Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

جواب     ایسا شخص بہت بڑا فاسق،  بڑا ہی بدبخت اور اللہ ربُّ العالمین کے سخت غضب اور بڑے عذاب کا مستحق اوردوزخ کی آگ کا حقدار ہے۔([1])

سوال      اگر بیٹا  ملک سے باہر ہواور والدین اسے بلائیں تو اس کیلئے کیا حکم ہے  ؟

جواب     اگر بیٹا ملک سے باہر ہواور والدین اسے بلاتے ہیں تو آنا ہی ہوگا، صرف خط لکھنا کافی نہ ہوگا، اسی طرح اگر والدین کو اس کی خدمت کی حاجت ہو تو آئے اور ان کی خدمت کرے۔([2])

سوال      والدہ کے پاؤں چومنے کی حدیث میں کیا فضیلت آئی ہے ؟

جواب     حدیثِ پاک میں ہے: ”جس نے اپنی والدہ کا پاؤں چوماتو ایسا ہے جیسے جنت کی چوکھٹ کو بوسہ دیا۔“ ([3])

سوال      والدین کو نظر رحمت سے دیکھنے کا کیا ثواب ہے ؟

جواب     حضور نبیِّ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جب اولاد اپنے والدین کی طرف نظرِرحمت کرے تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کے لیے ہر نظر کے بدلے حج ِمبرور کا ثواب لکھتا ہے۔ ([4])

سوال      کیا  کافر والدین کے ساتھ بھی  صلہ رحمی کی جائے گی؟

جواب   جی ہاں!  حضرت سیدتنا اسماء بنت ابو بکر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا فرماتی ہیں کہ زمانہ نبوی میں میرے پاس میری والدہ آئی جبکہ وہ مشرکہ تھی۔ میں نے  بارگاہِ رسالت میں عرض کی: میری ماں آئی ہے حالانکہ وہ مسلمان نہیں تو کیا پھر بھی میں اس سے صلہ رحمی کروں؟  رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: اپنی ماں سے صلہ رحمی کرو۔([5])

سوال   کیا والدین کا خلافِ شرع دیاگیا حکم ماننا پڑے گا ؟

جواب   نہیں۔حضورنبیِّ محترم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”لَا طَاعَۃَ فِیْ مَعْصِیَۃ ِ اللہِ“یعنی اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نافرمانی میں کسی کی اطاعت جائز نہیں۔([6])

سوال   اگر والدین ناراضی کی حالت میں فوت ہوجائیں تو اولاد کیا کرے؟

جواب   ان کے لیے بکثرت دعائے مغفرت کرے، اولاد کی طرف سے مسلسل نیکیوں کے تحائف پہنچیں گے تو امید ہے کہ  مرحوم والدین راضی ہو جائیں۔سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: کسی کے ماں باپ دونوں یا ایک کا انتقال ہوگیا اور یہ ان کی نافرمانی کرتا تھاتواب ان کے لیے ہمیشہ  دعاواستغفار کرتا ر ہتا ہے حتی کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کو (والدین کے ساتھ) حسن سلوک کرنے والالکھ دیتا ہے۔([7])

اولاد اور ان کے حقوق

سوال   لڑکی پیدا ہونے پرغم و رنج کا اظہارکرنا کس کا طریقہ ہے؟

جواب   قرآنِ کریم میں اِس کوکفار کا طریقہ قراردیا گیا ہے۔اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: (وَ اِذَا بُشِّرَ اَحَدُهُمْ بِالْاُنْثٰى ظَلَّ وَجْهُهٗ مُسْوَدًّا وَّ هُوَ كَظِیْمٌۚ(۵۸))(پ۱۴،   النحل: ۵۸)ترجمۂ کنز الایمان: اورجب ان میں کسی کوبیٹی ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تودن بھراس کامنہ کالارہتاہے اوروہ غصہ کھاتاہے۔

سوال   اہل ایمان کے لیے کس طرح کی  بیویاں اور اولاد دشمن ہیں؟

جواب وہ جوانہیں نیک کاموں سے روکیں۔ارشادِ باری تعالٰی ہے: ( یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْۚ-) (پ۲۸،  التغابن: ۱۴) ترجمۂ کنز الایمان: اے ایمان والو تمہاری کچھ بیبیاں اور بچے تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو ‘‘  اس آیت کے تحت صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مرادآبادی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْہَادِی لکھتے ہیں: (اس لئے)کہ(وہ) تمہیں نیکی سے روکتے ہیں اور ان کے کہنے میں آکر نیکی سے باز نہ رہو ۔([8])

سوال   عورت کی پہلی اولاد لڑکی ہونے  کی کیا فضیلت ہے؟

جواب   حضور نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: عورت کے لیے یہ بہت ہی مبارک ہے کہ اس کی پہلی اولاد لڑکی ہو۔([9])

سوال   کونسے انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی صرف بیٹیاں ہی تھیں؟

جواب   حضرت سَیّدنا لوط اور حضرت سَیّدنا شعیب عَلَیْہِمَا السَّلَام ۔([10])

سوال   امامِ اہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کے بیان کردہ اولاد کے حقوق میں سے کوئی پانچ بیان کیجئے ؟

جواب (۱)بچہ کو پاک کمائی سے پاک روزی  کھلائے(۲)اولاد کو چھوڑ کر اکیلے نہ کھائے بلکہ اپنی خواہش کو ان کی خواہش کے تابع رکھے(۳)چند بچے ہوں تو سب کو برابر و یکساں دے،  ایک کو دوسرے پر دینی



1   فتاوی رضویہ، ۲۴/۴۰۲ملخصاً۔

2   رد المحتار، کتاب الحظر والاباحۃ، فصل فی البیع، ۹/۶۷۸۔

3   در مختار، کتاب الحظر والاباحۃ، ۹/۶۰۶۔

4   مشکاۃ المصابیح، کتاب الآداب، باب البر والصلۃ، الفصل الثالث، ۲/۲۰۹، حدیث: ۴۹۴۴۔

1    بخاری، کتاب الھبۃ وفضلھا۔۔۔الخ، باب الہدیۃ للمشرکین، ۲/ ۱۸۲، حدیث:۲۶۲۰۔

2   مسلم، کتاب الامارۃ، باب وجوب طاعۃ الامراء۔۔۔الخ، ص۱۰۲۴، حدیث: ۱۸۴۰۔

3   شعب الایمان، باب فی بر الوالدین، فصل فی حفظ حق الوالدین بعد موتھما، ۶/۲۰۲، حدیث:۷۹۰۲۔

1   خزائن العرفان، پ۲۸، التغابن، تحت الآیۃ: ۱۴، ص۱۰۳۰۔

2   تاریخ ابن عساکر، العلاءبن کثیر، ۴۷/۲۲۵۔

1   تفسیر مدارک، پ۲۵، الشوری، تحت الآیۃ: ۵۰، ص۱۰۹۳۔



Total Pages: 99

Go To