Book Name:Faizan-e-Sultan Sakhi Sarwar رحمۃاللہ تعالی علیہ

([1])

 (2)  نمک سے شفا

ایک مرتبہ دہلی شہر میں ایسی وبا پھیلی کہ بہت سے لوگ اس کا شکار ہوکرمرنے لگے۔دہلی میں ایک شریف گھرانہ ایسا بھی تھا جو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  سےبے   انتہا  مَحَبَّت وعقیدت رکھتا تھا وہ بھی اس وبا کی زد میں آگیا ۔چنانچہ اس گھر کا سربراہ  سیکڑوں میل کا سفر طے کرنے کے بعد  حضرت  سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی بارگاہ میں حاضرہوا  اور اپنی پریشانی عرض کی۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اسے تھوڑا سا نمک دیا اور فرمایا: ” گھر کے نمک میں ملاکر  استعمال کرو۔“چنانچہ اس شخص  نےگھر جاکر  ایسا ہی کیا تو اللہعَزَّ  وَجَلَّ نےاس کے اہلِ خانہ کو شفا عطا فرمادی ۔  ([2])  

 (3)   لاعلاج مرض سے شفایابی

ایکدفعہ سوہدرہ کی حکومت کےایک افسر جن کا نام عمر بخش  تھا  سخت بیمار ہو گئے۔ان کے اہل خانہ نے علاج معالجے کی بہت کوششیں  کیں لیکن وہ شفا یاب نہ ہو سکے،  وہ لوگ حضرت سلطان سخی سرور رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور ان سے دعا کی اِلتماس کرنےلگے،  ابھی وہ بیماری اوراپنی پریشانی کا بتا ہی رہے تھےکہ حضرت سلطان سخی سرور رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  نے زمین سے تھوڑی سی مٹی اٹھا کر انہیں دی اورفرمایا : اس مٹی کی ایک خوراک مریض کو کھلادو!اہل خانہ نے وہ مٹی لے جاکر عمربخش کو کھلائی۔ مٹی کھانے کے بعد وہ حیرت انگیز طور پر فوراً  صحت یاب ہوگئے اور اسی دن سے کام کاج بھی شروع کردیئے ۔ ([3])  

 (4)  گُم شدہ بیٹا واپس مل گیا

دھونکل میں متعین حکومتی افسر’’جوندا‘‘حضرت سلطان سخی سرور رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں حاضر ہو کر عرض گذار ہوا: حضرت! میں نے اپنے بیٹے دھونکل کے نام پر اس علاقے کا نام رکھا ہے مگر میرا بیٹا چند دنوں سے لاپتہ ہے،  بہت تلاش کیا مگر کچھ پتا نہیں چل رہا،  دعا فرمائیں کہ میرا بیٹا واپس آجائے۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: وہ آج آجائے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا،  اس کا بیٹا اسی دن اپنے گھر لوٹ آیا۔ ([4])

 (5)  عصا کی برکت  سےپانی نکل آیا

ایکدن حضرت سلطان سخی سروررَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہدھونکل میں خلوت نشین ہو کر مصروفِ عبادت تھے، آس پاس وضو کے لئے پانی نہیں تھا،  چنانچہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنا عصا  زمین پر مارا تو وہاں  سے پانی کا چشمہ جاری ہوگیا ۔آپ نے لکڑی کا ایک کھونٹا زمین میں ٹھونک دیا،  کچھ  دنوں بعدوہ لکڑی  خودبخود سرسبز ہوگئی۔جہاں آپ نماز پڑھتے تھےوہاں لوگوں نے  مسجد تعمیر کر دی ۔ ([5])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

سوہدرہ میں قیام

واپسی پرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ شاہ کوٹ  کے بجائے سوہدرہ تشریف لے گئے جو مرکز الاولیا (لاہور) سےتقریباًساٹھ سترمیل کے فاصلے پروزیرآباد (ضلع گوجرانوالہ)  سے متصل  ہے۔یہاں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے دریائے چناب کے کنارےرہائش اختیار کی۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ دن رات عبادت و ریاضت میں مصروف رہتے، جو دعابارگاہ الٰہی میں کرتے وہ قبول ہوجاتی۔ چند ہی دن میں آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی بزرگی اورولایت کے چرچے عام ہوگئے،  شہرت اور مقبولیت کا یہ عالَم ہوگیا کہ لوگ دور دور سے آکرآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے گرد پروانہ وار جمع ہوجاتے ، جو حاجت مند درِ اقدس پر پہنچ جاتا دامنِ مراد بھر کر لے جاتا،  دکھ درد اور تکلیف کا  مارا آتا تو سکھ چین لے کر لوٹتا ،  پریشان حال آتا تو خوش باش ہوکرجاتا ،  آپ رَحْمَۃُ     اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہلوگوں کے مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی روحانی تربیت بھی فرماتے۔ لوگ  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی خدمت میں نذر و نیاز پیش کرتے تو آپ سب کچھ غریب ومستحق افراد میں تقسیم فرما دیتے ، کبھی ایسانہ ہوا  کہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اپنے لئے  بھی کچھ بچا کر رکھا ہو۔اسی وجہ سےلوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کو”لکھ داتا“ اور”سخی سرور جیسے  القاب سے یاد کرنا شروع کردیا۔ ([6])  

دھونکل میں فیضِ عام  

سوہدرہ کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ” دھونکل“نامی گاؤں کو شرف ِ قیام بخشا اور مخلوقِ خدا کو فیض یاب کیا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی آمد سے قبل مقامی لوگ پانی کی قلت کا شکار تھے چند دنوں کےبعدآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی عبادت گاہ کے قریب پانی کاچشمہ جاری ہوگیا ۔ ([7])

 



[1]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم ص: ۳۳۹ملخصاً

[2]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم، ص۳۵۰ملخصاً

[3]    خزینۃ الاصفیاء،ص۱۹۱

[4]    خزینۃ الاصفیاء،ص۱۹۲

[5]    خزینۃ الاصفیاء،ص۱۹۲

[6]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص۵۵،۵۶وغیرہ  

[7]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص۵۶،۵۷ملخصا



Total Pages: 8

Go To