولادت

          اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّتبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک،  دعوتِ اسلامی کا جشنِ ولادت منانے کا اپنا ایک مُنْفَرِد  (مُن۔ فَ۔ رِد)  انداز ہے،  دنیا کے بے شمار مُمالِک میں دعوتِ اسلامی کے زیرِ اِہتِمام عیدِ میلادُ النّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شب کو عظیمُ الشّان اجتِماعِ مِیلاد کا اِنعِقاد ہوتا ہے۔  اور غالِباً دنیا کا سب سے بڑا اِجتِماعِ میلاد بابُ المدینہ کراچی میں ہوتا ہے۔  اِس کی بَرَکتوں کے کیا کہنے ! اس میں شرکتکرنے والے نہ جانے کتنے ہی خوش نصیبوں کی زندگیوں میں مَدَنی انقِلاب برپا ہو جاتا ہے۔  چُنانچِہ اِس ضمن میں چار مَدَنی بہاریں ملا حَظہ فرمایئے :

 {۱} گناہ کا علاج مل گیا

          ایک عاشقِ رسول کا کچھ اس طرح بیان ہے: شبِ عید میلاد النّبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  (۱۴۲۶ھ) کے اجتِماعِ میلاد مُنْعَقِدہ (مُن۔ عَ۔ قِدہ)  ککری گراؤنڈ بابُ المدینہ کراچی میں میرے ایک شناسا بے نَمازی اور ماڈَرن نوجوان نے شرکت کی،  صُبحِ بہاراں کے اِستِقبال کے وَقت دُرُود و سلام کی گونج اور مرحبا یا مصطَفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی دھوم کے دَوران اُن کے دل کی دنیا زیر و زبر ہو گئی،  نیکیوں کی طرف رغبت اور گناہوں سے نفرت کا جذبہ ملا،  اُنہوں نے ہاتھوں ہاتھ نَماز کی پابندی اور داڑھی سجانے کی نیّت کی اور واقِعی وہ نَمازی اور بارِ یش ہو گئے۔  نیز ان کے اندرایک ’’ بُرائی‘‘ کی عادت تھی جس کا ذِکر کرنا مناسب نہیں ،  اجتِماعِ میلاد کی بَرکت سے اَلْحَمْدُ للہ عَزَّ وَجَلَّوہ بھی دُور ہوگئی۔  دوسرے الفاظ میں یوں کہئے کہ اجتِماعِ میلاد میں شرکت کی سعادت سے مریضِ عِصیاں کو گناہوں کا علاج مل گیا!

مانگ لو مانگ لو اُن کا غم مانگ لو             چشمِ رَحمت نگاہِ کرم مانگ لو

مَعصِیت کی دوا لاجَرَم مانگ لو               مانگنے کا مزا آج کی رات ہے

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

 {۲} دل کا میل دھو دیا

          نارتھ کراچی کے ایک اسلامی بھائی کا تحریری بیان اپنے انداز میں عرض کرتا ہوں :  ماہِ ربیعُ النّور شریف کے ابتدائی دنوں میں بعض عاشقانِ رسول نے مجھ گناہوں میں ڈوبے ہوئے بے عمل انسان پر  اِنفرادی کوشِش کرتے ہوئے ککری گراؤنڈ بابُ المدینہ کراچی میں مُنعَقِد ہونے والے دعوتِ اسلامی کے اِجتِماعِ مِیلاد میں شرکت کی دعوت دی۔  میری خوش قسمتی کہ میں نے ہامی بھر لی ،  جب ۱۲ ویں شب آئی تومیں حسبِ وعدہ اِجتِماعِ میلادمیں جانے کیلئے مَدَنی قافِلے والوں کے ساتھ بس میں سُوار ہو گیا ۔   ایک عاشِقِ رسول نے ایک عَدَد چم چم نامی مٹھائی میں سے تقریباً تیس اسلامی بھائیوں میں توڑ توڑ کرٹکڑیاں تقسیم کیں ،  تقسیم کرنے والے کامَحَبَّت بھرا انداز میرے دل کو بَہُت بھایا۔ آخِر کار ہماجتِماعِ میلادمیں پَہنچ گئے۔  میں نے زندگی میں پہلی بارہی ایسے روح پرور مناظِر دیکھے تھے،  نعتوں ،  سلاموں اور مرحبا یا مصطَفٰےصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے پُر کیف نعروں نے دل کامَیل دھو دیا۔ اَلْحَمْدُ للہ عَزَّ وَجَلَّ  میں ہاتھوں ہاتھ دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول سے وابَستہ ہو گیا ۔  اَلْحَمْدُ للہ عَزَّ وَجَلَّ اب چہرے پر



Total Pages: 16

Go To