Book Name:Faizan-e-Sultan Sakhi Sarwar رحمۃاللہ تعالی علیہ

اسی اَثنا میں بعض رشتہ داروں نے نقدی حاکم کو پیش کی اور آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بارے میں غلط بیانی کرنے لگے،  یہ سُن کر حاکم ناراض ہوا کہ یہ لوگ ایک وَلِیُّ اللہ کے بارے میں غلط بات کررہے ہیں،  چنانچہ اس نےآپ کے رشتہ داروں  کو جیل میں بند کردیااورآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو عمدہ لباس و گھوڑا اور ڈھیر ساری نقدی دے کر رخصت کیا۔ ([1])

برائی کے بدلے بھلائی

 آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ حاکم کے پاس سے فارغ ہوکر سیدھے قید خانے پہنچے اور فرمايا:  جہاں ہمارے بھائی ہوں گے ہم بھی وہیں رہیں گے ، حاکم کو جب یہ خبر پہنچی تو اس نے فوراً آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کےرشتہ داروں کی آزادی کا پروانہ جاری کردیا،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے پھر فرمایا: دوسرے قیدی بھی ہمارے بھائی ہیں وہ جب تک قید ہیں ہم یہاں سے نہیں جائیں گے،  بالآخر تمام قیدیوں کو رہائی نصیب ہوئی،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے حاکم کی جانب سے ملی ہوئی ساری نقدی ان میں تقسیم فرمادی۔

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!دیکھا آپ نے ہمارے اسلافِ کرام  حسنِ اخلاقاور عفوودرگزرکے  کیسے اعلی مراتب پر فائز تھے کہ اگر کوئی ان کا براچاہتا تو یہ حضرات بدلے کی قدرت کے باوجود رضائے الہی کی خاطر اسے معاف فرمادیا کرتے۔اس واقعے میں ہمارے لئےیہ بھی  درسِ عبرت ہے  کہ جو کسی پر احسان کرتا ہے اس پر بھی احسان کیا جاتاہے اور جو دو سروں کی تباہی وبربادی کا خواہاں ہوتا ہے وہ خود ہی تباہ و بر باد ہوجاتا ہے۔ لہٰذا ہمیں بھی بزرگانِ دین کی سیرت پر چلتے ہوئے عفوودرگزراور حسنِ اخلاق سے پیش آنا چاہیے اورقرآن وحدیث میں بھی ہمیں اسی بات کی تعلیم دی گئی ہے۔چنانچہ  ارشاد ہوتا ہے:

اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ فَاِذَا الَّذِیْ بَیْنَكَ وَ بَیْنَهٗ عَدَاوَةٌ كَاَنَّهٗ وَلِیٌّ حَمِیْمٌ (۳۴) وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا الَّذِیْنَ صَبَرُوْاۚ-وَ مَا یُلَقّٰىهَاۤ اِلَّا ذُوْ حَظٍّ عَظِیْمٍ (۳۵)   

(پ ۲۴ ، حم سجدہ: ۳۴، ۳۵)

 ترجمۂ کنزالایمان: اے سننے والے برائی کوبھلائی سے ٹال جبھی وہ کہ تجھ میں اور اس میں دشمنی تھی ایسا ہوجائے گا جیسا کہ گہرا دوست اوریہ دولت نہیں ملتی مگر صابرو ں کو  اور اسے  نہیں پاتا مگر بڑے نصیب والا ۔

حضرتِ سَیِّدُنا ابن عباس رِضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُما                    ’’ اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ ‘‘ (ترجمۂ کنزالایمان:  اے سننے والے برائی کو بھلائی سے ٹال) کی تفسیر میں فرماتے ہیں : اس سے مراد غصے کے وقت صبر کرنااوربرائی کے وقت معاف کردینا ہے،  جب لوگ ایسا کریں گے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   دشمنوں سے ان کی حفاظت فرمائے گا اور ان کے سامنے دشمنوں کو جھکا دے گا ۔ ([2])

