Book Name:Faizan-e-Sultan Sakhi Sarwar رحمۃاللہ تعالی علیہ

تعلیم و تربیت

حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر بچپن ہی سے بڑے ذہین تھے اکثر اوقات والد ماجد سے شرعی مسائل سیکھتے رہتے۔ ان دنوں مرکزالاولیا  (لاہور ) میں مولانا سَیِّد محمد اسحاق لاہوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی  کے علم و فضل کا بڑا شہرہ تھا لہٰذا آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو عُلومِ ظاہری حاصل کرنے کے لئے لاہور بھیج دیاگیا۔ مولانا سَیِّد محمد اسحاق لاہوری عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی کی محبت اورتعلیم وتربیت کی بدولت حضرت سَیِّدُناسخی سروررَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہاُن تمام صلاحیتوں اور صفات سے مُتَصِّف ہوگئے جو ایک  عالمِ دین کا خاصہ ہوتی ہیں۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے تحصیلِ علم کے بعد  والدِ ماجد کا پیشہ زراعت اختیار کیا لیکن زیادہ تر وقت یادِ الٰہی میں ہی بسر ہوتا، ظاہری علوم کے حصول کے بعدباطنی علوم حاصل کرنے کا جذبہ و اشتیاق میں مسلسل  اضافہ ہوتا رہا ،   والد ماجد اپنے ہونہار بیٹےکا شوق و ولولہ دیکھ کرایک مرشد کی طرح تربیت فرمانے لگے ۔ ([1])  

سخی سرور کی سخاوت اور والد گرامی کی کرامت

بچپن ہی سے  حضرت سَیِّدُنا سخی سرورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کی طبیعت میں فیاضی اور سخاوت کا عنصر موجود تھا چنانچہ ایک مرتبہ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے چند بکریاں لیں اور جنگل پہنچ کر انہیں چَرنے کےلئے چھوڑ دیااورخودایک درخت کے نیچے عبادتِ الٰہی میں مشغول ہوگئے اسی دوران چالیس فقیروں کا وہاں سے گزرہوا توانہوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے کھانا مانگا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:  ”میرے پاس یہی بکریاں ہیں آپ انہیں ذبح کرکے کھالیں۔“ان فقیروں نے بکریاں ذبح  کیں  اورپکا کر اپنی  بھوک مٹائی ۔جب سعادت مند بیٹے کی  سخاوت وفیاضی  کی خبر والدِ ماجد حضرت سَیِّدُنا زینُ العابدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن کوہوئی تو اسی وقت تشریف لائے اوراس کارِ خیر پردادِ تحسین دیتے ہوئے  فرمایا:  ”بیٹا! تم نے فقیروں کو کھانا کھلاکر بہت اچھا کیا۔“ پھر حضرت سَیِّدُنا زینُ العابدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن نے بکریوں کی ہڈیاں اور کھالیں جمع کرکے اُن پر اپنی چادر ڈالی اوربارگاہ ِالٰہی میں دعا کے لئے ہاتھ اٹھادئیے ، دعا ابھی ختم نہ ہوئی  تھی کہ چادر میں حرکت پیدا ہوئی اور ایک ایک کرکے تمام بکریاں  چادر کے نیچے سےزندہ سلامت نکل آئیں۔ ([2])

میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو!مذکورہ  حکایت میں بکریوں کاذبح ہوجانے کے بعد دوبارہ  زندہ ہوکر اٹھ جاناا گرچہ عادۃً ممکن نہیں  مگر یہ  حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ              اللہِ الْاَ  کْبَر کے والد ماجد کی کرامت ([3])  تھی جو اللہعَزَّ  وَجَلَّ  کے مقبول بندوں سے صادر ہوتی رہتی ہیں نیز اس واقعے سے ہمیں راہ خدا میں صدقہ وخیرات کرنے کا بھی درس ملتا ہے۔یاد رکھئے! صدقہ و خیرات کرنا ہمارے پیارے آقا مکی مدنی مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی عظیم سنّت ہے آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےدرِ جودو سخاوت سے کوئی سوالی خالی ہاتھ نہ جاتا ،  یہی وجہ ہے کہ ہمارے اسلاف یعنی بارگاہ ِ نبوت سے تربیت پانے والے صحابہ کرام ،  تابعین و تبع تابعین ،  اولیائے کاملین و علمائے دین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْبھی صدقہ و خیرات کے ذریعے فقراء و مساکین کی مدد کرکے اس کی برکات سے فیض یاب ہوتے رہے الغرض یہ سلسلہ صدیوں پر مُحیط ہے اور تا قیامِ قیامت جاری رہے گا۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ 

