Book Name:Faizan-e-Bibi Umme Sulaim رضی اللہ تعالی عنھا

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فَیضَانِ بی بی اُمِّ سُلَیْم  (رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہَا)

کثرتِ دُرُوْد کے سبب نجات

حضرتِ سیِّدنا ابوبکر شبلی بغدادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی فرماتے ہیں: میں نے اپنے مرحوم پڑوسی کو خواب میں دیکھ کر پوچھا: مَا فَعَلَ اللہُ بِکَ؟  اللہ عَزَّ  وَجَلَّ نے آپ کے ساتھ کیا مُعَامَلہ فرمایا؟  وہ بولا: میں سخت ہولناکیوں سے دوچار ہوا، منکرنکیر کے سوالات کے جوابات بھی مجھ سے نہیں بن پڑ رہے تھے، میں نے دل میں خیال کیا کہ مجھ پر یہ مصیبت کیوں آئی ہے...؟  کیا میرا خاتمہ ایمان پر نہیں ہوا...؟  اتنے میں آواز آئی: دنیا میں زبان کے غیر ضروری اِسْتِعمال کی وجہ سے تجھے یہ سزا دی جا رہی ہے۔ اب عذاب کے فِرِشتے میری طرف بڑھے۔ اتنے میں ایک صاحِب جو حسن وجمال کے پیکر اور معطر معطر تھے وہ میرے اور عذاب کے درمیان حائل ہو گئے اور انہوں نے مجھے منکرنکیر کے سوالات کے جوابات یاد دِلا دئیے اور میں نے اُسی طرح جوابات دے دیئے۔ میں نے ان بزرگ سے عرض کی: اللہ عَزَّ  وَجَلَّ  آپ پر رَحْم فرمائے، آپ کون ہیں؟  فرمایا: تیرے کثرت کے  ساتھ دُرُوْد شریف پڑھنے کی برکت سے میں پیدا ہوا ہوں اور مجھے ہر مصیبت کے وَقْت تیری اِمداد پر مَامُوْر کیا گیا ہے۔ ([1])  

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

خوشی اور غم دُنیوی زندگی کے دو۲ اہم اور لازِمی جُز ہیں لیکن ان میں سے کسی کو دَوام  (ہمیشگی)  نہیں، ایک پَل مصیبت ہے تو دوسرے پَل راحت، کرتے کرتے یوں ہی عمر بسر ہو جاتی ہے۔ البتہ خوشی کے لمحات چاہے جس قدر بھی طویل ہوں غیر محسوس طور پر ایسے گزر جاتے ہیں گویا ایک آن کے لیے تھے۔ اس کے برعکس رنج ومصیبت کا چند پل کا وقفہ بھی صدیوں کی طرح محسوس ہوتا ہے۔ ایک عام انسان جس کی نظر فقط دنیا اور اس کی آسائشوں پر ہوتی ہے، تنگی وپریشانی اور آزمائش کی معمولی سی گھڑی بھی اس کے لیے سوہانِ روح  (اذیت ناک)  بن جاتی ہے اور وہ بےصبری کا مُظَاہَرہ کر بیٹھتا ہے مگر مؤمِنِ کامِل جو دنیا کی فانی آسائشوں کے دھوکے میں کھو کر آخرت کی یاد سے غافِل نہیں ہوتا، جس کا مقصد دُنیا اور اس کی رنگینیوں سے لطف اندوز ہونا نہیں بلکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے حبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی رضا وخوشنودی کا حُصُول ہوتا ہے، اس کی نظر میں ان مَصَائِب ومشکلات کی کچھ حیثیت نہیں ہوتی، وہ ہر مصیبت اور پریشانی کا خنداں پیشانی کے ساتھ اِسْتِقبال کرتا ہے اور صبر واستقامت کے سہارے ہر آزمائش میں پورا اُترتا ہے۔ یاد رکھئے!  ہمارا پیارا دینِ اسلام ہمیں اسی بات کی تعلیم دیتا ہے اور یہی ہمارے اسلاف کا طرزِ عمل رہا ہے۔

مدینہ میں آفتابِ رسالت کی تجلیاں

اُس وَقْت کی بات ہے جب سرزمینِ مدینہ آفتابِ رسالت، ماہتابِ نبوت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نُورانی تجلیوں سے مُنَوَّر ہونا شروع ہوئی، نور والے آقا، دو عالَم کے داتا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم اپنے جسمِ نورانی کے ساتھ یہاں جلوہ گر ہوئے اور اس کے در ودیوار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے نور کی شعاعوں سے جگمگانے لگے۔ یہ نورانی تجلیاں صِرْف ظاہِر پر ہی نہ پڑیں بلکہ باطِن تک بھی ان کا اثر پہنچا اور دلوں سے جاہلیت کی غیرت وحمیت اور قبائلی وعلاقائی عصبیت ختم ہو کر اس کی جگہ اسلامی محبت واُخُوَّت کا رشتہ قائم ہوا۔

ایک سعادت مند      گھرانا

اس پاک سر زمین میں آباد قبیلہ بنی نجار کا ایک سعادت مند گھرانا، صبر ورِضا کی پیکر باکردار، بلند حوصلہ اور نیک سیرت بی بی، ان کے جواں ہمت شوہر اور کم سن شہزادے بھی آفتابِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نورانی تجلیوں سے مُنَوَّر ہو چکے تھے۔ ”پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم بعض اوقات ان کے ہاں قدم رنجہ فرمايا  کرتے تھے  (جسے یہ اپنی خوش نصیبی جانتے ہوئے حسبِ اِسْتِطَاعَت خوب بڑھ چڑھ کر خدمت کرتے اور)  خاص آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے لیے کوئی چیز تیار کر کے بارگاہِ اقدس میں نذر پیش کرتے۔“ ([2])  ایک روز جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم تشریف لائے تو ان کے چند سال کے چھوٹے مدنی منّے کو جسے ابوعمیر کہہ کر پکارا جاتا تھا، دل شکستہ اور افسردہ حالت میں دیکھا۔ دَرْیَافت کرنے پر عرض کی گئی: یارسول اللہ  (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم) !  اس کی چڑیا مر گئی ہے جس کے ساتھ یہ کھیلا کرتا تھا۔ سرکارِ اقدس صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ان کے ساتھ خوش طبعی فرمایا کرتے تھے چنانچہ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کو ان کی اس حالت کے بارے میں بتایا گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان کی دل جُوئی کرتے ہوئے فرمایا: يَا اَبَا عُمَيْرٍ، مَاتَ النُّغَيْرُ، اَتَى عَلَيْهِ الدَّهْرُ یعنی اے ابو عمیر!  چڑیا مر گئی، اس کا وَقْت آ گیا تھا۔ ([3])  دوسری رِوَایَت میں ہے کہ آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ان سے فرمایا: یَا اَبَا عُمَیْرٍ، مَا فَعَلَ النُّغَیْرُ ابوعمیر!  چڑیا کا کیا ہوا؟  ([4])  

 



[1]   القول البديع، الباب الثانى فى ثواب الصلوة على رسول الله صلى الله عليه وسلم، ص١٢٧.

[2]   المعجم الاوسط، باب الالف، باب من اسمه ابراهيم، ٢ / ٦٦، حديث:٢٥٣٥.

[3]   مسند ابى داود،  ما اسند انس بن مالك الانصارى، الافراد ، ٣ / ٦٠٦، حديث:٢٢٦١.

[4]   مسند امام احمد، مسند انس بن مالك  رضى الله تعالٰى عنه، ٥ / ٣٢١، حديث:١٢٤٦٦.



Total Pages: 20

Go To