Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

سوال   حُسنِ اخلاق کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟

جواب                ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں عرض کی: یارسولَ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم! میرےحُسنِ اخلاق کا زیادہ حق دار کون ہے؟  ارشادفرمایا: ”تمہاری ماں۔“ دوبارہ عرض کی: پھر کون؟ ارشاد فرمایا: ”تمہاری ماں۔“تیسری بارعرض کرنے پربھی یہی ارشاد فرمایا۔ چوتھی مرتبہ عرض کی: پھر کون؟ تو ارشاد فرمایا:  ’’ تمہارا  باپ،  پھر قریب والے کا زیادہ حق ہے پھر جو اس کے بعد قریبی ہو۔“([1])

خوفِ خدا

سوال   خوفِ خدا کا مطلب کیا ہے؟

جواب     اللہ تعالٰی کی بے نیازی ، اس کی ناراضی،  اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراجائے تو اُسے خوفِ خدا کہتے ہیں۔([2])

سوال   جوبارگاہِ الٰہی میں کھڑاہونے سے ڈرے اُس کے لیے کیا انعام ہے؟

 جواب    اللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشا دفرماتا ہے: (وَ لِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهٖ جَنَّتٰنِۚ(۴۶))(پ۲۷،  الرحمٰن: ۴۶) ترجمۂ کنزالایمان: اور جو اپنے رب کے حضور کھڑے ہونے سے ڈرے  اس کے لئے دو جنّتیں ہیں۔

سوال   حکمت کا سرچشمہ کیا ہے ؟

جواب     حدیث پاک میں ہے: ”حکمت کا سرچشمہ خوفِ خدا ہے۔“([3])

سوال   خوف کا کم سے کم درجہ کون سا ہے ؟

جواب     خوف کا کم سے کم درجہ جس کا اثر اعمال میں ظاہر ہویہ ہے کہ بندہ ان تمام کاموں سے باز آجائے جو شرعاً ممنوع ہیں۔ ([4])

سوال   سب سےکامل عقل والا کون ہے؟

جواب     حضورنبیٔ مُکَرَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”سب سے کامل عقلمند وہ ہے جو سب سے زیاہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکا خوف رکھنے والا ہو اور اللہ عَزَّوَجَلَّ نے جن چیزوں کے کرنے کا اور جن سے بچنے کا حکم دیا ہے ان میں سب  سے اچھی طرح غور کرنے والا ہو۔“([5])

سوال   جو دنیا میں بے خوف رہا آخرت میں اس کے ساتھ کیا ہوگا؟

جواب     حدیث ِپاک میں ہے کہ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے: میں اپنے بندے کے دل             میں دو خوف اوردو اَمن جمع نہیں کروں گا، اگروہ دنیا میں مجھ سے بے خوف رہا تو میں اُسے قیامت کے دن ڈراؤں گا اور اگر وہ دنیا میں  مجھ سے ڈرا تومیں  اُسے قیامت کے دن بے خوف کردوں گا۔([6])

سوال   خوفِ خدا سے رونگٹے  کھڑے ہونے کی کیا فضیلت ہے؟

جواب   حدیثِ پاک  میں ہے: جب اللہ عَزَّ  وَجَلَّکے خوف سے بندے کے  رونگٹے  کھڑے ہو جائیں تو اُس کے گناہ ایسے جھڑتے ہیں جیسے خشک درخت کے پتے جھڑتے ہیں ۔([7])

سوال   وہ کون ہیں کہ خوفِ خدا کے سبب اُن کے  سینے کی گڑگڑاہٹ ایک میل سے سنائی دیتی تھی؟

جواب   حضرت سیِّدُناابودرداءرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہفرماتے ہیں: حضرت سیِّدُناابراہیم خَلِیْلُ اللہ عَلَیْہِ السَّلَام جب  نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو خوفِ خدا کے سبب گِریہ وزاری سے سینے میں ہونے والی گڑگڑاہٹ ایک میل کے فاصلے سے سنائی دیتی۔([8])

سوال   وہ کون ہیں کہ خوفِ خدا میں بکثرت رونے کے سبب اُن  کالقب ہی اُن کا نام ہوگیا؟

جواب   حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام۔حکیم الامت مفتی احمد یارخان نعیمیرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: اپنے گناہوں پر نوحہ کرنا(رونا) عین عبادت ہے ، حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام خوفِ خدا میں اتنا روتے تھے کہ آپ کا لقب ہی نوح ہوگیاورنہ آپ کا نام یَشْکُرہے۔([9])

سوال   خوفِ خدا کے سبب رونے کی کیا فضیلت بیان ہوئی ہے؟

جواب     حضور سَرْوَرِ کَونَین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ”جس مؤمن بندے کی آنکھ سے خوفِ خدا کے باعث  مکھی کے پَر برابر آنسو چہرے پر بہہ نکلے تواللہ عَزَّ  وَجَلَّ اس کو دوزخ پر حرام فرما دیتا ہے۔“([10])

سوال   اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو کون سے دو قطرے سب سے زیادہ پسندیدہ ہیں؟

جواب     حدیثِ پاک میں ہے: ”اللہ عَزَّ  وَجَلَّکو خوفِ خدا میں  بہنے والے آنسوکا قطرہ اورراہِ خدا میں بہنے والے خون  کا قطرہ سب سے زیادہ پسند ہے۔“([11])

 



3   بخاری، کتاب الادب، باب من احق الناس بحسن الصحبۃ، ۴/ ۹۳، حدیث:۵۹۷۱۔

4   خوف ِخدا ، ص ۱۴۔احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، ۴/۱۹۱ماخوذاً۔

1   شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالٰی، ۱/۴۷۰، حدیث: ۷۴۳ ۔

2   احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء ، ۴/۱۹۲۔

3   مسند حارث، کتاب الادب، باب ماجاء فی العقل، ۲/۸۰۴، حدیث: ۸۲۰۔

1   زھد لابن مبارک، باب ماجاء فی الخشوع والخوف، ص۵۰،  حدیث: ۱۵۷۔

2   شعب الایمان ، باب فی الخوف من اللہ تعالٰی ، ۱/۴۹۱، حدیث:۸۰۳ ۔

3    احیاء العلوم ، کتاب الخوف والرجاء، ۴/ ۲۲۴۔

1   مراٰۃ المناجیح، ۲/۵۰۵۔



Total Pages: 99

Go To