Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

جواب     رسولِ اکرم، شاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جہنم  کا ایک دروازہ ہے جس سے وہی لوگ داخل ہوں گے جن کا غصہ اللہعَزَّوَجَلَّکی ناراضی پرہی ختم ہوتا ہے۔([1])

سوال      حضرت حسن بصری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِی غصیلے شخص کے لئے کیا فرماتے ہیں ؟

جواب     آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں : اے آدمی! غصے میں تو خوب اچھلتا ہے ،  کہیں اب کی اچھال تجھے دوزخ میں نہ ڈال دے۔([2])

سوال      اگر غصے کے سبب گناہ سرزد ہوجاتا ہو  توکیا علاج کیا جائے؟

جواب     ایسے شخص کو چاہئے کہ ہرنَماز کے بعد بِسم اللّٰہِ الرَّحمٰنِ الرَّحیم21 بارپڑھ کر اپنے اوپر دم کرلے ۔([3])

 سوال     کس خوش نصیب کا دل سکون وایمان سے بھردیا جاتا ہے؟  

جواب     حدیثِ پاک میں ہے کہ”جس شخص نے غُصّہ ضَبط کرلیاباوُجُود اس کے  کہ وہ غُصّہ نافِذ کرنے پرقُدرت رکھتا تھا اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اُس کے دل کوسُکون وایمان سے بھر

 

دےگا۔“([4])

سوال   کیا غصے کا علاج کرنا ضروری ہے ؟

جواب   جی ہاں، حجۃ الاسلام  حضرت سیدنا امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِی فرماتے ہیں : غصے کا علاج کرناواجب ہے کیونکہ  بہت سارے لوگ غصے کے باعث جہنم میں جائیں گے۔([5])

سوال   حدیث مبارکہ میں غصے کی آگ بجھانے کا کیا طریقہ بیان کیاگیا  ہے؟

جواب   حضور صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے: بیشک غصہ شیطان کی طرف سے ہے اور شیطان آگ کی پیدا ئش ہے اور آگ پانی سے بجھتی ہے لہٰذا جب تم میں سے کسی کو غصہ آئے تو وہ وضو کرلیا کرے۔([6])

سوال   کیا غصے کی عادت نکالنے کے لئے کوئی روحانی علاج بھی ہے ؟

جواب   جی ہاں ، غصے کی عادت ختم کرنے کے لیے یہ دو ورد کیے جاسکتے ہیں : (۱)چلتے پھرتے کبھی کبھی یَااَللہُ یَارَحْمٰنُ یَارَحِیْمُ کہہ لیا کرے۔(۲)چلتے پھرتے یَا اَرْحَمَ الرَّاحِمِیْن پڑھتا رہے ۔([7])

سوال   جب  غصے میں  اپنے آپ پرقابونہ ہورہا ہو  تو خودکو کیسے سمجھائیں؟

جواب   ایسے وقت میں خود کویوں سمجھائیں کہ  مجھےدوسروں پراگرکچھ قدرت حاصلبھی ہےتو اس سےبےحد زیادہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ مجھ پرقادرہے، اگرمیں نے غُصّے میں آکرکسی کی دل آزاری یاحق تلفی کرڈالی توقِیامت کےروزاللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے غضب سے میں کس طرح محفوظ رہ سکوں گا۔ ([8])

تکبُّر

سوال      تکبر کسے کہتے ہیں؟

جواب     حق کی مخالفت اور لوگوں کو حقیر جاننے کا نام تکبر ہے۔([9])

سوال      تکبر سے بچنے کی کیا فضیلت ہے؟

جواب     حضور نبی کریم  صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو شخص تکبر، خِیانت اور دَین (یعنی قرض وغیرہ)سے بَری ہوکر مرے گا وہ جنّت میں داخل ہوگا۔([10])

سوال      تکبر کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب     (۱)اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے مقابلے میں تکبر(۲)اللہ  عَزَّ  وَجَلَّ کے رسولوں کے مقابلے میں تکبر(۳)بندوں کے مقابلے میں تکبر۔([11])

سوال      ’’ تکبر ‘‘ کے اسباب بیان کریں؟

جواب     (۱)علم(۲)عمل (۳)حسب ونسب (۴)حسن وجمال (۵)طاقت وقوت (۶) مال            ودولت اور (۷)پیروکاروں کی کثرت۔([12])

سوال      کیا علم کی بھی کوئی آفت ہے؟

 



2   کنزالعمال، کتاب الاخلاق، ۳/۲۰۸، حدیث:۷۷۰۳۔

3   احیاء العلوم، ۳/۲۰۵۔

4   غصے کا علاج ، ص ۳۰۔

1   جامع صغیر ، ص۵۴۱، حدیث: ۸۹۹۷۔

2   کیمیائے سعادت ، ۲/ ۶۰۱۔

3   ابوداود، کتاب الادب ، باب مایقال عند الغضب، ۴/۳۲۷، حدیث: ۴۷۸۴۔

4   غصے کا علاج ، ص ۳۰۔

1   غصے کا علاج ، ص۱۵۔

2   مسلم، کتاب الایمان، باب تحریم الکبر وبیانہ، ص۶۰، حدیث: ۹۱۔

3   ابن ماجہ، کتاب الصدقات، باب التشدید فی الدین، ۳/۱۴۴، حدیث: ۲۴۱۲۔

4   احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، الشطر الاول، بیان المتکبر علیہ ودرجاتہ    الخ، ۳/۴۲۴۔

1   احیاء العلوم، کتاب ذم الکبر والعجب، الشطر الاول، بیان ما بہ التکبر ، ۳/۴۲۶۔



Total Pages: 99

Go To