Book Name:Subh e Baharan

            تاجدارِ رسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَجہاں میں فضل و رَحمت بن کر تشریف لائے اور یقینا اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی رَحْمت کے نُزُول کا دن خوشی و مسرَّت کا دن ہوتا ہے۔ چُنانچِہاللہ تبارَک وَتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

قُلْ بِفَضْلِ اللّٰهِ وَ بِرَحْمَتِهٖ فَبِذٰلِكَ فَلْیَفْرَحُوْاؕ-هُوَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ (۵۸)                (پ۱۱،  یونس: ۵۸)

ترجَمۂ کنزالایمان:  تم فرماؤ اللہ  (عَزَّ وَجَلَّ) ہی کے فَضل اور اُسی کی رحمت اور اِسی پر چاہئے کہ خوشی کریں۔ وہ ان کے سب دَھن دولت سے بہتر ہے۔

            اللہُ اکبر! رَحمت ِخداوندی پر خوشی منانے کا قراٰنِ کریم حُکم دے رہا ہے اور کیا ہمارے پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَسے بڑھ کر بھی کوئی اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رَحمت ہے؟ دیکھئے مقدَّس قراٰن میں صاف صاف اِعلان ہے:

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا رَحْمَةً لِّلْعٰلَمِیْنَ (۱۰۷)   (پ۱۷،  الانبیاء: ۱۰۷)

ترجَمۂ کنزالایمان:  اور ہم نے تمھیں نہ بھیجا مگر رَحمت سارے جہان کیلئے ۔

شبِ قَدر سے بھی افضل رات

             حضرتِ سَیِّدُناشیخ عبد الحق مُحَدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :   ’’بیشک سَروَرِ عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کی شبِ ولادت شبِ قَدْر سے بھی افضل ہے کیونکہ شبِ ولادت سرکارِ مَدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کے اس دنیا میں جلوہ گر ہونے کی رات ہے جبکہ لَیْلَۃُ الْقَدْر سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو عطا کردہ شب ہے اور جو رات ظُہُورِ ذاتِ سرورِ کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وجہ سے مُشَرَّف ہو وہ اُس رات سے زِیادہ شَرَف و عزّت والی ہے جو جو ملائکہ کے نُزُول کی بِناء پر مشرَّف ہے۔   (مَا ثَبَتَ بِا لسُّنّۃص۱۰۰ )

عیدوں کی عید

          اَلْحَمْدُلِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ۱۲ربیعُ النُّور مسلمانوں کے لئے عیدوں کی بھی عید ہے یقینا حُضُورِ انورصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جہاں میں شاہِ بحر وبَر بن کر جلوہ گر نہ ہوتے تو کوئی عید،  عید ہوتی، نہ کوئی شب،  شبِ بَرَاء َت ۔ بلکہ کون و مکان کی تمام تر رونق و شان اس جانِ جہان ،  رَحمتِ عالمیان،  سیّاحِ لامکان،  محبوبِ رَحمٰن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے قدموں کی دُھول کا صَدقہ ہے۔     ؎

وہ جو نہ تھے تو کچھ نہ تھا وہ جو نہ ہوں تو کچھ نہ ہو

جان ہیں وہ جَہان کی جان ہے تو جہان ہے

 (حدائق بخشش ص۱۲۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ابولَہَب اور مِیلاد

          جب ابو لَہَب مر گیا تو اُس کے بعض گھروالوں نے اُسے خواب میں بُرے حال میں دیکھا۔  پوچھا : کیامِلا ؟  بولا: تم سے جُدا ہوکر مجھے کوئی خیر نصیب نہ ہوئی ۔ پھر اپنے انگوٹھے کے نیچے موجود سوراخ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنے لگا: سوائے اس کے کہ  اس میں سے مجھے پانی پلادیا جاتا ہے کیونکہ  میں نےثُوَیْبَہ لَونڈی کو آزاد کیا تھا۔   ( مصنف عبدالرزاق ج۹ص۹ حدیث۱۶۶۶۱وعمدۃ القاری ج۱۴ص۴۴تحت الحدیث۱۰۱ ۵) حضرتِ علّامہ بدرُ الدّین عینیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں : اس اشارے کا مطلب یہ ہے کہ مجھے تھوڑا سا پانی دیا جاتا ہے۔   (عمدۃ القاری ایضًا)

مسلمان اور میلاد

         اِس روایت کے تَحْت سَیِّدُنا شیخ عبدالحق مُحدِّث دِہلویعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں :  اس واقِعہ میں میلاد شریف والوں کیلئے بڑی دلیل ہے جو تاجد ار رِسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی شبِ وِلادت میں خوشیاں مناتے اور مال خرچ کرتے ہیں ، یعنی ابولَہَب جو کہ کافِر تھا جب وہ تاجدارِ نُبُوَّتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ولادت کی خبر پاکر خوش ہونے اور اپنی لَونڈی  (ثُوَیْبَہ)  کو دودھ پلانے کی خاطِر آزاد کرنے پر بدلہ دیا گیا۔ تو اس مسلمان کا کیا حال ہوگا جو محبَّت اور خوشی سے بھرا ہوا ہے اور مال خرچ کررَہا ہے۔ لیکن یہ ضَروری ہے کہ محفلِ میلاد شریف گانے باجوں سے اور آلاتِ موسیقی سے پاک ہو۔  (مدارِجُ النُّبُوَّت ج۲ص۱۹)

 



Total Pages: 16

Go To