Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

سوال   کیا سلام اُسی مسلمان کو کرے جسے پہچانتا ہے ؟  

جواب   نہیں !  بلکہ ہر مسلمان کو سلام کرے چاہے  پہچانتا ہو یا نہ پہچانتا ہو۔([1])

سوال   سلام کے جواب میں تاخیرکرنا کیسا؟

جواب   سلام  کا جواب فوراً دینا واجب ہے  ، بلا عذر تاخیر کی تو  گناہگار ہوگا ،  جواب کے ساتھ ساتھ توبہ بھی کرنی ہوگی صرف جواب سے گناہ معاف نہ ہوگا۔([2])

سوال   کیاخط میں لکھے سلام کا جواب بھی واجب ہے  اور وہ کس طرح دیا جائے؟

جوابخط میں لکھے ہوئے سلام کا بھی جواب دینا واجب ہے اوراس کے جواب کی دو صورتیں ہیں۔ ایک یہ کہ زبان سے جواب دے ،  دوسری صورت یہ ہے کہ سلام کا جواب لکھ کر بھیجے مگر چونکہ سلام کا جواب  فوراً دینا واجب ہےاورخط کا جواب فوراً ہی نہیں لکھا جاتا عموماً کچھ تاخیر ہو جاتی ہےلہٰذا زبان سے جواب فوراً دے دے،  تاکہ تاخیر کاگناہ نہ ہو۔([3])

سوال   کونسے اوقات میں سلام کرنا سنت ہے؟

جواب   حکیمُ الامت مفتی احمد یارخان  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فرماتے ہیں : تین وقت سلام کرنا سنت ہے: گھر میں آنے کی اجازت چاہتے وقت، ملاقات کے وقت اوررخصت کے وقت۔([4])

سوال   اگر خالی گھرمیں جانا ہو تو کس طرح سلام کرنا چاہیے؟

جواب   حضرت عَمرو بن دینار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّار فرماتے ہیں کہ اگر گھر میں کوئی  نہ ہو تو یوں کہو: اَلسَّلَامُ عَلَی النَّبِیِّ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ اَلسَّلَامُ عَلَیْنَا وَعَلٰی عِبَادِ اللّٰہِ الصّٰلِحَیْن۔حضرت علامہ علی قاری حنفی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِینے فرمایا: یہ اس لیے کہ مسلمانوں کے گھروں  میں حضوررحمت عالَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی روح مبارک تشریف فرما ہوتی ہے۔([5])

سوال   سلام کے جواب میں ’’ وَعَلَیْکُمُ السَّلَام وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہُ ‘‘ کہنے پر کتنی نیکیاں ملتی ہیں؟

جواب   حدیث شریف میں ہے کہ ایک شخص نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوکر عرض کی: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُم۔حضور اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سلام کا جواب عطا فرمایا ۔جب وہ شخص بیٹھ گیا توارشاد فرمایا: ”دس نیکیاں ہیں۔“پھر دوسرا شخص حاضر ہوا اورعرض کی: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ۔آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اسے بھی سلام کاجواب دیا۔ وہ بیٹھ گیا تو ارشاد فرمایا: ”بیس نیکیاں ہیں۔“پھر ایک اور شخص نے حاضر ہوکر عرض کی: اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ وَبَرَکَاتُہ۔پھر وہ بیٹھ گیا تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: ”تیس نیکیاں ہیں۔“([6])

سوال   انگلی یا ہتھیلی کے اشارے سے سلام کرنا کیسا ہے؟

جواب   انگلی یا ہتھیلی سے سلام کرنا ممنوع ہے۔ حدیث میں فرمایاکہ انگلیوں سے سلام کرنا یہودیوں کا اورہتھیلیوں کے اشارے سے سلام کرنا نصاریٰ کا طریقہ ہے۔([7])

سوال   مصافحہ کا سنت طریقہ کیا ہے؟

جواب   اس طرح مصافحہ کرنا سنت ہے کہ دونوں ہاتھوں سے مصافحہ کیا جائے اور دونوں کے ہاتھوں کے مابین کپڑا وغیرہ کوئی چیز حائل نہ ہو۔([8])

سوال   ملاقات کے وقت کیا جانے والا کونسا عمل مغفرت کا سبب بنتا ہے ؟

جواب   فرمانِ مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمہے: ”جب دو مسلمان ملاقات کرتے وقت مصافحہ کرتے ہیں تو اُن دونوں کے جدا ہونے سے پہلے اُن کی مغفرت کردی جاتی ہے۔“([9])

سوال   ایک مؤمن کے دوسرے مؤمن پر کتنے حقوق ہیں؟

جواب   حضورنبیِّ مکرم، شفیعِ معظّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ایک مسلمان کے دوسرے مسلمان پرچھ حق ہیں: (۱)جب وہ بیمار ہو تو عیادت کرے (۲) جب وہ مرجائے تو اس کے جنازے میں حاضر ہو (۳)جب وہ  دعوت دے تو قبول کرے(۴)جب اس سے ملے تو سلام کرے (۵)جب  وہ چھینکے تو جواب دے اور (۶)حاضر و غائب اس کی خیر خواہی کرے۔([10])

چھینک اور جماہی

سوال   حدیث شریف میں چھینک کی کیا فضیلت اور جماہی  کی کیا مذمت آئی ہے؟

جواب   حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہے کہ حضور نبیٔ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے فرمایا: اللہتعالٰی کو چھینک پسند اور جماہی ناپسند ہے۔([11])

 



3   بہارِ شریعت ، حصہ ١٦، ۳ /۹ ۴۵۔

4   درمختار و رد المحتار ، کتاب الحظر والإباحة، فصل فی البیع، ۹/ ۶۸۳۔

1   بہارِ شریعت، حصہ ١٦، ۳/۴۶۳، ملخصاً۔

2   مرآۃ المناجیح، ۲/ ۴۰۴۔

3   شفا ، فصل فی المواطن التی یستحب۔۔۔الخ ، الجزء الثانی، ص ۶۷۔

شرح الشفاء، فصل فی المواطن التی یستحب ۔۔۔ الخ،  ۲/۱۱۸۔

1   ابو داود، کتاب الادب، باب کیف السلام ، ۴/ ۴۴۹، حدیث: ۵۱۹۵۔

2   ترمذی، کتاب الاستئذان والآداب، باب ما جاء  فی کراھیۃ اشارۃ الید بالسلام، ۴/۳۱۹، حدیث:۲۷۰۴۔

3   ردالمحتار، کتاب الحظر والاباحة، باب الاستبراء وغیرہ، ۹/ ۶۲۹۔

1   ابو داود ، کتاب الادب ، باب فی المصافحة، ۴ / ۴۵۳، حدیث: ۲۱۲ ۵۔

2   نسائی، کتاب الجنائز، باب النھی عن سب الاموات، ص۳۲۸، حدیث:۱۹۳۵۔

3   بخاری، کتاب الادب، باب اذا تثاوب فلیضع یدہ علی فیه، ۴/ ۱۶۳، حدیث:۶۲۲۶۔



Total Pages: 99

Go To