Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

جواب     جی ہاں کیونکہ حرام روزی سے وہی بچ سکے گا جسے حلال وحرام کا علم ہوگا۔ حضرت سَیّدُنا فاروقِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ نے حکم فرمادیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خریدوفروخت کریں جو فقیہ(یعنی  علم والے ) ہوں۔([1])

سوال      کس تاجر پر اللہ عَزَّ  وَجَلَّ غضب فرماتا ہے؟

جواب     وہ تاجر جو بہت قسمیں کھاکر اپنا مال بیچتا ہے۔([2])

سوال      عام مسلمانوں کی طرح کس چیز کا حکم پیغمبروں کو بھی دیاگیا؟

جواب   حضور امامُ الانبیا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشاد فرماتے ہیں: اللہ عَزَّ وَجَلَّنے مسلمانوں کو وہی حکم دیا ہے جو رسولوں کو حکم دیا، ارشادفرمایا: (یٰۤاَیُّهَا الرُّسُلُ كُلُوْا مِنَ الطَّیِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًاؕ-اِنِّیْ بِمَا تَعْمَلُوْنَ عَلِیْمٌؕ(۵۱)) (پ۱۸،  المؤمنون: ۵۱)  ترجمۂ کنز الایمان: ’’ اے پیغمبروپاکیزہ چیزیں کھاؤ اوراچھا کام کرو میں تمہارے کاموں کو جانتا ہوں۔ ‘‘ اورفرمایا: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ) (پ۲، البقرۃ: ۱۷۲) ترجمۂ کنزالایمان: اے ایمان والو کھاؤ ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں۔“([3])

سوال      بھیک مانگنے سے بچنے والوں کے لیے حدیث شریف میں کیا خوشخبری ہے؟

جواب     سرکار نامدار ، مدینے  کے تاجدارصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا فرمانِ جنت نشان ہے:  جو کوئی بھیک نہ مانگنے کا ضامن بن جائے میں اس کے لیے جنت کا ضامن ہوں۔([4])

سوال   سچا اور امانت دارتاجر قیامت میں کس کے ساتھ ہوگا؟

جواب   حدیث پاک میں ہے : سچا اور امانت دار تاجر نبیوں، صدیقوں اور شہیدوں کے ساتھ ہوگا۔([5])

سوال   ابوالبشر حضرت سَیّدُنا آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے کونسا پیشہ اختیار فرمایا؟

جواب   حضرت آدم عَلَیْہِ السَّلَام نے اولاً کپڑا بُننے کا کام کیا۔([6])  اور بعد میں کھیتی باڑی کو اختیار فرمایا۔([7])

سوال   حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کا ذریعۂ معاش کیا تھا؟

جواب   حضرت نوح عَلَیْہِ السَّلَام کاذریعہ ٔمعاش لکڑی کا کام(بڑھئی  کاپیشہ)تھا۔([8])

سوال   حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کا مبارک پیشہ کیا تھا؟

جواب   حضرت ابراہیم عَلَیْہِ السَّلَام کھیتی باڑی کیا کرتے تھے۔([9])

قرض اور سود

سوال   قرض دے کر اُس پر نفع لینا کیسا ہے ؟

جواب   امام اہلسنّت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان فتاویٰ رضویہ ، جلد17، صفحہ 713 پرفرماتے ہیں : قرض دینے والے کو قرض پر جو نفع وفائدہ حاصل ہووہ سب سود اور نرا حرام ہے۔حدیث میں ہے رسولُ اللہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمفرماتے ہیں: کُلُّ قَرْضٍ جَرَّ مَنْفَعَۃً فَھُوَ رِبًا۔قرض سے جو فائدہ حاصل کیا جائے وہ سود ہے۔([10])

سوال   قرآنِ کریم میں سود کی مذمت کے حوالے سے کیا ارشاد فرمایا گیا ہے؟

جواب   قرآنِ کریم  کی سورہ ٔبقرۃ  کی آیت 275تا279میں سود کی بھرپور مذمت فرمائی گئی ہےجس کا خلاصہ یہ ہے کہ سود کھانے والے بروزِ قیامت ایسے کھڑے ہوں گے جیسے آسیب زدہ شخص سیدھا کھڑا ہونے کی بجائے گرتے پڑتے چلتاہے، اللہ تعالٰی نے سود کو حرام  کیا ہے،  سود نہ چھوڑنے والا مدتوں دوزخ میں رہے گا اور اللہ عَزَّ  وَجَلَّ سود کو ہلاک(برکت سے محروم ) کرتا ہے   پس اگر تم سود نہیں چھوڑتے تو اللہ تعالٰی اور اس کے رسول صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمسے لڑائی کے لیے تیار ہوجاؤ ۔

سوال   حدیث شریف میں  سود کی کیا مذمت بیان ہوئی ہے ؟

جواب   حدیث پاک میں ہے کہ حضور سید عالم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے سودلینے والے ، سود دینے والے ، اس کی تحریر لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی اورفرمایا: یہ سب(گناہ میں)برابر ہیں۔([11])اور ارشاد فرمایا: سود کا گناہ ایسے ستر گناہوں کے برابر ہے جن میں سب سے کم درجہ کا گناہ یہ ہے کہ مرد اپنی ماں سے بدکاری کرے۔([12])

 



1   ترمذی ، کتاب الوتر، باب ما جاء فی فضل الصلاۃ علی النبی، ۲/۲۹ ، حدیث: ۴۸۷۔

2    شعب الایمان ، الرابع والثلاثون من شعب الایمان     الخ، ۴/۲۲۰ ، حدیث: ۴۸۵۳۔

3   مسلم، کتاب الزکاۃ، باب قبول الصدقۃ من الکسب ۔۔۔الخ، ص۵۰۶، حدیث:۱۰۱۵۔

1   ابو داود ، کتاب الزکاۃ ، باب کراھیۃ المسألۃ ، ۲ /۱۷۰، حدیث:  ۱۶۴۳۔

2   ترمذی، کتاب البیوع، باب ما جاء فی التجار     الخ، ۳/۵، حدیث:۱۲۱۳۔

3   فردوس الأخبار، باب اللام والالف، ۲ /۴۱۵، حدیث:  ۷۵۵۲۔

4   مستدرک حاکم  ، کتاب تواریخ المتقدمین ۔۔۔الخ ، ذکر حرف الانبیاء علیھم السلام ، ۳ /۴۹۱، حدیث:  ۴۲۲۱۔

5   مستدرک  حاکم، کتاب تواریخ المتقدمین ۔۔۔الخ ، ذکر حرف الانبیاء علیھم السلام ، ۳ /۴۹۱، حدیث:  ۴۲۲۱۔

6   مستدرک حاکم، کتاب تواریخ المتقدمین ۔۔۔الخ ، ذکر حرف الانبیاء علیهم السلام ، ۳ /۴۹۱، حدیث:  ۴۲۲۱۔

1

Total Pages: 99

Go To