Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

جواب   جی ہاں، مَروی ہے: اس قوم پر رحمتِ الٰہی کا نزول نہیں ہوتا جس میں قاطعِ رحم ہو۔([1])

سوال   جن رشتہ داروں کے ساتھ صلۂ رحمی واجب ہے وہ کون ہیں ؟

جواب   بعض علما نے فرمایا: وہ ذُو رحم مَحرم ہیں  اور بعض نے فرمایا: ”اس سے مراد ذو رحم([2])ہیں ، محرم ہوں  یا نہ ہوں۔“اور ظاہر یہی قولِ دوم ہے۔([3])

صبر و شکر

سوال   صبرکسے کہتے ہے ؟

جواب   نفس کو اس چیز پر روکنا جس پر رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو یا نفس کو اس چیز سے باز رکھنا جس سے رکنے کا عقل اور شریعت تقاضا کررہی ہو صبر کہلاتا ہے۔([4])

سوال   صبر کی کتنی اَقسام  ہیں ؟

جواب   بنیادی طور پر صبر کی دو قسمیں ہیں : (۱)بدنی صبرجیسے بدنی مشقتیں برداشت کرنا اور ان پر ثابت قدم رہنا۔(۲)طبعی خواہشات اوراُن کے تقاضوں سے صبر کرنا۔پہلی قسم کا صبر جب شریعت کے موافق ہوتو قابلِ تعریف ہوتا ہے لیکن مکمل طور پر تعریف کے قابل صبر کی دوسری قسم ہے۔([5])

سوال   کس صبر کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے؟

جواب   تکلیف دِہ فعل جو شرعاً ممنوع ہے اس پر صبرکی ممانعت ہے۔ مثلاً کسی شخص یا اس کے بیٹے کا ہاتھ ناحق کاٹا جائے تو اس شخص کا خاموش رہنا اور صبر کرنا،  یونہی کوئی شخص شہوت سے مغلوب ہوکر بُرے ارادے سے اس کے گھر والوں کی طرف بڑھے تو اس کی غیرت بھڑک اٹھے لیکن غیرت کا اظہار نہ کرے اور گھروالوں کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس پر‏صبرکرے،  شریعت نے اس صبر کو حرام قرار دیا ہے۔([6])

سوال   کس چیز سے صبر کرنا  ہر آدمی پر فرض ہے؟

جواب   ممنوعاتِ شرعیہ  سے صبر کرنا  (رُکنا) ہر آدمی پر فرض ہے۔([7])

سوال   شُکر کسے کہتے ہیں؟

جواب   کسی کے احسان و نعمت کی وجہ سے زبان،  دل یا اَعضاء کے ساتھ اس کی تعظیم کرنا شکر کہلاتا ہے۔([8])

سوال      نعمتوں پر شکرادا کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب     اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنا واجب ہے۔([9])

سوال      شکر کرنے پر اللہتعالٰی نے بندوں سے کیا وعدہ فرمایا ہے؟

جواب     اللہ تعالٰی نے بندوں کے شکر پر نعمت میں اضافے کاوعدہ فرمایا۔ارشادِ باری تعالٰی ہے: (لَىٕنْ شَكَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّكُمْ) (پ۱۳، ابراھیم: ۷)ترجمۂ کنزالایمان: اگر احسان مانو گے تو میں تمہیں اور دوں گا۔

سوال      اہلِ جنت  اپنی گفتگوکاآغاز کس بات سے کریں گے ؟

جواب     حجۃ الاسلام امام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ الِیفرماتےہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےجنت والوں کی گفتگو کے آغاز میں ”شکر“کو رکھاہے، ارشادِ باری تعالٰی ہے: (وَ قَالُوا الْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِیْ صَدَقَنَا وَعْدَهٗ)(پ۲۴، الزمر: ۷۴)ترجمۂ کنزالایمان: اوروہ کہیں  گے سب خوبیاں اللہ کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا۔([10])

سوال      نعمت کا اظہار کرنا کیسا ہے؟  

جواب     اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کی نعمت کا اِظہار  اِخلاص کے ساتھ ہو تو یہ بھی شکر ہے۔حضور نبی ٔ کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ارشاد فرماتے ہیں : اللہ کو پسند ہے کہ بندے پر اُس کی نعمت ظاہر ہو ۔([11])

سوال        کیا عیدِ میلاد النبی صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم منانا  بھی شکر گزاری ہے؟

جواب   جی ہاں، صدرُالافاضل نعیم الدین مرادی آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْھَادِی فرماتے ہیں: عیدِ میلاد منانا جائز ہے کیونکہ یہ اللہ تعالٰی کی سب سے بڑی نعمت  کی یادگار  و  شکر گزاری ہے ۔([12])

 



2   معجم کبیر، خطبۃ ابن مسعود  و من کلامہ، ۹/۱۵۸، حدیث:۸۷۹۳۔

3   جن کا رشتہ بذریعہ ماں  باپ کے ہو اُسے ’’ذِی رِحم ‘‘کہتے ہیں ، یہ تین طرح کے ہیں : ایک باپ کے قرابت دار جیسے دادا، دادی ، چچا، پھوپھی وغیرہ ، دوسرے ماں  کے جیسے نانا، نانی، ماموں  ، خالہ، اَخیافی بھائی (یعنی جن کا باپ الگ الگ ہو اور ماں ایک ہو)  وغیرہ ، تیسرے دونوں  کے قرابت دار جیسے حقیقی بھائی بہن۔ (تفسیر نعیمی ، ۱/۴۹۷)

4   بہارِ شریعت، حصہ۱۶، ۳/۵۵۸۔

5   تفسیر صراط الجنان، پ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۵۳، ۱/ ۲۴۶۔

1   احیاءالعلوم، کتاب الصبر والشکر، ۴/۸۲۔

2   احیاء العلوم، کتاب الصبر والشکر، ۴/۸۵۔

3   احیاء العلوم ، کتاب الصبر والشکر، ۴/۸۵۔

4   تفسیر صراط الجنان، پ۱، الفاتحہ: تحت الآیۃ: ۱، ۱/ ۴۳۔

1   خزائن العرفان، پ۲، البقرۃ، تحت الآیۃ: ۱۷۲۔

2   احیاء العلوم ، کتاب الصبر والشکر، ۴/۹۹۔

3   ترمذی، کتاب الادب، ۴/ ۳۷۴، حدیث:۲۸۲۸۔

1   خزائن العرفان، پ۶، المائدۃ، تحت الآیۃ:۳، ص۲۰۸، ماخوذا۔



Total Pages: 99

Go To