حضرتِ سَیِّدُنا عبادہ بن صامت رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّمنے فرمایا:  کیا میں تمہیں ایسے عمل کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبب اللہعَزَّ  وَجَلَّ  درجات کو بلند فرماتا ہے ؟صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ    الرِّضْوَان نےعرض کیا:  یارسُولَ اللہصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم! ضرور فرمائیے۔فرمایا: جو تمہارے ساتھ جہالت کا برتاؤ کرے اسکے ساتھ بردباری سے پیش آؤ اور جو تم پر ظلم کرے اسے معاف کردو اورجوتمہیں محروم کرے اسے عطا کرو اور جو تم سے قطع تعلقی کرے اسکے ساتھ صلہ رحمی کرو۔ ([3])

حضرتِ سَیِّدُنا سہل بن معاذرَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمااپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبیٔ اکرم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم نے فرمایا: جو بدلہ لینے پر قادر ہونے کے باوجود غصہ پی لے اللہعَزَّ  وَجَلَّ   اسے لوگوں کے سامنے بلائے گا تاکہ اس کو اختیار دے کہ جنت کی حوروں میں سے جسے چاہے پسند کر لے۔ ([4])

نکاح میں والدین کی رضا

حاکم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی کرامت اور حسنِ اخلاق سے بہت متاثر ہوااورکہنے لگا: ”میری بیٹی کو اپنے نکاح میں قبول فرمالیجئے۔“ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے فرمایا: میں اپنے والدین کی اجازت کے بغیر یہ نکاح نہیں کروں گا۔چنانچہ والدین  کی رضا سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا نکاح حاکمِ شہر کی صاحِبزادی سے ہوگیا۔ ([5])   

میٹھے میٹھےاسلامی بھائیو!حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی سیرتِ مبارکہ سے ہمیں یہ مدنی پھول  بھی ملاکہ نکاح جیسے اہم کام میں بھی والدین کی خوشنودی کو ملحوظِ خاطر رکھنا چاہیے ۔یاد رکھئے!اسلام میں نکاح ایک مُقَدس عہد وپیمان ہے جو مرد و عورت کے درمیان قائم  ہوتا ہے، جس دینِ متین نے اس مقدس اور پاکیزہ رشتے کو قائم کرنے میں عاقل بالغ مرد وعورت کو اختیار دیا ہے اسی نے والدین کے ساتھ ادب واحترام،  مہربانی اور حسنِ سلوک کا درس دیا ہےاور شریعت کے دائرے میں رہتے ہوئے ان کی خواہش پوری کرنے کا حکم فرمایا ہے لہٰذا لڑکے  یا لڑکی کا اپنی مرضی سے والدین اور خاندان والوں سے چُھپ کر نکاح کرنا کسی طرح بھی مناسب نہیں اور بعض صورتوں میں تو نکاح منعقد ہی نہیں ہوتا۔جہاں عشقِ مجازی کے چکر میں پڑ کر خواب وخیال کی نئی دنیا بسانے کا سوچتے ہیں وہیں والدین کی عزت کی دھجیاں بکھیر کر انہیں ذلت و رسوائی کے کئی داغ دے جاتے ہیں جنہوں نےبچپن سے لے کر جوانی تک ناز اٹھائے،  پال پوس کر جوان کیا بالآخرانہی کے حقوق پامال کرکے اپنے گلے میں احسان فراموشی کا طوق ڈال لیتے ہیں بلکہ خود اپنے لئے دینی و دنیاوی مشکلات اور رکاوٹیں کھڑی کر لیتے ہیں اس معاملے میں اپنی چلانے والوں کو بدنام  و  رُسوا  ہوتے ہی دیکھا گیا ہےاور جب عشقِ مجازی کا بھوت سر سے اترتاہے تو کفِ افسوس ملتے ہی دیکھا گیا ہے۔شیخِ طریقت،  امیرِاہلسنّت،  بانیِ دعوتِ اسلامی حضرتِ علامہ مولانا ابوبلال محمد اِلیاس عطّارؔ قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ سوال وجواب کا انداز اختیار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

 



[1]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم ،ص۳۴۴ملخصاً

[2]    بخاری ،کتاب التفسیر، سورة حم السجدہ، ۳ / ۳۱۸

[3]    مجمع الزوائد، کتاب البرو الصلة،باب مکارم الاخلاق ...الخ ،۸/۳۴۵،حدیث: ۱۳۶۹۴

[4]    ابن ماجة، کتاب الزھد، باب الحلم ،۴/ ۴۶۲ ،حدیث:۴۱۸۶

[5]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم ،ص۳۴۶



Total Pages: 8

Go To