Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

سوال   کیا توبہ و استغفار  سے عمر بڑھتی اور  رزق وسیع ہوتا ہے؟

جواب   جی ہاں! اخلاص کے ساتھ توبہ و استِغفار کرنا درازیٔ عمر (لمبی زندگی)و کشائشِ رزق(رزق میں وسعت) کے لئے بہتر عمل ہے ۔([1])

سوال   سچی توبہ کی علامت   کیا ہے ؟

جواب   سچی توبہ وہ ہےجس کا اثر توبہ کرنے والے کے اعمال میں ظاہر ہو اوراس کی زندگی طاعتوں اور عبادتوں سے معمور ہوجائے اور وہ گناہوں سے مُجتَنِب(بچا) رہے۔([2])

علم کے فضائل

سوال   حدیث شریف میں علم کی کیا اہمیت بیان ہوئی ہے ؟

جواب   حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے روایت ہے حضورنبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔([3])

سوال   ہر مسلمان پر کتنا علم سیکھنا فرض ہے؟

جواب   ہر مسلمان عاقل و بالغ مردو عورت پر اُس کی موجودہ حالت کے مطابق مسئلے سیکھنا فرضِ عَین ہے۔ اِسی طرح ہر ایک کیلئے مسائلِ حلال و حرام بھی سیکھنا فرض ہے۔نیز مسائلِ علمِ قلب یعنی فرائضِ قَلْبِیَہ(باطِنی فرائض) مثلاً عاجزی و اِخلاص اور توکُّل وغیرہا اوران کو حاصل کرنے کا طریقہ اور باطِنی گناہ مثلاًتکبُّر، ریاکاری، حسد وغیرہا اوران کا علاج سیکھنا ہرمسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔([4])

سوال   علم حاصل کرنے کی بہترین عمر کیا ہے؟

جواب   علم حاصل کرنے کی بہترین عمر جوانی ہے کہ حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں: اللہ تعالٰی کسی نبی کو نہیں بھیجتا مگر اس حال میں کہ وہ جوان ہوتا ہے اور کسی کو جو علم دیاجاتا ہے اس کے لئے بہتر زمانہ یہ ہے کہ وہ جوان ہو۔([5])

سوال   علم کی طلب میں نکلنے والے کی کیا فضیلت ہے؟

جواب   اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے حبیب،  حبیبِ لبیب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: جو علم کی تلاش میں نکلا وہ اپنے لَوٹنے تک راہِ خدا میں ہے۔([6])

سوال   انبیائے کرام عَلَیْہِمُ السَّلَام کی میراث کیا  ہےاور اُن کے وارث کون ہیں؟

جواب   حدیثِ پاک میں ہے : بے شک علما حضراتِ انبیائے کرام  عَلَیْہِمُ السَّلَام کے وارث  ہیں اورحضراتِ انبیائے کرام  عَلَیْہِمُ السَّلَامدرہم ودینار کا نہیں علم کا وارث بناتے ہیں  تو جس نے اسے لیا اُس نے بہت بڑا حصہ پالیا۔([7])

سوال   عالمِ دین کی توہین کرنےکاشرعی حکم کیا ہے؟

جواب   اگر عالِم کو اس لئے برا کہتاہے کہ وہ عالِم ہے جب تو صریح کافر ہے اور اگر بوجہ علم اس کی تعظیم فرض جانتاہے مگر اپنی کسی دُنْیَوی خُصُوْمَت کے باعث برا کہتاہے گالی دیتاتحقیر کرتاہے تو سخت فاسق فاجر ہے اگر بے سبب رنج رکھتاہے تو مریضُ القلب خبیثُ الباطن ہے اور اس کے کفر کا اندیشہ ہے۔([8])

سوال   حدیثِ پاک میں عالِم کی گستاخی پر کیا وعید آئی ہے؟

جواب   حضورمُعَلِّمِ کائنات، شاہِ موجودات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: تین آدمیوں کی تحقیر نہیں کرتا مگر منافق: ایک وہ جسے اسلام میں بڑھاپا آیا،  دوسراعلم  والااورتیسرا عادل بادشاہِ اسلام۔([9])

سوال   کس کی تعظیم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تعظیم  ہے؟

جواب   حضور تاجدارِرسالت صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشادفرمایا: بوڑھےمسلمان،  قرآن میں تجاوُز نہ کرنے والے عالِم  اور انصاف کرنے والے بادشاہِ اسلام کی تعظیم اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی تعظیم کا ایک حصہ ہے۔([10])

سوال   کس علم کی آرزو کرنی چاہئے؟

 



1   خزائن العرفان، پ۱۱، ہود ، تحت الآیۃ:۳ ، ص ۴۱۵۔

2   خزائن العرفان، پ۲۸، التحریم، تحت الآیۃ:۸ ، ص ۱۰۳۸۔

3   ابن ماجہ، کتاب السنۃ، باب فضل العلماء والحث علی طلب العلم، ۱/۱۴۶، حدیث:۲۲۴۔

1   فتاویٰ رضویہ، ۲۳/۶۲۴ ، ملخصاً۔

2   الفقیہ والمتفقہ، باب التفقہ فی الحداثۃ   الخ، ۲/ ۱۷۷، رقم:۸۱۴۔

3   ترمذی، کتاب العلم، باب فضل طلب العلم، ۴/۲۹۴، حدیث:۲۶۵۶۔

4   ابو داود، کتاب العلم، باب الحث علی طلب العلم، ۳/۴۴۴، حدیث:۳۶۴۱۔

1   فتاویٰ رضویہ، ۲۱/۱۲۹۔

2    معجم کبیر، عبید اللہ بن زحر    الخ ، ۸/۲۰۲، حدیث:۷۸۱۹۔

3   ابو داود، کتاب الادب، باب فی تنزیل الناس منازلہم، ۴/۳۴۴، حدیث:۴۸۴۳۔



Total Pages: 99

Go To