Book Name:Faizan-e-Sultan Sakhi Sarwar رحمۃاللہ تعالی علیہ

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیضانِ سُلطان  سَخِی سرور

دُرُود ِپاک کی فضیلت

سرکارِنامدار، مدینےکےتاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کافرمانِ خُوشبودار ہے: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی خاطر آپس میں محبت رکھنے والے جب باہم ملیں اور مصافحہ کریں اور نبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمپر دُرودِ پاک بھیجیں تو ان کے جُدا ہونے سے پہلے دونوں کے اگلے پچھلے گناہ بخش دئيے جاتے ہیں ۔  ([1])

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

مختلف اَدْوار میں تبلیغِ دین اور اَمْرٌ بِا لْمَعْرُوْف وَ نَھْیٌ عَنِ الْمُنْکَر  (نیکی کا حکم دینے اوربرائی سےمنع کرنے) کےعظیم جذبےکی خاطرجن صوفیائےکرام اور اولیائے عظام رَحِمَہُمُ اللّٰہُتَعَالٰی  کی ایک بڑی تعداد نے برصغیر پاک وہند کی طرف ہجرت کی اور اپنی زبانی، قلمی اورعملی نیکی کی دعوت کے ذریعےمخلوقِ خدا کو اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ   کی وحدانیت اورہمارے پیارے آقاحضرت محمدمصطفےٰ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلہٖ وسلَّم کی رسالت سے روشناس کروایا، معرفتِ الٰہی  کا رستہ بتلایا، عشق ِرسول کا جام پلایااورحسنِ اخلاق کے اصولوں سے روشناس کروایاان  میں سے ایکشیخُ الاصفیا ء، سلطانُ الاولیا حضرت سلطان سخی سرورسیّد احمد کاظمی قادری سہروردی شہیدرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کی ذات  بابرکت بھی ہے۔آپرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکےفیضان سےآج شجرِ اسلام سرسبزو شاداب ہےاورسیکڑوں سال گزرجانے کے بعد بھی آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی عقیدت و محبت لوگوں کے دلوں میں قائم ہے۔آئیے! حصولِ برکت اور نزولِ رحمت کے لیے آپ کا  ذکرِ خیر کرتے ہیں۔

صَلُّوا عَلَی الْحَبیب!                                      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

والدِ ماجد کی پنجاب آمد

حضرتسَیِّدُنا سلطان سخی سرورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر کے والدِ ماجدحضرت سَیِّدُنا زینُ العابدینعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن ولیٔ  کامل اور زبردست عاشقِ رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تھے آپ بائیس برس تک سرکارِمکہ مکرَّمہ، سلطانِ مدینہ مُنَوَّرہ  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ  وَسَلَّمکے روضۂ اقدس کی برکتوں سے فیض یاب ہوتےرہے۔ایک رات سوئےتو قسمت انگڑئی لے کرجاگ اُٹھی اور خواب میں کیا دیکھتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّممیں حاضر ہیں اورپیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم یہ حکم ارشاد فرما رہے ہیں : ”تم اب ہندوستان جاؤ اور وہاں خطۂ پنجاب میں قیام کرکے اسلام کی تبلیغ کرو، لوگوں کواللہتعالیٰ اوراللہ تعالٰی کے نبی  برحق کا سیدھا راستہ بتاؤ۔“ چنانچہ حکم کی تعمیل کرتے ہوئے حضرت سَیِّدُنا زینُ العابدین عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْمُبِیْن ۵۲۰ھ مطابق 1128ء میں پنجاب تشریف لائے، مدینۃُ الاولیا (ملتان)  کے قریب شاہ کوٹ ([2])  نامی ایک گاؤں میں قیام فرمایا، حصول ِ رزق کے لئے زراعت  کا پیشہ اختیار فرمایااورنیکی کی دعوت کے ذریعےبے شمُار لوگوں کو راہِ ہدایت سے رُوشناس اور اپنے فُیوض و برکات سے مُسْتفیض فرمایا۔ ([3])

شاہ کوٹ میں مستقل قیام

جب حضر ت سَیِّدُنا زین ُالعابدین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کوشاہ کوٹ کے مسلمانوں میں فیض عام کرتےہوئےدو سال کا عرصہ گزرا تو آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی زوجہ ٔ محترمہ کاانتقال ہوگیا۔گاؤں والوں نےاس  خوف سے کہ اگر  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کہیں اور  تشریف لے گئے تو ہم آپ کے فُیوض وبرکات سے محروم ہوجائیں گے لہٰذا انہوں نے باہمی  مشورے کے  بعدایک زمیند ار کی صاحبزادی سے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کانکاح کروادیا۔ دوسال بعدانہی کےبطنِ مبارک سے شیخُ الاصفیاء،  سلطانُ الاولیاء حضرت سَیِّدُناسلطان سخی سرورعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَرکی ولادت باسعادت ہوئی ۔  ([4])

ولادتِ باسعادت

حضرت سَیِّدُناسخی سرور عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَ  کْبَر بروز پیر صبح کی سُہانی گھڑیوں میں ۱۴ذُو الحجۃ ۵۱۱ھ کو شاہ کوٹ  (سروری کوٹ ضلع ڈیرہ غازی خان پنجاب پاکستان ) میں پیدا ہوئے ۔  ([5])  

نام وسلسلہ نسب

آپ کا نام سَیِّداحمد بن سَیِّد زین العابدین بن سَیِّد عمر بن سَیِّدعبد اللطیف ہے۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے القاب تو بہت ہیں مگرآپ ” سخی سرور “کے لقب سے  مشہورو معروف ہیں۔آپرَحْمَۃُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہ کاسلسلۂ نسب چند واسطوں سے سَیِّدُالشُہداء حضرت سَیِّدُنا امام حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےجا ملتا ہے۔ ([6])  

 



[1]     مسند ابی یعلٰی، مسند انس بن مالک رضی الله عنه،۳/۹۵، حدیث:۲۹۵۱

[2]    اس کاموجودہ نام سروری کوٹ ہے جو پنچاب پاکستان کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں ہے۔

[3]    سیرت حضرت سخی سرور،ص۲۴،۲۵،تذکرہ حضرت سخی سرور،ص۱۰۲،۹۶

[4]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص۲۷،۲۸ملخصاً

[5]    تذکرہ اولیائے عرب و عجم،ص۳۳۶

[6]    سیرت  حضرت سخی سرور،ص،۲۷،۳۱،خزینۃ الاصفیاء ،ص۱۹۰



Total Pages: 8

Go To