Book Name:Faizan-e-Sultan Sakhi Sarwar رحمۃاللہ تعالی علیہ

حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی ذاتِ بابرکت تبلیغِ اسلام اور اصلاحِ خلق کےلئے وقف تھی اسی لئے کسی ایک  مقام پر مستقل قیام  نہیں  فرمایا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ جہاں بھی جاتے کثیر آبادی ان کی عقیدت مند بن جاتی اور فُیوض وبرکات سے مُسْتفیض ہوتی۔ آپ رَحْمَۃُ ا  للہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے خصوصیت کے ساتھ مرکزالاولیا  (لاہور) ، مدینۃُ الاولیا  (ملتان) ،  دھونکل،  سوہدرہ،  ایمن آباد (ضلع گوجرانوالہ)  اور ڈیرہ غازی خان میں قیام فرمایا۔  ([1])  

شاہ کوٹ  واپسی

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو وطن سے جد اہوئے کئی سال  بیت چکے تھے لہٰذا فطری طور پر وطن کی محبت دامن گیر ہوئی تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے رختِ سفر باندھا اور شاہ کوٹ تشریف لے آئے ، مگر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی تشریف آوری بعض رشتہ داروںکو ایک آنکھ نہ بھائی اور پرانی دشمنی لوٹ آئی،   ہونا تو چاہیے تھا کہ ولیٔ  کامل کی آمد پر اپنی آنکھیں بچھاتے مگر آنکھیں دِکھانے لگے ، ہاتھ چومتے مگر ہاتھ اُٹھانے لگے،  زبان سے تعریف و توصیف کے پھول لٹاتے مگر زہر میں بجھے طعن و تشنیع کے تیر چلانے لگے،  ہمدرد و غمگسار بن کراپنی  آخرت سنوارتے مگر حسد و جلن کی پٹی اپنی آنکھوں سے نہ اتارسکے، ولیٔ  کامل کی عظمتوں کا اعتراف کرکے اُخروی درجات کی بلندی چاہتے مگر دنیا کی محبت غالب آئی اوراُخروی عذاب کے امیدوار ہوئے، ایک طرف  تو پورا خطہ  حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَرکے   حسنِ اخلاق اور کرامات سے متاثر ہوکر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کاعقیدت مند ہوچکا تھا ، ہر ایک کے نزدیک آپ کی شخصیت محترم اور قابلِ تعظیم  تھی مگر دوسری جانب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےاپنو ں نے ہی ستانا شروع کردیا تھا۔ جب بعض رشتہ داروں کی عداوت حد سے بڑھنے لگی توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے مستقل ہجرت کا ارادہ فرمالیا اور اپنی تمام زمین و جائداد ان کے حوالے کرکے  ڈیرہ غازی خان میں ”نگاہہ “کی  جانب تشریف لے گئےاور باقی زندگی مخلوقِ خدا کی خدمت اور رُشد وہدایت میں  گزاردی ۔ ([2])

حضرت سخی سرور کی شہادت

آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ اپنا سارا مال واسباب اور جائداد خالہ زاد بھائیوں کے سپرد کرکے شاہ کوٹ سے ہجرت فرماچکے تھے مگران  کا خیال تھا کہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  ان کے خلاف ایک مضبوط جماعت تیار کرکے واپس آئیں گے اوراپنے اوپرہونے والے  ظلم و زیادتی  کا بدلہ لیں گے ۔چنانچہ بدباطن اور سفاک خالہ زادبھائیوں نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو شہید کرنے کا  انتہائی گھناؤنا منصوبہ بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لئے لوگوں کو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکے خلاف اُ کساکرایک مضبوط جماعت تیار کرلی ۔ ([3]) اور۲۲ رجبُ المُرَجّب ۵۷۷ ھ مطابق1181ءکو انتہائی سخت حملہ کرکے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کو شدید زخمی کردیاآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش فرمالیا۔حاسدین  نے اسی پر بس نہ کی بلکہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی زوجہ اوردو بیٹوں  کو بھی شہید کردیا۔بوقتِ شہادت آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عمر مبارک ۵۳ سال تھی ۔آپ کا مزارمبارک ڈیرہ غازی خان (جنوبی پنجاب )  سے مغرب کی جانب ۲۲میل دورمقام بستی سخی سرورکوہِ سلیمان کے پہاڑی سلسلے پر واقع ہے۔مشہور مغل بادشاہ ظہیرُ الدین بابر نے آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے مزار مبارک   کی تزیین وآرائش پر لاکھوں روپیہ خرچ کیا اور اسے تعمیر کرواکر اپنے لئے خوش بختی کے دروازے کھولے۔

