Book Name:Subh e Baharan

جشنِ ولادت کی دُھوم مچائیے

          میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دُھوم دَھام سے عیدِ میلاد منایئے کہ جب ابولَہَب جیسے کافِر کو بھی ولادت کی خوشی کرنے پر فائدہ پہنچاتو ہم تواَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّمسلمان ہیں۔  ابو لَہَب نےاَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّ کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی نیّت سے نہیں بلکہ صرف اپنے بھتیجے کی ولادت کی خوشی منائی پھر بھی اُس کوبدلہ ملا تو ہم اگراَللّٰہ عَزَّ وَجَلَّکی رضا کیلئے اپنے آقا و مولیٰمحمّد رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کی خوشی منائیں گے تو کیونکر محروم رہیں گے۔      ؎

گھر آمِنہ کے سیِّدِ اَبرار آگیا

خوشیاں مناؤ غمزدو غَمخوار آ گیا

 (وسائلِ بخشش ص۴۷۴)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مِیلاد منانے والوں سے سرکا ر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَخوش ہوتے  ہیں

              ایک عالم صاحِبرَحْمَۃُ اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں : اَلْحَمْدُ لِلّٰہ مجھے خواب میں تاجدارِ ِرِسالت ،  شَہنشَاہ ِ نُبُوَّت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی زِیارت ہوئی،  میں نے عرض کی:  یا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی علیہ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! کیا آپ کو مسلمانوں کا ہر سال آپ کی وِلادتِ مبارَک کی خوشیاں مَنانا پسند آتا ہے؟  ارشاد فرمایا:  ’’جو ہم سے خوش ہوتا ہے ہم بھی اُس سے خوش ہوتے ہیں۔  ‘‘  (تذکِرۃُ الواعظِین ص۶۰۰ )

وِلادت کی خوشی میں جَھنڈے

            سَیِّدَتُنا آمِنہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَافرماتی ہیں :  میں نے دیکھا کہ تین جھنڈے نَصب کئے گئے۔  ایک مشرِق میں ، دوسرا مغرِب میں ،  تیسرا کعبے کی چھت پر اور حُضُورِاکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی وِلادت ہوگئی۔    (خَصائِصِ کُبریٰ ج اوّل ص۸۲ مختصراً)

روحُ الامیں نے گاڑا کعبے کی چھت پہ جھنڈا

تا عَرش اُڑا پَھرَیرا صبحِ شبِ ولادت

 (ذوقِ نعت ص۶۷)

جھنڈے کے ساتھ جُلوس

    رَحمتِ عالَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے جب سُوئے مدینہ ہِجرت فرمائی اور مدینۂ پاک زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماً کے قریب ’’مَوضَعِ غَمِیم ‘‘میں پہنچے تو بُریدَہ اَسلَمِی،  قبیلہ بنی سَہم  کے ستَّر سُوار لے کر سرکارِ نامدار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مَعَاذَ اللہ عَزَّوَجَلَّ گرِفتار کرنے آئے،  مگر سرکارِ عالی وقارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکی نگاہِ فیض آثار سے خود ہی مَحَبَّتِ شاہِ اَبرارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَمیں گرِفتار ہوکر پورے قافِلے سَمیت مُشرَّف بہ اسلام ہو گئے ۔  اب عرض کی: یارسول اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مدینۂ منوَّرہ زَادَھَا اللہُ شَرَفاً وَّ تَعْظِیْماًمیں آپ کا داخِلہ پرچم کے ساتھ ہونا چاہئے۔  چُنانچِہ اپنا عِمامہ سر سے اُتار کرنَیز ے پر باندھ لیا اور سرکارِ مدینہ ،  راحتِ قلب وسینہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے آگے آگے روانہ ہوئے۔   (وَفا ءُ الْوَفا جلد اوّل ص۲۴۳)

محبوبِ ربِّ اکبر تشریف لارہے ہیں              آج انبیا   کے سَرور  تشریف لا رہے ہیں

کیوں ہے فَضا مُعطَّر! کیوں روشنی ہے گھر گھر    اچّھا! حبیبِ داوَر تشریف لا رہے ہیں

عیدوں کی عید آئی رَحمت خدا کی لائی             جُود و سخا کے پیکر تشریف لا رہے ہیں

حُوریں لگیں ترانے نعتوں کے گُنگُنانے           حُور و مَلک کے افسر تشریف لا رہے ہیں

جو شاہِ بحروبَر ہیں نبیوں کے تاجور ہیں              وہ آمِنہ ترے گھر تشریف لا رہے ہیں

عطّارؔ اب خوشی سے پھولے نہیں سماتے

دنیا میں ان کے دلبر تشریف لا رہے ہیں

 (وسائلِ بخشش ص۴۴۵)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!          صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

جشنِ ولادت منانے والا خاندان

 



Total Pages: 16

Go To