Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

جواب     100سے زائد قدیم وجدید ،  دینی ،  ادبی اور سائنسی علوم پر امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کو دسترس حاصل تھی۔([1])

سوال      امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی تصنیفات کی تعداد بیان کیجئے؟

جواب     امام اہلسنت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے کم و بیش 1000کتابیں تحریر فرمائیں۔([2])

سوال      اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شہرۂ آفاق کتابوں میں سے کچھ کے نام بتائیں۔

جواب     (۱)قرآن کریم کا ترجمہ بنام ”کنز الایمان فی ترجمۃ القرآن“(۲)فقہ حنفی کا انسائیکلو پیڈیا بنام ”العطایا النبویۃ فی الفتاوی الرضویۃ“ جو ۳۳ جلدوں پر مشتمل ہے۔(۳)فقہ حنفی کی مشہور کتاب فتاویٰ شامی پر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے حواشی بنام ”جد الممتارعلی رد المحتار“ جو مکتبۃ المدینہ سے 7جلدوں میں شائع ہوچکے ہیں۔(۴) شہرۂ آفاق نعتیہ کلام کا مجموعہ ”حدائق بخشش“۔

سوال      امام اہلسنت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے اپنی مشہور کتاب ”الدولۃ المکیہ“ کتنے گھنٹوں میں تصنیف فرمائی ؟  

جواب     اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نےیہ کتاب اپنی خداداد یادداشت کے بل پر تفاسیر، احادیث اور کتب ائمہ کی اصل عبارتوں کے حوالہ جات نقل فرماتے ہوئےصرف ساڑھے آٹھ گھنٹے کے قلیل وقت میں تصنیف فرمائی۔([3])

سوال   اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کی شان میں ڈاکٹر اقبال نے کیا کہا تھا؟

جواب   شاعرمشرق ڈاکٹر اقبال نے کہا: ہندوستان کے دورِ آخر میں ان جیسا طباع وذہین فقیہ پیدا نہیں ہوا۔ میں نے ان کے فتاویٰ  کے مطالعہ سے یہ رائے قائم کی ہے اور ان کے فتاویٰ ان کی ذہانت،  فطانت،  جودتِ طبع،  کمالِ فقاہت اور علومِ دینیہ میں تبحرِ علمی کے شاہد عدل ہیں۔([4])

سوال   امام اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ   کی سیرت کی کچھ جھلکیاں بیان کریں؟

جواب   آپ رَحْمَۃُاللہِ تعالٰی علیہ اکثر فِراقِ مصطفٰے صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  میں غمگین رہتے اورسَرد آہیں بھرا کرتے۔غُرَبا کو کبھی خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے تھے،  بلکہ آخِری وَقْت بھی عزیز واقارِب کو وصیّت کی کہ غُرَبا کا خاص خیال رکھنا۔آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  اکثر تصنیف وتالیف میں لگے رہتے۔پانچوں نمازوں کے وَقْت مسجِد میں حاضر ہوتے اور ہمیشہ نمازباجماعت ادا فرمایا کرتے،  آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی خُوراک بَہُت کم تھی۔([5])

سوال   اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کی کوئی کرامت بیان کیجئے؟

جواب   جنابِ سیِّدایوب علی شاہ صاحِب رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  فرماتے ہیں کہ میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  ایک بار پِیلی بِھیت سے بریلی شریف بذرِیعۂ  رَیل جارہے تھے۔ راستے میں نواب گنج کے اسٹیشن پرجہاں گاڑی صرف دو مِنَٹ کے لیے ٹھہرتی ہے،  مغرِب کا وَقت ہوچکا تھا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  نے گاڑی ٹھہر تے ہی تکبیر اقامت فرما کر گاڑی کے اندر ہی نیّت باندھ لی،  غالباً پانچ شخصوں نے اقتِداکی ان میں میں بھی تھا لیکن ابھی شریکِ جماعت نہیں ہونے پایا تھا کہ میری نظر غیر مسلم گارڈ پر پڑی جو پلیٹ فارم پر کھڑا سبز جھنڈی ہلا رہا تھا ، میں نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا کہ لائن کلیر تھی اور گاڑی چھوٹ رہی تھی،  مگرگاڑی نہ چلی اور حضوراعلیٰ حضرت نے باطمینانِ تمام بِلا کسی اضطِراب کے تینوں فَرض رَکعتیں ادا کیں اور جس وقت دائیں جانب سلام پھیرا تھا گاڑی چل دی ۔ مقتدیوں کی زَبان سے بے ساختہ سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ سُبْحٰنَ اللہ  نکل گیا ۔ اِس کرامت میں قابلِ غور یہ بات تھی کہ اگر جماعت پلیٹ فارم پر کھڑی ہوتی تو یہ کہا جاسکتا تھا کہ گارڈ نے ایک بُزُرگ ہستی کو دیکھ کر گاڑی روک لی ہوگی ایسا نہ تھا بلکہ نَماز گاڑی کے اندر پڑھی تھی۔ اِس تھوڑے وَقت میں گارڈ کو کیا خبر ہو سکتی تھی کہ ایک اللہ عَزَّ  وَجَلَّ   کا محبوب بندہ فریضۂ نَماز گاڑی میں ادا کرتا ہے۔([6])

سوال   وہ کونسی چیز تھی جس کااظہار اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ  کے ہر قول وفعل سے ہوا کرتا تھا؟

جواب   عشقِ مصطفیٰ اور حمایتِ مذہب۔

سوال      اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے پیر ومرشد کا نام بتائیں نیز آپ کوخلیفہ بناتے وقت آپ کے پیر ومرشد نےکیا ارشادفرمایا تھا؟

جواب     آپ کے پیرومرشد حضرت شاہ آلِ رسول رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ ہیں اور آپ نے ارشادفرمایا: میں متفکر تھا کہ اگر قیامت کے دن رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ آلِ رسول!  تو دنیا سے میرے لیے کیا لایا؟  تو میں کیا جواب دوں گا؟  اَلْحَمْدُ لِلّٰہ! آج وہ فکر دور ہوگئی مجھ سے رب تعالٰی جب یہ پوچھے گا کہ آلِ رسول !  تو دنیا سے میرے لیے کیالایا؟  تو میں مولانا احمد رضا کو پیش کردوں گا۔([7])

سوال      اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکا وصال کب ہوا تھا؟

جواب     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے۲۵ صفر۱۳۴۰ھ مطابق۲۸اکتوبر ۱۹۲۱عیسوی کو جمعۃ المبارک کے دن۲ بجکر۳۸ منٹ پر عین اذان جمعہ کے وقت وصال فرمایا۔([8])

امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَـرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ    

سوال      امیر اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی ولادت کس سنِ ہجری میں ہوئی؟

 



2   عقیدۂ ختم نبوت، ص۱۵۹۔

3   فیضان اعلیٰ حضرت، ص۵۶۶۔

1   سوانح  اما م احمد رضا، ص۳۰۵۔

2    امام احمد رضا اور رد بدعات ومنکرات، ص۳۷۰۔

3   تذکرۂ امام احمد رضا، ص۱۳-۱۴، ملتقطاً ۔

1   تذکرۂ امام احمد رضا، ص۱۵-۱۶۔

1   فیضان اعلیٰ حضرت، ۳۱۷۔

2   سوانح امام احمد رضا، ص۳۸۸۔



Total Pages: 99

Go To