Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

بن مالک بن اُہیب بن عبدِ مناف ہو اور جو اس کے علاوہ کوئی اور نسب تمہاری طرف منسوب کرے اس پراللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی لعنت ہو۔([1])

سوال   حضرت سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کے لیے زبانِ رسالت سے کیا دعا  نکلی؟

جواب   امامُ الانبیاءوالمرسَلینصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اِن کے لیے یوں دُعا فرمائی: اے اللہ عَزَّ  وَجَلَّ! سعد جب بھی تجھ سے دُعا کرے تو اُس کی دُعا قبول فرما۔([2])

           فائدہ: اس دعائے نبوی کی برکت سے حضرت سیدنا سعد بن ابی وقاص رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ مُستجابُ الدعوات بن گئے اور اُن کی ہردعا قبول ہوتی تھی، اس سے متعلق واقعات جامع کراماتِ اولیا میں مذکور ہیں۔([3])

 

سوال     حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی کنیت کیا ہے؟

جواب    آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی مبارک کنیت ’’ اَبُوالْاَعْوَرْ ‘‘ ہے۔([4])

سوال حضرت سیدنا سعید بن زید رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے کس کس غزوے میں شرکت فرمائی؟

جواب آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ غزوۂ بدر کے علاوہ اُحد،  خندق وغیرہ تمام غزوات میں شریک ہوئے۔([5])

سوال     کونسے صحابی کے سر پر رحمتِ عالمیاں ، سردارِ دوجہاں صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے خود عمامہ شریف کا تاج سجایا تھا؟

جواب    حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ ۔([6])

سوال     حضور جانِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کس نماز میں حضرت سیدنا عبد الرحمٰن بن عوف رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کی اِقتدا فرمائی تھی؟

جواب    نمازِ فجرمیں۔([7])

صحابۂ کرام رِضْوَانُ اللّٰہ ِتَعَالٰی عَلَیْہِمْ اَجْمَعِیْن 

سوال     صحابی کسے کہتے ہیں؟

جواب    صحابی سے مراد جن واِنس میں سے ہر وہ فرد ہے جس نے ایمان کی حالت میں حضور نبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے ملاقات کی اور اسلام کی حالت میں ہی اُسے موت آئی ۔([8])

سوال      قرآن پاک میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کی کیا صفات بیان فرمائی گئی ہیں؟

جواب   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتاہے: ) مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰهِؕ-وَ الَّذِیْنَ مَعَهٗۤ اَشِدَّآءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَآءُ بَیْنَهُمْ تَرٰىهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا یَّبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا٘-سِیْمَاهُمْ فِیْ وُجُوْهِهِمْ مِّنْ اَثَرِ السُّجُوْدِؕ-(  (پ۲۶، الفتح: ۲۹) ترجمۂ کنز الایمان: محمداللہکے رسول ہیں اور ان کے ساتھ والے کافروں پر سخت ہیں اور آپس میں نرم دل تو انہیں دیکھے گا رکوع کرتے سجدے میں گرتے  اللہ کا فضل و رضا چاہتے ان کی علامت ان کے چہروں میں ہے سجدوں کے نشان سے۔

سوال      قرآنِ پاک میں صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو کیاخوشخبری سنائی گئی ہے ؟

جواب     صحابۂ کرام عَلَیْہِمُ الرِّضْوَان کو رضائے الٰہی اور جنت کی خوشخبری سنائی گئی ہے،  ارشادِ باری تعالٰی ہے: (رَّضِیَ اللّٰهُ عَنْهُمْ وَ رَضُوْا عَنْهُ وَ اَعَدَّ لَهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ تَحْتَهَا الْاَنْهٰرُ خٰلِدِیْنَ فِیْهَاۤ اَبَدًاؕ-ذٰلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ(۱۰۰)) (پ۱۱، التوبۃ: ۱۰۰) ترجمۂ کنز الایمان: اللہان سے راضی اور وہاللہسے راضی اور ان کے لئے تیار کر رکھے ہیں باغ جن کے نیچے نہریں بہیں ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں یہی بڑی کامیابی ہے۔

سوال      حضور رحمتِ عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم  نے اپنے اصحابِ کرام کے متعلق کیا ارشاد فرمایا؟

جواب   رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے  کئی مواقع پر حضراتِ صحابۂ کرام کی اہمیت وشان  بیان فرمائی، چندفرامینِ مُقَدَّسہ ملاحظہ فرمائیے: (1)” میرے صحابہ کی عزت کرو کہ وہ تمہارے نیک ترین لوگ ہیں۔“([9])(2)”میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کی بھی پیروی کروگے ہدایت پاجاؤ گے۔“([10]) (3)” اگر تم میں کوئی اُحدپہاڑ کے برابرسونا خیرات کرے تو اس کا ثواب میرے کسی صحابی کے ایک مد(تھوڑی مقدار) بلکہ آدھا مد خیرات کرنے کے برابر بھی نہیں ہوسکتا ۔“([11])

سوال   حدیثِ مبارکہ میں دشمنانِ صحابہ کے متعلق کیا وعیدآئی ہے؟

 



2   مستدرک، کتاب معرفة الصحابة، باب ذکر مناقب ابی اسحاق بن ابی وقاص، ۴/ ۶۲۸، حدیث:۶۱۴۶۔

3   ترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب ابی اسحاق سعد ...الخ، ۵/ ۴۱۸، حدیث: ۳۷۷۲۔

4   جامع کرامات الاولیاء، سعد بن ابی وقاص رضی الله عنه، ۱/ ۱۳۷۔

1   ترمذی، ابواب المناقب، باب مناقب عبد الرحمن بن عوف رضی الله عنه، ۵/ ۴۱۶، حدیث: ۳۷۶۹۔

2   مستدرک، کتاب معرفة الصحابة، باب ذکر مناقب سعید بن زید رضی الله عنه، ۴/ ۵۴۶، حدیث:۵۹۰۷۔

3   ابو داود، کتاب اللباس، باب فی العمائم، ۴/ ۷۷، حدیث: ۴۰۷۹۔

4   مسلم، كتاب الطھارة، باب المسح علی الناصیة و العمامة، ص۱۶۰، حدیث: ۲۷۴۔

1   حدیقۃ ندیہ ، شرح مقدمةالکتاب ، ۱/۱۳۔

1   مشکاۃ المصابیح، کتاب المناقب، باب مناقب الصحابة، ۲/۴۱۳، حدیث:۶۰۱۲۔



Total Pages: 99

Go To