Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

میں حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی رائے کے موافق احکام موجود ہیں۔([1])

سوال   حدیثِ پاک میں شانِ فاروق اعظم کس طرح بیان کی گئی ہے ؟

جواب   احادیثِ طیّبہ میں حضرت سَیِّدُنَا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے کثیرفضائل وارد ہیں جن میں ایک عظیم فضیلت  حضور نبی کریم ، رءُوف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے یوں بیان فرمائی: ”اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر ہوتا۔“([2])

سوال   حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی  کنیت و لقب کیا ہے اور آپ کب پیدا ہوئے؟

جواب   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی کنیت ”ابو حفص“ اور لقب ”فاروق“ ہے۔آپ عامُ الفیل کے تیرہ سال بعد مطابق ۵۸۳عیسوی پیدا ہوئے۔([3])

سوال   حضرت سیدنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو مُرادِ رسول کیوں کہتے ہیں؟

جواب   حضوررَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے عزتِ اسلام کے لیے آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکو بارگاہِ الہٰی سے مانگا تھااور یوں دعا فرمائی تھی: ”اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! خصوصاً عمر بن خطاب کے ذریعے  اسلام کو عزت عطا فرما۔“([4])

سوال   حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے اسلام اور مسلمانوں کو کیسے تقویت پہنچائی؟

جواب   حضرت سیدنا فاروق اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے اسلام لانے کے بعدحضورنبیِّ مکرم،  شفیعِ معظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے مسلمانوں کے ساتھ مل کر حرمِ مکہ میں عَلانیہ نماز ادا فرمائی، یوں آپ کے قبولِ اسلام سے اسلام ومسلمانوں کو تقویت حاصل ہوئی۔([5])

سوال   حضرت سیدنا عمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکومُتَمِّمُ الْاَرْبَعِینکیوں کہتے ہیں؟

جواب   مُتَمِّمُ الْاَرْبَعِین کا مطلب ہے کہ40 کا عدد پورا کرنے والےچونکہ حضرت سیدناعمر فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ چالیسویں مسلمان تھے لہٰذا آپ کو اس لقب سے بھی یاد کیا  جاتاہے۔([6])

سوال   حضرت سیدنا عمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُخلیفہ کب بنے اور کتناعرصہ خلیفہ رہے؟

جواب   امیرالمومنین حضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ۲۲جمادی الاُخریٰ 13سنِ ہجری  بروز منگل منصبِ خلافت پر فائز ہوئے۔آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی خلافت دس سال، پانچ ماہ اور اکیس دن رہی۔([7])

سوال   سب سے پہلے ”امیر المومنین “کس  خلیفہ کو کہا گیا؟

جواب   سب سے پہلےحضرت سیدناعمر فاروق  اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کو امیر المومنین کہا گیا۔([8])

سوال   حضرت سیدنا عمرفاروقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرعایا کے ساتھ کیسا برتاؤ فرماتے؟

جواب   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکی عادتِ مبارَکہ تھی کہ اپنی رعایا کی ہروقت خبر گیری فرماتے رہتے،  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرات کے وقت مدینہ منورہ کا دورہ فرماتے اگر  کوئی حاجت مند دکھائی دیتا تو اس کی مدد کرتے۔([9])

سوال   دورِ فاروقی میں کتنے شہر فتح ہوئے اورکتنی مساجد تعمیر ہوئیں ؟

جواب   روضۃ الاحباب میں ہے کہ امیرالمومنین حضرت سیدنا فاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُکے دور میں ایک ہزارچھتیس(1036) شہر مع مَضافات فتح ہوئے، چار ہزار(4000) مساجد کی تعمیر ہوئی۔([10])

سوال   دورِ فاروقی کی کثیر فتوحات کا اندازہ کس چیز سے لگایا جاسکتا ہے؟

جواب   حضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کے مبارک دور میں مسلمانوں کی کثیر فتوحات کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ آپ کے عہد ِخلافت میں  سلطنتِ اسلامیہ میں 13لاکھ نو ہزار پانچ سو ایک مربع میل کا اضافہ ہوا۔([11])

سوال   حضرت سیدناعمررَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت کب ہوئی  اور آپ کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی؟

جواب نمازِ فجر میں ابولؤ لؤ فیروز مجوسی کے حملے کے نتیجہ میں 63 سال کی عمر میں یکم محرم الحرام ۲۴سنِ ہجری کوحضرت سیدناعمربن خطابرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی شہادت ہوئی اور آپ کی نمازَجنازہ حضرت



1   سیرۃ حلبیۃ، باب الھجرۃ  الاولی الی ارض الحبشۃ   الخ، ۱/۴۷۴۔

2   ترمذی، کتاب المناقب، باب فی مناقب ابی حفص   الخ، ۵/ ۳۸۵، حدیث:۳۸۰۶۔

3   تاریخ الخلفاء، ص۱۰۸- ۱۱۴۔

1   ابن ماجہ، کتاب السنۃ، فضل عمر بن الخطاب، ۱/ ۷۷ ، حدیث:۱۰۵۔

2   طبقات ابن سعد، ومن بنی عدی بن کعب بن لؤی، عمر بن الخطاب،  ۳/۲۰۴۔

3   نوادر الاصول، الاصل الحادی والاربعون والمائتان، ۲/۹۱۵، تحت رقم:۱۲۰۹۔

4   طبقات ابن سعد، عمر بن الخطاب، ۳/۲۰۸- ۲۷۸، رقم:۵۶۔

1   الادب المفرد ، باب التسلیم علی الامیر، ص۲۶۴، رقم:۱۰۲۳۔

2   فیضان فاروق اعظم ، ۲/ ۱۲۰-۱۲۴۔

3   فتاوی رضویہ ، ۵/۵۶۰۔

4   فیضان فاروق اعظم، ۲/۶۸۶۔



Total Pages: 99

Go To