Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

جواب     ”بعدِ انبیاء ومُرسَلین(اِنس ومَلك)تمام مخلوقاتِ الٰہی اِنس وجن و مَلَک (فرشتوں) سے افضل صدیقِ اکبر ہیں، پھر عمر فاروق، پھر عثمانِ غنی ، پھر مولیٰ علی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ۔“([1])

سوال      خلیفۂ اول کا نام ، کنیت اور لقب  کیا ہے،  نیز آپ کب پیدا ہوئے؟

جواب     خلیفۂ اول جانشینِ پیغمبر امیر المؤمنین حضرت صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ کا نامِ نامی ’’ عبداللہ ‘‘ ، کنیت ’’ ابوبکر ‘‘ اورلقب ’’ صدیق وعتیق ‘‘ ہے، آپ عامُ الفیل کے دو  سال چھ ماہ بعد پیدا ہوئے۔([2])

سوال      آپ کے لقب ”صدیق“اور”عتیق“کی وجہ بیان کریں نیز یہ القاب آپ کو کس نے دئیے؟

جواب     دونوں القابات آپ کو بارگاہِ رسالت سے عطا ہوئے ۔واقعۂ معراج کی تصدیق کرنے کے سبب آپ کو صدّیق کہا گیا جبکہ عتیق کہنے کی وجہ یہ ہے کہرسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےایک مرتبہ  آپ کو فرمایا: ”اَنْتَ عَتِیْقٌ مِّنَ النَّارِ یعنی تم جہنم سے آزاد ہو۔“تب سے آپ کو عتیق کہاجانے لگا۔([3])

سوال      ان شخصیت کا نام بتائیے جنہوں نے آزادمَردوں میں سب سے پہلے اسلام قبول فرمایا؟

جواب     حضرت سَيّدُنا ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ۔([4])

سوال      پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے والہانہ عقیدت ومحبت اور آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی جانثاری کی کچھ جھلک بتائیے؟

جواب     جس وقت کفار آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی جان کے دشمن تھے اُس وقت  آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا دفاع کرنا اور آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ہمراہ مدینہ کی طرف ہجرت کرنا ،  غارِ ثَور میںسانپ کے ڈسنے پر صبر کرنا یونہی تمام غزوات میں سرکار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے جدانہ ہونا اور اپنے گھر کا سارا مال حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی خدمت میں پیش کرنا یہ سب باتیں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے والہانہ عقیدت ومحبت اور آپ کی جانثاری کی ایک بڑی  جھلک ہیں۔([5])

سوال   صدیقِ اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کب منصبِ خلافت پر متمکن ہوئےاور کتنا عرصہ خلیفہ رہے ؟

جواب   صدیق اکبر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُرسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکے وصال کے دن 12ربیع الاول بروز پیر11سن ہجری کو منصبِ خلافت پر متمکن ہوئے۔ آپ کی مدتِ خلافت دو سال ، تین ماہ اور کچھ اَیّام تھی۔([6])

سوال   خلیفہ بننے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے سب سے پہلا کام کیا فرمایا؟

جواب   خلیفہ بننے کے بعد آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نےحضرت اُسامہرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی سرکردگی میں رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے بھیجےگئے اُس لشکر کو   روانہ کیا جوآپصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے وصال کے سبب مقامِ جرف پر ٹھہرا ہواتھا۔([7])

سوال   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے دورِ خلافت میں جو نمایاں کارنامے سر انجام دئیے ان میں سے کچھ بیان کریں؟

جواب   آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے اپنے دورِ خلافت میں بہت سے  نمایاں کارنامے سر انجام دئیے جن میں سے چند یہ ہیں: (۱)منکرینِ زکوٰۃ کی سرکوبی(۲)مرتدین کی سرکوبی(۳)جھوٹے مدعیٔ نبوت مسیلمہ کذّاب کی سرکوبی (۴)عراق وشام اور اس کے ملحقہ علاقوں میں فتوحات کا آغاز اور (5)جمعِ قرآن  جو سب سے اہم کارنامہ ہے۔([8])

سوال   آپ کے خلافت کے دور میں مسلمانوں کو کیا کیا فتوحات ملیں؟

جواب   آپ کے خلافت کے دور میں مسلمانوں کو بہت سی فتوحات حاصل ہوئیں جن میں سے چند یہ ہیں: (۱)فتحِ حِیْرَہ(۲)فتحِ اَنبار(۳)فتحِ عَیْنُ التَّمر(۴)فتحِ دُوْمَۃُ الْجَنْدَل(۵)فتحِ اُرْدُن اور (۶)فتحِ اَجْنادَیْن وغیرہ۔منکرینِ زکوٰۃ اور مرتدین کے خلاف فتوحات اس کے علاوہ ہیں۔([9])

سوال   آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال کب ہوا اور آپ کی نمازِ جنازہ کس نے پڑھائی؟

جواب   آپرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا وصال۲۲ جمادی الاخری۱۳سن ہجری بمطابق ۲۳ اگست ۶۳۴عیسوی بروز منگل ہوا  اور آپ کی نمازِ جنازہ حضرت سَيّدُنا عمر فاروق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنے پڑھائی۔([10])

 

سیدناعمر فاروق اعظم رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ

سوال   کس صحابی کی رائے کے موافق قرآنِ پاک کی کئی آیتیں نازل ہوئیں؟

جواب وہ صحابی حضرت سَیِّدُنَا عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ ہیں جن کی رائے کے موافق تقریباً20آیاتِ طیّبہ نازل ہوئیں۔حضرت سَیِّدُنَا علی المرتضٰی کَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم فرماتے ہیں: بے شک قرآنِ کریم



4   بہار شریعت، حصہ۱، ۱/ ۲۴۱۔

1    ابن حبان، کتاب اخبارہ  عن مناقب۔۔۔الخ، ذکر السسب۔۔۔الخ، ۹/ ۶، حدیث:۶۸۲۵، سیرت حلبیہ، ذکر اول الناس ایمانابہ،  ۱/۳۹۰۔ریاض النضرۃ، ۱/ ۷۷، الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ۴/۱۴۵ ۔فیضان صدیق اکبر، ص۳۳۔

2   ابن حبان، کتاب اخبار عن مناقب الصحابۃ، ۹/۶۔

الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ، ۸/ ۳۳۲۔مستدرک ، ۴/ ۲۵، حدیث:۴۵۱۵ ۔

3   ترمذی، کتاب المناقب، باب مناقب علی بن ابی طالب، ۵/۴۱۱، حدیث:۳۷۵۵۔