ایک شخص قندھار سے ملتان جارہاتھا، راستے میں پاؤں پھسلنے سے اُس کا اونٹ لنگڑا ہوگیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا مزار مبارک  قریب تھا لہٰذا  وہ  اپنی التجا لے کر مزار مبارک پر حاضر ہوا ، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے اس کی یہ مشکل آسان فرمادی ۔ آپ کا مزار آج بھی  مرجعِ خلائق ہے،  لوگ دور دراز سے سفر کرکے مزارِ اقدس پر حاضر ہوکر اپنی خالی جھولیاں من مانگی مرادوں سے بھر تے ہیں۔ ([4])  

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مجلس مزاراتِ اولیا

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دعوتِ اسلامی دنیا بھر میں نیکی کی دعوت عام کرنے، سنتوں کی خوشبو پھیلانے، عِلْمِ دین کی شمعیں جلانے اور لوگوں کے دلوں میں اولیاءُاللہ کی محبت و عقیدت بڑھانے میں مصروف ہے۔اَلْحَمْدُ لِلّٰہ عَزَّ وَجَلَّ (تادمِ تحریر)  دنیا کے کم وبیش 200ممالک میں اس کا مَدَنی پیغام پہنچ چکا ہے۔ساری دنیا میں مَدَنی کام کومنظم کرنے کےلئے تقریباً 103سے زیادہ مجالس قائم ہیں، انہی میں سے ایک’’مجلسِ مزاراتِ اولیا‘‘بھی ہے جودیگر مدنی کاموںکے ساتھ ساتھ درج ذیل خدمات انجام دے رہی ہے۔

1- یہ مجلس اولیائےکرامرَحِمَہُمُاللّٰہ ُالسَّلَامکےراستےپرچلتےہوئےمزاراتِ مبارکہ پرحاضر ہونے والے اسلامی بھائیوں میں مَدَنی کاموں کی دُھومیں مچانے کیلئے کوشاں ہے۔

2- یہ مجلس حتَّی المَقدُورصاحبِ مزارکے عُرس کے موقع پراِجتماعِ ذکرونعت کرتی ہے۔

3- مزارات سے مُلْحِقہ مساجِد میں عاشِقانِ رسول کے مَدَنی قافلے سفرکرواتی اوربالخصوص عُرس کے دنوں میں مزارشریف کے اِحاطے  میں سنّتوں بھرے مَدَنی حلقے لگاتی ہے جن میں وُضو، غسل، تیمم، نمازاور ایصالِ ثواب کا طریقہ،  مزارات پر حاضری کے آداب اوراس کا درست طریقہ  نیز سرکارِ مدینہ صَلَّی اللّٰہ تعالٰی علیہ واٰلہٖ وسلَّم  کی سنّتیں سکھائی جاتی ہیں۔

4- عاشِقانِ رسول کو حسبِ موقع اچھی اچھی نیتوں مثلاًباجماعت نمازکی ادائیگی،  دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وارسنّتوں بھرے اجتماعات میں شرکت، درسِ فیضانِ سنت دینے یا سننے، صاحبِ مزار کے اِیصالِ ثواب کیلئے ہاتھوں ہاتھ مدنی قافلوں میں سفراورفکرِ مدینہ کے ذَرِیعے روزانہ مَدَنی انعامات کارسالہ پُرکرکے ہر مَدَنی یعنی قمری ماہ کی ابتِدائی دس تاریخوں کے اندراندراپنے ذِمہ دارکوجمع



[1]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص ۱۳۷وغیرہ

[2]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص ۶۰ ملخصاً

[3]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص۱۳۶

[4]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم، ص۳۵۳ملخصاً،خزینۃ الاصفیاء،ص۱۹۲



Total Pages: 8

Go To