Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

سوال   بندے کو کب ”شکرکرنے والا“ کہا جائے گا ؟

جواب   بندہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّکی نعمتوں کا استعمال فرمانبرداری میں کرے توشکر کرنے والا ہو گاکیونکہ اپنے مالک ومولاعَزَّ وَجَلَّکی مرضی کے موافق کام کیااور اگر اس کی نافرمانی میں  استعمال کرے  تو ناشکرا کہلائے گا۔([1])

سوال   حدیثِ پاک میں کھاکر شکر اداکرنے والے کے لئے کیا فرمایا گیا ہے؟

جواب   حدیثِ پاک میں ہے: کھاکرشکر ادا کرنے والا صبر کرنے والے روزہ دار کی طرح ہے۔([2])

توبہ و اِستغفار

سوال   توبہ  کس چیز کا نام ہے ؟

جواب   توبہ گناہوں سےاللہ تعالٰی کی بارگاہ میں رجوع کا نام ہے ۔([3])

سوال   توبہ کا کیا حکم ہے؟

جواب     جُوں ہی گناہ صادِر ہو فوراً توبہ کر لینا واجِب ہے خواہ صغیرہ گُناہ ہی کیوں نہ ہو۔  ([4])

سوال      کفر سے توبہ کب تک قبول ہے؟

جواب     جب تک روح گلے تک نہ آجائے قبول ہے ۔([5])

سوال      توبہ کے ارکان کتنے ہیں ؟ اُن کی وضاحت کیجئے ؟

جواب     توبہ کے تین رکن ہیں: (۱)اعتِرافِ جرم(۲)نَدامت(۳)عزمِ ترک (یعنی اِ س گناہ کو ترک کر دینے کا پکّا ارادہ)اگر گُناہ قابلِ تَلافی ہو تو اِس کی تَلافی(یعنی نقصان کا بدلہ)بھی لازِم مَثَلاً تارِکُ الصَّلوٰۃ(یعنی بے نَمازی)کیلئے پچھلی نَمازوں کی قَضا بھی لازِم ہے۔([6])

سوال      توبہ میں تاخیر کا کیا نقصان ہے؟

جواب     آدمی گناہ کو مقدّم کرتا ہے اور توبہ کو مؤخر ،  یہی کہتا رہتا ہے: اب توبہ کروں گا،  اب عمل کروں گا، یہاں تک کہ موت آجاتی ہے اور وہ اپنی بدیوں میں مبتلا ہوتا ہے۔([7])

سوال      حضرتِ لقمان رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ نے بیٹے کو توبہ کے متعلق کیا  نصیحت فرمائی ؟

جواب     حضرتِ سیدنا لقمان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّاننے اپنے بیٹے  سے فرمایا: اے جانِ پدر!  توبہ میں تاخیر نہ کرنا  کیونکہ موت اچانک آجاتی ہے  جو توبہ کی طرف سبقت نہیں کرتا اور آج کل پر ٹالتا رہا وہ بڑے خطرات میں  مبتلا ہوگا ۔([8])

سوال   توبہ کس پرلازم ہے؟

جواب   توبہ ہر فردِ بشر پرلازم ہے۔([9])

سوال   ہر فردِ بشر کوتوبہ کا حکم  کیوں ہے؟

جواب   کیونکہ کوئی آدمی قصور سے خالی  نہیں، جب آدمی اعضاء  کے گناہ سے  محفوظ  رہے تو دل کے ارادے سے نہیں  بچتا ، اگر دل میں بھی ارادہ نہ ہو  تو وسوسۂ شیطان سے نہیں بچ پاتا کہ وہ خیالات دل میں ڈالتا رہتا ہے جن سے یادِ الہی میں غفلت ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ یہ سب نقصان ہی ہیں،  اصلِ نقصان  کسی طریقے سے ہو  ہر ایک میں موجود ہے، البتہ مقدارِ نقصان میں فرق ہے۔([10])

سوال   بابرکت جگہوں میں جا کر توبہ  کرنا کیسا ہے ؟

جواب   مقاماتِ متبرکہ جو رحمتِ الٰہی کے مُورِد(اترنے کی جگہ) ہوں وہاں توبہ کرنا اور طاعت بجالانا ثمراتِ نیک(اچھا نتیجہ)اورسرعتِ قبول(جلدی  قبول ہونے) کا سبب ہوتا ہے۔([11])

سوال   کیا توبہ سے تمام چھوٹے بڑے گناہ معاف ہو جاتے ہیں ؟

جواب   جی ہاں !  گناہ خواہ صغیرہ ہوں یا  کبیرہ،  جب بندہ ان سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تبارَکَ  و  تعالٰی اپنے فضل و رحمت سے ان سب کو معاف فرماتا ہے۔([12])

 



2   احیاء العلوم ، کتاب الصبر والشکر، ۴/ ۱۰۹۔

3   ترمذی، کتاب صفۃ القیامۃ، باب :۴۳، ۴/۲۱۹، حدیث:۲۴۹۴۔

4   احیاء العلوم ، کتاب التوبۃ، ۴/۳۔

1   شرح نووی ، جز:۱۷، ۹/ ۵۹۔

2   ابن ماجہ، ۴/ ۴۹۲، حدیث:۴۲۵۳۔مرقاۃ المفاتیح، ۵/۱۷۴، تحت الحدیث:۲۳۴۳۔

3   غیبت کی تباہ کاریاں، ص۲۹۹۔ خزائن العرفان، پ۱، البقرہ ، تحت الاٰیۃ : ۳۷، ص۱۶۔

4   خزائن العرفان، پ۲۹، القیامۃ، تحت الآیۃ:۵، ص ۱۰۷۰۔

5   احیاء العلوم ، کتاب التوبۃ، ۴/۱۵۔

1   احیاء العلوم ، کتاب التوبۃ، ۴/۱۱-۱۲۔

2   احیاءالعلوم ، کتاب التوبۃ، ۴/۱۲۔

3   خزائن العرفان، پ۱، البقرۃ،  تحت الآیۃ: ۵۸ ، ص ۲۱۔

4   خزائن العرفان، پ۹، الاعراف ، تحت الآیۃ: ۱۵۳ ، ص ۳۱۹۔



Total Pages: 99

Go To