Book Name:Faizan-e-Sultan Sakhi Sarwar رحمۃاللہ تعالی علیہ

سُوال: عشقِ مَجازی کرنے والے بعض نوجوان گھر والوں کی مخالَفَت کے باوُجُود کورٹ میں جا کر شادی کر لیتے ہیں۔ کیا ایسا کرنا مناسب ہے؟

جواب: ہرگز مُناسب نہیں بلکہ لڑکا اگر لڑکی کا کُفو ([1])  نہ ہواور لڑکی نے ولی کی اجازت کے بغیر نکاح کیا ہو تویہ نکاح ہی باطِل ٹھہرے گا! بِالفَرض کُفوبھی مل گیا اور نکاح بھی مُنعَقِد ہو گیا تب بھی کورٹ  میں جا کر شادی کرنے والوں سے ماں باپ کی سخت دل آزاری ہوتی،  اہلِ خاندان کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکا لگ جاتااور دیگر بھائی بہنوں کی شادیوں میں رکاوٹیں کھڑی ہو جاتی ہیں ۔ نیز ایسا کرنے سے اکثر غیبتوں ،  تہمتوں،  عیب دریوں، بدگمانیوں اور دل آزاریوں وغیرہ وغیرہ گناہوں کا دروازہ کُھل جاتا ہے لہٰذا ہرگز ایسا قدم نہیں اُٹھانا چاہئے۔ ([2])

اللہعَزَّ  وَجَلَّ  ہمیں بھی نکاح اور دیگر جائز کاموں میں والدین کی رضا ملحوظِ خاطر رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

شاہ کوٹ سے جدائی

حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر والدِ ماجد حضرت سَیِّدُنا زینُ العابدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کے زیرِ سایہ راہِ سلوک کی منازل طے کر رہے تھے کہ اُن کا انتقال ہوگیا،  ایک طرف توشفیق والد کےسائبان سےمحرومی کاصدمہ تو دوسری جانب خالہ زاد بھائیوں کی بےمروتی  بلکہ دشمنی اور ایذا رسانی سے  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا دل  شاہ کوٹ  (سروری کوٹ) سے اُچاٹ ہوگیا کوئی چاہت نظر نہ آئی،   ہر طرف اداسی ہی اداسی نظر آئی ۔لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے سیاحت کا ارادہ کیا اورکسی ولی کامل کی بارگاہ میں حاضر ہوکر راہِ سلوک کی منازل طےکرنے کا فیصلہ کیا۔اس دورمیں عروسُ البلاد ”بغداد ِ مُعلّٰی“اسلامی علوم و فنون کا مرکز ومنبع سمجھا جاتاتھا جہاں دور دور سے لوگ اپنی علمی اور روحانی پیاس بجھانے آتے۔ پیرانِ پیر،  روشن ضمیر ، حضور غوث ِاعظم شیخ عبدُ القادر جیلانی   قُدِّسَ  سِرُّہُ النّوْرَانِی اس وقت بغدادِمُعلّی کی سرزمین پر رہ کر عالَمِ اسلام  میں اپنا فیض لٹا رہے تھے۔ ([3])

غوثُ الاعظم سے شرفِ بیعت

حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر سفر کی تکالیف برداشت کرتے ہوئے اور مشکلات جھیلتے ہوئے  بغداد شریف پہنچےاور حضور غوث پاک رَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے دستِ اقدس پر بیعت کا شرف حاصل کیااور اکتسابِ فیض کیا۔ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ  کچھ عرصے شیخُ الشُیُوخ حضرت سَیِّدُناشیخ شہابُ الدین سہروردی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی صحبت سے بھی مستفیض ہوئے۔ ([4])

آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسلسلہ عالیہ قادریہ کے عظیم بزرگ تھے پاک وہند  میں آپ کی شہرت و مقبولیت ،  ولایت اوربزرگی کا چرچا ہے لیکن آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کسی کو اپنا خلیفہ مقرر نہ فرمایا اس لئے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا سلسلہ مشہور نہ ہوا مگر اس کے باوجود آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے عقیدت مندوں کا شمار نہیں، جس کا نظارہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کے عرس  کے موقع  پرکیا جاسکتا  ہے۔  ([5])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!اولیائے کرام اللہعَزَّ  وَجَلَّ کے نیک بندے،  تقویٰ و پرہیزگاری کے پیکر اور ہرمعاملے میں اطاعتِ الٰہی سے مُزیّن  ہوتے ہیں۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اپنے ان مقبول بندوں کو طرح طرح کے اختیارا ت سے نوازتا ہے اوران سے ایسی کرامات  صادِر ہوتی ہیں جو عقلِ انسانی سے وَراء ُ الوَرا  ہوتی ہیں ۔ آئیے! حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی چند کرامات ملاحظہ کیجئے:  

( 1)  غائب کو حاضر کردیا

ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ جنگل میں نماز پڑھ رہے تھے قریب ہی درخت  کے نیچےایک غیرمسلم  تھکا ہارابیٹھا تھا جس کے اکلوتے بیٹے کوجِن اٹھا کر لےگیا تھا اور یہ اس کی تلاش میں مارا مارا پھر رہا تھا۔اِس پریشان حال اور مصیبت کے مارے کی نظر جب آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ پر پڑی تو وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اورہاتھ جوڑ کر عرض گزار ہوا : حضور! میرا ایک  ہی بیٹا تھا جو  گم ہوگیا ہے ، اگر آپ اسے مجھ سے ملادیں  تو میں مسلمان ہوجاؤں گا۔آپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نےدعا کے لئے ہاتھ اُٹھا دئیے، دعا سے فراغت  کےبعدآپ رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ نے اپناہاتھ آگے بڑھاکر زور سے جھٹکا تو وہ لڑکا آپ کے سامنے موجود تھا ۔لڑکے کے والد نے جیسے ہی  اُسے دیکھا تو فرط ِ مَحَبَّت سے لپٹ  کرخوب  رونے لگا،   جب سیل اشک رُک گیا تواس نے اپنےلختِ جگر سے پوچھا :  تم کہاں چلے گئے  تھے؟اس نے بتایا کہایک جِن   مجھے اٹھاکر لے گیا تھاابھی  انہوں نے میرا ہاتھ پکڑ کر آپ کے سامنے کردیا ۔“اس کے بعد وہ غیر مسلم اپنے پورے  خاندان سمیت مسلمان  ہوگیا ۔



[1]    محاورہ عام (یعنی عام بول چال)میں فَقَط ہم قوم کوکُفو کہتے ہیں اور شرعاً وہ کفو ہے کہ نَسَب یا مذہب یا پیشے یا چال چلن یاکسی بات میں ایسا کم نہ ہو کہ اس سے نکاح ہونا اولیاء زن(یعنی عورت کے باپ دادا وغیرہ) کے لئے عُرفاً باعثِ ننگ و عار(یعنی شرمندگی و بدنامی کا سبب)ہو۔پردے کےبارے میں سوال جواب ص۳۶۱

[2]    پردے کےبارے میں سوال جواب ،ص ۳۵۷

[3]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص۴۷،وغیرہ

[4]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص ۴۸،۵۱ملخصا

[5]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص ۴۸ملخصا



Total Pages: 8

Go To