Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

گناہِ کبیرہ ہے اور اگر بطور ہزل واستہزاء(یعنی ہنسی مذاق کے طور پر) ہو تو عَبَث(یعنی بےکار)و مکروہ و حماقت ہے،  ہاں!  اگر بقصدِ تعجیز(یعنی اسے عاجزکرنے کے لئے)ہو تو حرج نہیں۔([1])

سوال   مکان کی تبدیلی سے بدشگونی لینا کیسا؟

جواب   ایک شخص  نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکرعرض کی : یا رسو لَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!  ہم ایک مکان میں رہتے تھے ، اس میں ہمارے اہل و عیال کثیر اور مال کثرت سے تھا پھر ہم نے مکان بدلا  تو ہمارے مال اور اہل و عیال کم ہو گئے ۔حضور تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : چھوڑو !  ایسا کہنا بری بات ہے۔([2])

سوال   چھینک سے بدشگونی لینا کس کا طریقہ ہے ؟

جواب   مجدِّدِ اعظم ، امام اہلسنّت، اعلیٰ حضرت شاہ امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے فرمایا: چھینک اچھی چیز ہے ، اسے بد شگونی جاننا مشرکینِ ہند کا ناپاک عقیدہ ہے۔([3])

سوال    فال کھولنا یا فال کھولنے پر اُجرت لینے کا کیاحکم ہے؟

جواب   حکیمُ الاُمت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن لکھتے ہیں : فال کھولنا یا فال کھولنے پر اُجرت لینا یا دینا سب حرام ہے۔([4])

سوال   شریعت میں استخارے کی کیا اہمیت ہے؟

جواب   حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہارشاد فرماتے ہیں : رسو لِ اکرم نورِ مجسم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہم کو تمام امور میں استخارہ تعلیم فرماتے جیسے قرآن کی سورت تعلیم فرماتے تھے۔([5])

سوال   استخارہ کے کیا معنی ہیں؟

جواب   محدِّثِ کبیر،  حکیمُ الاُمت حضرت مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فرماتے ہیں : استخارہ کے معنی ہیں: خیر مانگنا یاکسی سے بھلائی کا مشورہ کرنا، چونکہ اس دعا و نماز میں بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سے گویا مشورہ کرتا ہے کہ فلاں کام کروں یا نہ کروں اسی لئے اسےاستخارہ کہتے ہیں۔([6])

سوال   حدیثِ پاک میں استخارے کی کیا فضیلت آئی ہے؟

جواب     حضورِ پاک ، صاحبِ لَولاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمانِ عالیشان ہے : جو استخارہ کرے وہ نقصان میں نہ رہے گا، جو مشاورت سے کام کرے وہ پشیمان نہ ہو گا اور جس نے میانہ روی اختیار کی وہ محتاج نہ ہو گا۔([7])

سوال      استخارہ چھوڑنے کا کیا نقصان ہے؟

جواب     نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا : بندے کی بد بختی میں سے ہے کہ وہ اللہ تعالٰی سے استخارہ کرنا چھوڑ دے ۔([8])

بدگمانی

سوال      بنیادی طور پر گُمان کی کتنی اقسام ہیں؟

جواب     بنیادی اعتبار سے گمان کی دواَقسام  ہیں: (۱)حُسنِ ظن(۲)سوءِ ظن (یعنی بدگمانی)۔

سوال      بدگمانی کی تعریف کیا ہے؟

جواب     بدگمانی سے مراد یہ ہے کہ بلادلیل دوسرے کے بُرے ہونے کا دل سے پختہ یقین کرنا۔([9])

سوال      بدگمانی کا شرعی حکم کیا ہے؟

جواب     مسلمان کے ساتھ بدگمانی حرام ہے۔([10])

سوال      قرآنِ پاک میں بکثرت گمان کی ممانعت  کس مقام پر فرمائی گئی ہے؟

جواب   کثرتِ گمان کی ممانعت قرآن پاک کے پارہ 26، سورۂ حجرات کی آیت نمبر 12میں فرمائی ہے جیسا کہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ٘-اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو بہت گمانوں سے بچو بیشک کوئی گمان گناہ ہوجاتا ہے۔

سوال   ظن یعنی گمان کسے کہتے ہیں؟

جواب   جس بات کی طرف نفس جھکے اور دل اس کی طرف مائل ہو اسے ظن (یعنی گمان) کہتے ہیں۔([11])

سوال      بدگُمانی کے حرام ہونے کی صورتیں کونسی ہیں؟

 



2   فتاوی رضویہ، ۲۱/۱۵۵۔

3   ادب الدنیا والدین، الفصل السادس فی الطیرة والفال، الطیرة مفزع الیائسین، ص۴۹۹۔

1   ملفوظات اعلیٰ حضرت، ص ۳۱۹۔

2   تفسیر نور العرفان، پ۷، المائدہ، تحت الآیۃ:۹۰ ، ص ۱۹۴۔

3   بخاری، کتاب التھجد، باب ماجاء فی التطوع مثنی مثنی، ۱/ ۳۹۳، حدیث: ۱۱۶۲۔

4   مرآۃ المناجیح، ۲/ ۳۰۱۔

1   مسند شھاب، باب ما خاب من استخار، ۲/ ۷، حدیث: ۴۷۴۔

2   ترمذی، کتاب القدر، باب ماجاء فی الرضابالقضاء، ۴/ ۶۰، حدیث: ۲۱۵۸۔

3   فیض القدیر، ۳/۱۵۷، ماخوذا۔

4   احیاء العلوم، کتاب آفات اللسان ، الآفۃ الخامسۃ العشرۃالغیبۃ، بیان تحریم الغیبۃ بالقلب، ۳/۱۸۶۔

1   احیاء العلوم، کتاب آفات اللسان ، الآفۃ الخامسۃ العشرۃالغیبۃ، بیان تحریم الغیبۃ بالقلب، ۳/۱۸۶۔



Total Pages: 99

Go To