Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

سوال   عورت کو زیبائش وآرائش کے لئے مِسّی سیاہ(دنداسہ) لگانا کیسا ہے؟  

جواب   مِسِّی کسی رنگ کی ہو عورتوں کو علاجِ دنداں (دانتوں کے علاج کےلئے)یا شوہر کے واسطے آرائش کے لئےمطلقاًجائز بلکہ مستحب ہے۔ صرف حالتِ روزہ میں لگانا منع ہے۔([1])

سوال   کیا عورت جوڑا باندھ سکتی ہے؟

جواب   جی ہاں باندھ سکتی ہے ۔([2])

سوال   عورت کا اپنے شوہر کے لئے بناؤ سنگار کرنا کیسا ؟  

جواب   اعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں: عورت کا اپنے شوہر کے لئے گَہنا(زیور) پہننا،  بناؤ سنگارکرنا باعثِ اجر ِعظیم اور اس کے حق میں نمازِ نفل سے افضل ہے۔ ([3])

سوال   مرد کا اپنی بیوی کے لئے جمال اختیار کرنا کیسا؟  

جواب   حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں: بلاشُبہ میں اپنی بیوی کے لئے زینت اختیار کرتا ہوں جس طرح وہ میرے لئے بناؤ سنگھار کرتی  ہے اور مجھے یہ بات پسند  ہے کہ میں وہ تمام حُقُوق اچھی طرح حاصل کروں جو میرے اُس پر ہیں اوروہ بھی اپنے حُقُوق حاصل کرے جو اس کے مجھ پر ہیں۔([4])

سوال   کیا مرد زنانہ یا عورتیں مردانہ کپڑے یا جوتے پہن سکتے ہیں ؟

جواب   جی نہیں۔ حدیثِ مبارکہ میں ہے کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے عورتوں کی مشابہت اختيار کرنے والے زنانے مردوں اور مردوں کی مشابہت اختيار کرنے والی مردانی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے۔([5])

سوال   سرمہ کب لگانا سنت ہے؟

جواب   حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں: سنت یہ ہی ہے کہ رات کو سوتے وقت سرمہ لگائے۔ دن میں سرمہ لگانا جمعہ کی نماز کے لئے، عیدین کے لئے سنت ہے،  یوں ہی عاشورہ کے دن اور روزانہ شب کو سنت ہے۔([6])

سوال   مرد اور عورت کی خوشبو میں کیا فرق ہونا چاہیے ؟

جواب   حدیث مبارکہ میں ہے : مردانہ خوشبو وہ ہے کہ اس کی خوشبو تو ظاہر ہو مگر رنگ ظاہرنہ ہواور زنانہ خوشبو وہ ہے کہ اس کا رنگ تو ظاہر ہومگر خوشبو ظاہر نہ ہو ۔([7])

سوال   کیا مکان میں جاندار کی تصویر آویزاں کرسکتے ہیں ؟

جواب   جی نہیں ،  مکان میں جاندار کی تصویر آویزاں کرنا ناجائز ہے ۔([8])

سوال   میلاد شریف کی خوشی میں نیز اجتماعِ میلاد کیلئے زیب وزینت اختیار کرنا کیسا ہے؟

جواب   جائززینت  اختیار کرنا از خود جائز ہے اور اگر  پیارے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی ولادت باسعادت کی خوشی اور آپ کے مبارک ذکر کی تعظیم کی نیت سے ہو پھر تو اس عمل کا مستحب ہونا واضح ہے۔([9])علما فرماتے ہیں : بھلائی کے کاموں میں خرچ کرنے میں کوئی اسراف نہیں۔ جس چیز کے ذریعے سرکارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ذکر کی تعظیم مقصود ہووہ ہر گز ممنوع نہیں ہوسکتی ۔([10])

بیٹھنے سونے اورچلنے کے آداب

سوال   کسی کے آنے پراسکے بیٹھنے کیلئے جگہ کشادہ کرنے کی کیا فضیلت ہے؟

جواب   حضرت ابوموسیٰ اشعری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے: رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا: جب کوئی شخص کسی قوم کے پاس آئے اور اس کی خوشنودی کے لیے وہ لوگ جگہ میں وسعت کردیں تو اللہ عَزَّ  وَجَلَّ پر حق ہے کہ ان کو راضی کرے۔([11])

سوال   کس طرح کی چھت پر سونے کی ممانعت ہے؟

 



1   فتاوی رضویہ، ۲۳/۴۸۹۔

2   فتاوی رضویہ ، ۷/۲۹۸ماخوذا۔

3   فتاوی رضویہ ، ۲۲/۱۲۶۔

4   تفسیر قرطبی، پ ۲، البقرۃ،  تحت الآیۃ: ۲۲۸، ۲/۹۶۔

1    مسند امام احمد ، مسند ابی ہریرۃ، ۳ /۱۳۳ ، حدیث: ۷۸۶۰۔

2   مراٰۃ المناجیح، ۶/ ۱۸۰۔

3   ترمذی ، کتاب الادب ، باب ما جآء فی طیب الرجال والنساء، ۴/ ۳۶۱، حدیث :۲۷۹۶۔

4   فتاوی ھندیۃ ، کتاب الکراہیۃ ، الباب العشرون فی الزینۃ ، ۵/۳۵۹۔

1   فتاویٰ رضویہ۲۶/۵۵۳، ملخصاً۔

2   ملفوظات اعلیٰ حضرت، حصہ اول، ص۱۷۴، ملخصاً۔

3   کنز العمال، الجزء التاسع، کتاب الصحبۃ، قسم الاقوال، حق المجالس والجلوس، ۵/ ۵۸، حدیث:۲۵۳۷۰۔



Total Pages: 99

Go To