Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

جواب   (۱)جب بات کرے جھوٹ بولے(۲) جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے اور(۳) جب اس کے پاس امانت رکھی جائے خیانت کرے۔([1])(۴)ایک روایت میں یہ بھی ہے کہ جب جھگڑا کرے تو گالی دے۔([2])

سوال   سچا انسان  کس رتبے کا اور جھوٹا کس وعیدکا مستحق ہوتا ہے؟

جواب   پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: سچائی کو لازم کرلو،  کیونکہ سچائی نیکی کی طرف لے جاتی ہے اور نیکی جنت کا راستہ دکھاتی ہے آدمی برابر سچ بولتا رہتا ہے اور سچ بولنے کی کوشش کرتا رہتا ہے،  یہاں تک کہ وہ اللہ کے نزدیک ’’ صدیق ‘‘  لکھ دیا جاتا ہےاورجھوٹ سے بچو،  کیونکہ جھوٹ فجور (برائیوں) کی طرف لے جاتا ہے اور فجور جہنم کا راستہ دکھاتا ہے اورآدمی برابر جھوٹ بولتا رہتا ہے اور جھوٹ بولنے کی کوشش کرتا ہے،  یہاں تک کہ اللہ عَزَّوَجَلَّکے نزدیک  ’’ کذّاب ‘‘ لکھ دیا جاتا ہے۔([3])

 

سوال      جھوٹ کی بدبو سے فِرِشتہ کتنا دور ہوجاتا ہے؟

جواب     حضور نبیٔ رحمت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب بندہ جھوٹ بولتا ہے تو اُس کی بدبو سے فِرِشتہ ایک میل دور ہوجاتا ہے۔([4])

سوال      جھوٹ،  حسد،  چغلی اور غیبت والے دوزخ میں کس  شکل کے ہوں گے ؟

جواب     حضرت سیدنا حاتِم اَصَم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم فرماتے ہیں : جہنم میں  جھوٹا کتے کی شکل میں، حسد کرنے والا سور کی شکل میں ، چغل خوراورغیبت کرنے والا بندر کی شکل میں بدل جائے گا۔([5])

سوال      حدیثِ مبارکہ میں کن مواقع پر جھوٹ بولنے کی اجازت آئی ہے؟

جواب     (۱)جنگ کی صورت میں کہ یہاں اپنے مقابل کو دھوکا دینا جائز ہے(۲)دو مسلمانوں کے درمیان صلح کرانےاور(۳)اپنی بیوی کوراضی کرنے کیلئے۔([6])

سوال      جھوٹی گواہی دینے والے کے لئے کیا وعید(سزا دئیے جانے  کا  فرمان) ہے ؟

جواب     حضرت عبدُاللہ بن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُماسے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا ’’  جھوٹے گواہ کے قدم ہٹنے بھی نہ پائیں گے کہ اللہ تعالٰی اُس کے لیے جہنم واجب کر دے گا۔([7])

سوال      جھوٹا خواب سنانے کی  کیاوعیدہے ؟

جواب     جناب رسولِ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: جھوٹاخواب سنانے والے کو جَوکے دودانوں میں گانٹھ لگانے کی تکلیف دی جائے گی جووہ  نہیں کر سکے گا۔([8]) اور ایک حدیث پاک میں جھوٹا خواب گھڑ کر سنانے والے کو جنت کی خوشبو سے محرومی کی وعید سنائی گئی ہے۔([9])

بغض وکینہ

سوال       کینہ کی تعریف کیا ہے ؟

جواب     کینہ یہ ہے کہ انسان اپنے دل میں کسی کو بوجھ جانے، اس سے غیر شرعی دشمنی و بغض رکھے، نفرت کرے اور یہ کیفیت ہمیشہ ہمیشہ باقی رہے۔([10])

سوال      بغض و کینہ رکھنے کاشریعت میں کیا  حکم ہے؟

جواب     کسی بھی مسلمان کے متعلق بلاوجہ شرعی اپنے دل میں بغض و کینہ رکھنا ناجائز و گناہ ہے۔ عارِف بِاللہ علامہ عبدالغنی نابلسی حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَنِی فرماتے ہیں: اگر حق و انصاف  کی بات کرنے کے سبب کسی سے بغض وکینہ رکھے تو حرام ہے اور اگرکسی سے اُس کے ظلم کے سبب بغض رکھے تو جائز ہے۔([11])

سوال      اَحادیثِ کریمہ میں بغض وکینہ کا کیا نقصان بیا ن ہوا ہے؟

جواب     بغض وکینہ کے نقصانات پر مشتمل دو احادیثِ مبارکہ یہ بھی ہیں : (۱)جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ کینہ پَروَر ہے تو وہ جنت کی خوشبو نہ سونگھ سکے گا۔([12]) (۲) بغض ودشمنی  رکھنے سے بچو! کیونکہ بغض دین کو مونڈڈالتا (یعنی تباہ کردیتا ) ہے۔([13])

سوال    صحابۂ کرام سے بغض و کینہ رکھنا کیسا؟

جواب سخت حرام ہے ۔ صدرُ الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں : جو بد نصیب صحابہ کی شان میں بے ادبی کے ساتھ زبان کھولے وہ دشمنِ خدا و رسول ہے۔ مسلمان ایسے



2   بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱/۴۶، حدیث: ۳۳۔

3   بخاری، کتاب الایمان، باب علامۃ المنافق، ۱/۴۷، حدیث: ۳۴۔

4   مسلم، کتاب البر والصلۃ والآداب، باب قبح الکذب    الخ، ص۱۴۰۵، حدیث: ۲۶۰۷۔

1   ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في الصدق والکذب، ۳/۳۹۲، حدیث: ۱۹۷۹۔

2   تنبیہ المغترین، الباب الثالث، ومنہا سد باب الغیبۃفی الناس فی مجالسہم، ص۱۹۴ ۔

3   ترمذی، کتاب البر والصلۃ، باب ما جاء في إصلاح ذات البین، ۳/۳۷۷، حدیث:۱۹۴۵۔

4   ابن ماجہ، کتاب الاحکام، باب شہادۃ الزور، ۳/۱۲۳، الحدیث: ۲۳۷۳۔

1   بخاری ، کتاب التعبیر ، باب من کذب فی حلمہ، ۴/۴۲۲، حدیث:  ۷۰۴۲۔

2   جامع صغیر ، ص۲۱۴، حدیث:  ۳۵۳۲۔

3   احیاء العلوم، کتاب ذم الغضب والحقد والحسد، القول فی معنی الحقد۔۔الخ، ۳/۲۲۳۔

4   حدیقۃ ندیۃ، السادس عشرمن الاخلاق۔۔۔الخ، ۱/۶۲۹۔

5   حلیۃ الاولیاء ، ۸/۱۰۸ ، حدیث : ۱۱۵۳۶۔

1   کنزالعمال، کتاب الاخلاق، قسم الاقوال ، ۲/۲۸، الجزء: ۳، حدیث:۵۴۸۶۔



Total Pages: 99

Go To