قرآنِ پاک میں اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے کئی مَقامات پر صَدقہ و خیرات کے فضائل  اور اس پر ملنے والے  اجرو ثواب کو بیان فرمایا ہے۔چنانچہ پارہ 3سورۂ بقرہ کی آیت نمبر 261میں ارشاد ہوتا ہے:

مَثَلُ الَّذِیْنَ یُنْفِقُوْنَ اَمْوَالَهُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ اَنْۢبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ كُلِّ سُنْۢبُلَةٍ مِّائَةُ حَبَّةٍؕ-وَ اللّٰهُ یُضٰعِفُ لِمَنْ یَّشَآءُؕ-وَ اللّٰهُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (۲۶۱)   (پ۳،  البقرۃ:  ۲۶۱)

ترجمۂ کنزالایمان: انکی کہاوت جو اپنے مال اللہ کی راہ میں خَرْچ کرتے ہیں اُس دانہ کی طرح جس نے اُوگائیں سات بالیں ہر بال میں سو دانے اوراللہ اس سے بھی زیادہ بڑھائے جس کے لئے چاہےاوراللہ وُسْعَت والا عِلْم والا ہے۔

حضرت سَیِّدُنا امام خازن ابو الحسن علاءُ الدين علی بن محمد بن ابراہیم رَحْمَۃُ اللّٰہ ِتعالٰی علیہ اس  آیتِ مبارکہ کے تحت  فرماتے ہیں: راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا خواہ واجِب ہو یا نَفْل،  تمام اَبوابِ خیر کو عام ہے۔ ([4])  اورصَدرُ الافاضل حضرتِ علامہ مولانا سَیِّد محمد نعیم الدین مُراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں:  کسی طالب عِلْم کو کتاب خرید کر دی جائے یا کوئی شِفا خانہ بنادیا جائے یا مُردوں کے ایصالِ ثواب کے لئے تیجہ،  دسویں،  بیسویں،  چالیسویں کے طریقے پر مساکین کو کھانا کھلایا جائے،  سب راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا ہی ہے۔  ([5])  

اسی طرح  عِلْمِ دین کی اشاعت میں حصّہ لینا،  دینی مَدَارِس کی مَدَد کرنا، مَسَاجِد بنانا،  دینی کُتُب کے لیے لائبریری بنانا،  مُسافِر خانے بنانا، ضَرورت مندپڑوسیوں اور رِشتہ داروں کی مَدَد کرنا،  محتاجوں، اَپاہجوں اور غریبوں کے علاج مُعالَجہ اور مَقْروضوں کےقرض کی ادائیگی کے لیے خَرْچ کرنا وغیرہ ایسے کام ہیں کہ ان میں سے جس کام میں بھی خَرْچ کریں گے وہ راہِ خُدا میں خَرْچ کرنا ہی کہلائے گا۔

 



[1]    تذکرہ اولیائے پاکستان ص:۱۲۸ملخصاً، خزینۃ الاصفیاء ،ص۱۹۰،تذکرہ حضرت سخی سرور، ص۱۰۴

[2]    تذکرۂ اولیائے عرب وعجم ،ص ۳۳۶ 

[3]    کرامت کی تعریف: مؤمن متقی سے اگر کوئی ایسی نادرالوجود وتعجب خیز چیز صادر وظاہر ہوجائے جو عام طور پر عادتاً نہیں ہواکرتی تو اس کو’’کرامت ‘‘کہتے ہیں ۔ اسی قسم کی چیزیں اگر انبیاء عَلَیْہِمُ   ا لصَّلٰو  ۃ        وَالسَّلَام   سے اعلانِ نبوت کرنے سے پہلے ظاہر ہوں تو ’’ارہاص‘‘اور اعلان نبوت کے بعد ہوں تو’’معجزہ‘‘ کہلاتی ہیں اوراگر عام مؤمنین سے اس قسم کی چیزوں کا ظہور ہوتو اس کو ’’معونت‘‘ کہتے ہیں اورکسی کافر سے کبھی اس کی خواہش کے مطابق اس قسم کی چیز ظاہر ہوجائے تو اس کو ’’اِستدراج‘‘ کہاجاتاہے۔(كرامات صحابہ، ص۳۶)

[4]    تفسیر خازن ، البقرۃ، تحت الآية:۲۶۱، ۱/ ۲۰۵

[5]    خزائن العرفان ،پ۳،البقرۃ، تحت الآیۃ:۲۶۱



Total Pages: 8

Go To