Book Name:Faizan-e-Sultan Sakhi Sarwar رحمۃاللہ تعالی علیہ

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خراب و بنجر زمین پر کاشت کاری

حضرت سَیِّدُنا سخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَرکے ناناجان ایک زمین دار تھے۔ ناناجان کے انتقال کےبعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی والدہ ماجدہ کو وراثت میں کافی جائداد ملی۔بعد ازتقسیم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکے حصے میں آنے والی زمین چونکہ بظاہر خراب و بنجر تھی لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنےصبر وشکر کے ساتھ  والدہ ماجدہ کے حکم سے اسی خراب و بنجر زمین پر کاشت شروع کردی اور فرمایا:  اس کھیت کو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حوالے کیا ۔جب بارش ہوئی اور فصل پک کر تیار ہوگئی توفضلِ الٰہی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی فصل بہت زیادہ ہوئی جبکہ دیگررشتہ داروں  کی فصل انتہائی ناقص تھی، یہ دیکھ  کر وہ حسد کی آگ میں جل بُھن کر رہ گئے، پہلے تو انھوں نے زمین کی تقسیم  پر اعتراض کیا  اوراب آپ کی فصل سے حصہ مانگنے لگے ۔  ([1])  

جسے اللہ رکھے اسے کون چکھے

وہاں کا  معمول تھا کہ جب کبھی غلے کے ڈھیر لگتے تو رات کو شیر آتا اورغلے کی حفاظت کرنے والے  کو نقصان پہنچاتا ، چنانچہجب آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی فصل کٹ گئی  اور غلے کے ڈھیر لگ چکے تو خالہ زاد بھائیوں نےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو نقصان پہنچانے کی غرض سے  مشورہ دیا کہ زمین ہماری مشترکہ  ہے لہٰذا غلے کی حفاظت کے لئے آپ کھیت میں ہی رات گزاریں ،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے ان  کی یہ بات بھی مان لی ۔حضرت سیّدنا سخی سرور رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کھیت پہنچے اور رات بھر عبادت میں مشغول رہےاسی دوران شیر آیا  اور ساری رات آپ کی رکھوالی کرتا رہا، صبح ہوتے ہی  شیر واپس جنگل چلا گیا ۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!کسی مسلمان کا نقصان چاہنا اور جان بوجھ کر اسے غلط مشورہ دینا ناجائز وگناہ ہےایسےشخص کو حدیثِ پاک میں خائن (خیانت کرنے والا) کہا  گیا ہے۔چنانچہ رسولِ اَکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:  جو اپنے بھائی کو کسی چیز کا مشورہ یہ جانتے ہوئےدے کہ درستی اس کے علاوہ میں ہے اس نے اس سے خیانت کی۔ ([3])

مُفَسِّرِ شَہِیر،  حکیمُ الاُمَّت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ  الرَّحْمٰناس حدیث پاک کی شرح میں فرماتے ہیں:  یعنی اگر کوئی مسلمان کسی سے مشورہ کرے اور وہ دانستہ  (جان بوجھ)  غلط مشورہ دے تاکہ وہ مصیبت میں گرفتار ہوجائے تو وہ مشیر  (مشورہ دینے والا) پکا خائِن ہے خیانت صرف مال ہی میں نہیں ہوتی، راز،  عزت، مشورے تمام میں ہوتی ہے۔ ([4])

اے ہمارےپاک پر وردگار عَزَّ وَجَلَّ!ہمیں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَاناور اولیائے  عظام رَحِمَہُمُ اللہُ تَعَالٰیکے صدقے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ خوب خیر خواہی کرنے کاجذبہ عطا فرمااور مل جُل کر دین کا کام کرنے کی توفیق عطا فرما۔

اٰمین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمین صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم

سر پر بادل کا سایہ

حاکم کو ٹیکس ادا کرنےکا وقت آیا توخالہ زاد بھائی آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پاس پہنچے اورایک مرتبہ پھر نقصان پہنچانے کی نیت سے کہنے لگے: ہم ٹیکس ادا کرنے جارہے ہیں، آپ ہمارے ساتھ چلیں گے؟چنانچہ والد ماجد کی اجازت سےآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ اپنے خالہ زاد بھائیوں کے ہمراہ مدینۃُ الاولیاء (ملتان)  روانہ ہوگئے۔ ادھر شہر کا حاکم  گھنوں خان  سیر کے لئے قلعہ کی فصیل پر آیا تو اچانک اس کی نظر کچھ ایسے افراد پر  پڑی جو قلعہ کی جانب بڑھ رہے  تھے،  حاکم یہ دیکھ کر گھبرا گیاکہ یہ کون سی  مصیبت گلے پڑ گئی اس نے سپاہیوں کو دوڑایاتو انہوں نے آکر خبر دی کہ  فوج  نہیں ہے پانچ زمینداروں کے ساتھ ایک سیّد صاحب تشریف لارہے ہیں اور انہی کے سر پر بادل نے  سایہ کیا ہوا ہے۔حاکم سمجھ گیا کہ یہ ضرورکوئی  وَلِیُّ اللہ ہیں  جو کسی وجہ سےیہاں تشریف لائے ہیں۔ ([5])  

غیب سے کھانا حاضر ہوگیا

حاکم نے وزیر سے کہاکہ  ہمیں مزید دیکھنا چاہیے کہ یہ کامل ولی ہیں یا نہیں؟ چنانچہ اس  نے بطورآزمائش ملازموں کو حکم دیا کہ سیّد صاحب کے پاس ایک  جگ اور کچھ خالی برتن ڈھک کر لے جائیں،  اگریہ  ولی کامل ہیں  تو غیب سے ان کے لئے کھانا اورپانی آجائے گا۔ چنانچہ ملازم ڈھکے ہوئے خالی برتن اور جگ لے کر حضرت سَیِّدُنا سخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی خدمت میں پہنچےجونہی آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے کپڑا ہٹایا تو جگ پانی سے لبالب بھرا ہوا تھا اوربرتنوں میں مختلف اقسام کے  کھانے  موجود تھے جن کی خوشبو سے کمرہ مہک ا ُٹھا،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے چند لقمے تناول فرمانے کے بعدملازموں سے فرمایا:  اسے حاکم کے پاس لے جاؤ۔حاکم آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی یہ کرامت دیکھ کر حیران رہ گیا ۔ ([6])

بعض رشتہ داروں کی غلط بیانی

 



[1]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم ،ص۳۴۰ملخصاً،بزرگ،ص۱۳۳

[2]    تذکرہ اولیائے عر ب عجم ،ص ۳۴۱ وغیرہ

[3]    ابوداؤد،کتاب العلم ،التوقی فی الفتیا،۳/۴۴۹،حدیث:۳۶۵۷

[4]    مراۃ المناجیح،۱/٢١٢

[5]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم ،ص۳۴۴ملخصاً

[6]    تذکرہ اولیائے عرب وعجم ،ص۳۴۴ملخصاً



Total Pages: 8

Go To