Book Name:Subh e Baharan

(وسائلِ بخشش ص۴۷۷)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جشنِ ولادت منانے کا ثواب

          شیخ عبدُالحقّ مُحَدِّ ث دِہلوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی فرماتے ہیں :  سرکار مَدینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی ولادت کی رات خوشی منانے والوں کی جَزاء یہ ہے کہ اللہ تَعَالٰی انہیں فضل و کرم سے جَنّاتُ النَّعِیم میں داخِل فرمائے گا۔  مسلمان ہمیشہ سے محفِلِ میلاد مُنعَقِد کرتے آئے ہیں اور وِلادت کی خوشی میں دعوتیں دیتے ،  کھانے پکواتے اور خوب صَدَقہ وخیرات دیتے آئے ہیں۔  خوب خوشی کا اِظہار کرتے اور دل کھول کر خَرچ کرتے ہیں نیز آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی وِلادتِ با سعادت کے ذِکْر کا اِہتِمام کر تے ہیں اور اپنے مکانوں کوسَجاتے ہیں اور اِن تمام اَفعالِ حَسَنہ کی بَرَکت سے ان لوگوں پر اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رَحمتوں کا نُزُول ہوتا ہے۔  (مَا ثَبَتَ مِنَ السُّنَّۃ ص۱۰۲ ملتقطًا)

یہودیوں کو ایمان نصیب ہو گیا

         حضرتِ سیِّدُنا عبد الواحِد بن اسمٰعیل علیہ رحمۃ اللہ الجمیل فرماتے ہیں :  مصر میں ایک عاشِقِ رسول  رہا کرتا تھاجو ربیعُ النُّور شریف میںاللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا خوب جشنِ ولادت منایا کرتا تھا۔  ایک بار ربیعُ النُّور شریف کے مہینے میں ان کی پڑوسن یہودَن نے اپنے شوہر سے پوچھا:  ہمارا مسلمان پڑوسی اس مہینے میں ہر سال خُصُوصی دعوت وغیرہ کا اہتمام کیوں کرتا ہے؟  یہودی نے بتایا کہ اس مہینے میں اِس کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت ہوئی تھی لہٰذا یہ اُن کا جشنِ ولادت مناتا ہے۔   اور مسلمان اس مہینے کی بَہُت تعظیم کیا کرتے ہیں۔  اس پر یہودَن نے کہا:  ’’واہ! مسلمانوں کا طریقہ بھی کتنا پیارا ہے کہ یہ لوگ اپنے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا ہرسال جشنِ ولادت مناتے ہیں ۔ ‘‘ وہ یہودَن رات جب سوئی تو اُس کی سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اٹھی ،  خواب میں کیا دیکھتی ہے کہ ایک نہایت ہی حسین و جمیل بُزرگ تشریف لائے ہیں ،  اِرد گِر د لوگوں کا ہُجوم ہے۔  اِس نے آگے بڑھ کر ایک شَخْص سے دریافت کیا:  یہ بُزرگ کون ہیں ؟  اُس نے بتایا: ’’یہ نبیِّ آخِرالزَّمان ، رَحمتِ عالمیان ، محمّدٌ رَّسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  ہیں۔  آپ اِس لئے تشریف لائے ہیں تا کہ تمہارے مسلمان پڑوسی کو جشنِ وِلادت منانے پر خیر و بَرَکت عطا فرمائیں اور ان سے ملاقات فرمائیں نیز اس پر اظہار ِ مسرَّت کریں۔ ‘‘ یہودَن نے پھر پوچھا:  کیا آپ کے نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ میری بات کا جواب دیں گے؟  اُس نے جواب دیا:  جی ہاں ۔  اس پر یہودَن نے سرکارِ عالی وقار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو پکارا۔  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے جواب میں لبَّیْک  فرمایا۔  وہ بے حد مُتَأَ ثِّر ہوئی اور کہنے لگی :  میں تو مسلمان نہیں ہوں ،  آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَنے پھر بھی مجھے لبَّیْک کہہ کر جواب دیا ۔ سرکارِ مدینہ ،  قرارِ قلب و سینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:  اللہ عَزَّوَجَلَّکی طرف سے مجھے بتایا گیا ہے کہ تُو مسلمان ہونے والی ہے۔  اس پر وہ بے ساختہ پکار اُٹھی: بے شک آپ نبیِّ کریم ،  صاحِبِ خُلْقِ عظیم ہیں ، جو آپکی نافرمانی کرے وہ ہلاک ہوا اور جو آپکی قَدر و منز لت نہ جانے وہ خائِب و خاسِر (یعنی نقصان اُٹھانے والا)  ہوا ۔ پھر اُس نے کلِمۂ شہاد ت پڑھا۔  

           اب اس کی آنکھ کُھل گئی اور وہ سچّے دل سے مسلمان ہو گئی اور اُس نے یہ طے کر لیا کہ صبح اُٹھ کر ساری پُونجی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے پیارے محبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے جشنِ ولادت کی خوشی میں لُٹا دوں گی اور خوب نیاز کروں گی ۔  جب صبح اٹھی تو اس کا شوہر دعوتِ طعام کی تیّاری میں مصروف تھا۔  اس نے حیرت سے پوچھا:  آپ یہ کیا کر ر ہے ہیں ؟  اس نے کہا:  اس بات کی خوشی میں دعوت کا اہتمام کر رہا ہوں کہ تم مسلمان ہو چکی ہو۔  پوچھا :  آپ کوکیسے معلوم ہوا؟ اس نے بتایا:  میں بھی رات حُضُور ِ اکرم ، نورِ مجسّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دَستِ حق پر ست پر ایمان لا چکا ہوں۔   (تذکِرۃُ الْواعِظِین ص۵۹۸ ملخصًا)

 



Total Pages: 16

Go To