Book Name:Faizan e Bibi Maryam

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ علٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

فیضانِ بی بی مریم  (رَحْمَۃُ اللّٰہِ تَعَالٰی عَلَیْہَا)

دُرُود شریف کی فضیلت

سرکارِ عالی وقار، محبوبِ رَبِّ غفّار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عافیت نشان ہے: قیامت کے روز اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَرْش کے سِوا کوئی سایہ نہ ہو گا، تین۳ شخص اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے عَرْش کے سائے میں ہوں گے:  (۱) ...وہ شخص جو میرے اُمَّتی کی پریشانی دُور کرے  (۲) ... میری سنّت زندہ کرنے والا  (۳) ...مجھ پر کثرت سے دُرود پڑھنے والا۔ ([1])  

؎     نبی کی شان میں ہو جس قدر دُرود پڑھو

مُحِبّو! پاؤ گے جنت میں گھر دُرود پڑھو

بچاوے تم کو جو دوزخ سے ایسے مُحْسِن پر

سدا   سلام   کہو   عُمْر   بھر   دُرود  پڑھو ([2])

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب!      صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

باب اوّل:

وِلادت اور تَعَارُف

انبیائے کِرَام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی دعوت و       تبلیغ

حضرت سیِّدنا موسیٰ کَلِیمُ اللہ عَلٰی نَبِیِّنَا وَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو دنیا سے پردۂ ظاہِری فرمائے صدیاں بِیت چکی تھیں، آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے بعد بہت سے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام تشریف لائے جنہوں نے لوگوں کو شِرک وکفر سے باز رہنے کی تلقین کی، خدائے واحِد ویکتا کی عِبادت کی طرف بلایا،انہیں بداعمالیوں کے بُرے انجام سے خبردار کیا اور نیک اعمال کی جزا وثواب سے مُتَعَلِّق بتا کر بہت ساروں کو اعمالِ حسنہ کا پیکر بنایا۔

زمانے کے اُتار چڑھاؤ

اس دوران زمانے نے بہت اُتار چڑھاؤ دیکھے؛  کبھی حضرت سیِّدنا داود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی مسحور کُن اور دلوں کو چُھو لینے والی مُبَارک آواز کے کرِشمات کا نظارہ کیا جسے سُن کر انسان  اور جانور مدہَوش ہو جاتے، چَرند پَرند پناہ گاہوں سے باہر آ جاتے، شِیر خوار  (دودھ پیتے)  بچے رونا بھول کر ہمہ تن گوش  (یعنی پوری طرح مُتَوجِّہ)  ہو جاتے اور اس مُبَارک آواز کے سوز وگُداز میں ڈوب کر کئی افراد کی روح قفسِ عنصری سے پرواز کر جاتی اور کبھی ان کے مُقَابَلے میں شیطان بھی نظر آیا جس نے سَعَادت مندوں کے اس پاکیزہ و پُرنور اجتماع میں رَخْنَہ (فساد)  ڈالنے اور لوگوں کو راہِ ہِدایَت سے گم راہ کرنے کے لئے بانسری وطنبورہ ایجاد کیا اور محفلِ موسیقی جما کر شَرِیر وبدبخت لوگوں کو اپنا پیروکار بنایا؛  پھر حضرت سیِّدنا سلیمان عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی اس عظیم اور بےمثال سلطنت کا منظر بھی نظر آیا جب آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی سَطْوَت وہیبت سے جِنَّات بھی تھرتھرا اُٹھتے تھے، چَرند پَرند حیوانات اور جمادات تک آپ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے تاِبع فرمان تھے؛  اس کے عِلاوہ بہت ساری قوموں کے عُرُوج وزوال کی داستانیں بھی محفوظ کیں ...اور... اب حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا عہدِ مُبَارک ہے۔ اسی دَور کی بات ہے.....

تذکرۂ ولادت و پروَرِش

خاندانِ بنُو ماثان بنی اِسرائیل کے سرداروں، بادشاہوں اور عُلَما کا خاندان تھا۔ ([3])  حضرت سیِّدنا عِمران بن ماثان رَحۡمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیۡہِ اسی عالی رُتبہ خاندان کے چشم وچراغ تھے، بہت مُتَّقی و پرہیزگار اور صالِح مرد تھے، بنی اسرائیل کے سرداروں میں آپ کا شُمار ہوتا تھا۔ حضرت سیِّدنا زَکَریَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کے ہم زُلْف بھی تھے یعنی ان کی زوجہ محترمہ حضرت سیِّدنا زَکَرِیَّا عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کی زوجہ محترمہ کی بہن تھیں۔ باوجود یہ کہ ان کی شادی کو عرصۂ دراز ہو چکا تھا، ابھی تک اولاد کی نعمت سے بہره وَر



[1]   البدور السافرة،باب الاعمال الموجبة لظل العرش   الخ، ص٩٣.

[2]   نورِ ایمان، ص۵۶، ملتقطًا.

[3]   تفسير الخازن،پ٣، آلِ عمران، تحت الآية: ٣٥، ١ / ٢٣٩.



Total Pages: 34

Go To