Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

سوال   یمینِ لَغْوْ کسے کہتے ہیں ؟

جواب   لغو یہ ہے کہ کسی گزرے ہوئے یا موجودہ اَمر (یعنی معاملے )پر اپنے خیال میں (یعنی غلط فہمی کی وجہ سے )صحیح جان کر قسم کھائےاور درحقیقت وہ بات اس کےخلاف(یعنی الٹ ) ہو ۔([1])

سوال   یمینِ لَغْوْ کا حکم بتائیں ؟

جواب   یمینِ لغو معاف ہے اوراس پر کَفّارہ نہیں۔([2])

سوال   یمینِ مُنْعَقِدَہ کسے کہتے ہیں ؟

جواب   یمینِ منعقدہ یہ ہے کہ مُستَقْبِل میں کسی کام کے کرنے یا نہ کرنے کی قسم کھائی۔([3])

سوال   یمینِ منعقدہ کا حکم بتائیں ؟

جواب   یمینِ مُنْعَقِدَہ میں اگر قسم توڑے گا کَفّارہ دینا پڑے گا اور بعض صورتوں میں گُنہگار بھی ہوگا۔([4])

سوال   جھوٹی قسم کھانے سے متعلق نبی کریم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ واٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا کیا فرمان ہے؟

جواب   نبی کریم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا فرمان ہے:  ’’ اللہ عَزَّ  وَجَلَّ کے ساتھ شرک کرنا،  والدَیْن کی نافرمانی کرنا ، کسی جان کو قتل کرنا اورجھوٹی قسم کھانا کبیرہ گناہ ہیں۔ ‘‘ ([5])

سوال   سب سے پہلے جھوٹی قسم کس نے کھائی ؟

جواب   پہلا جھوٹی قسم کھانے والا ابلیس ہی ہے ۔([6])

سوال   غلطی سے قسم کھا لی تو کیا اُس پر بھی کفارہ ہو گا؟  

جواب   غلطی سے قسم کھا بیٹھا مثلاً کہنا چاہتا تھا کہ پانی پلاؤ اور زبان سے نکل گیا کہ  ’’ خدا کی قسم پانی نہیں پیوں گا۔  ‘‘ تو یہ بھی قسم ہے اگر توڑے گا کفارہ دینا ہو گا ۔([7])

سوال   بھول کریا کسی کے مجبور کرنے پرقسم  توڑی تو بھی کفارہ دینا ہو گا؟

جواب   قسم توڑنا کسی  کے مجبور کرنے سے ہو یا بھول چوک سے ہر صورت میں کفارہ ہے۔([8])

سوال   کیا دوسرے کے قسم دلانے سے قسم ہو جائے گی ؟

جواب   دوسرے کے قسم دلانے سے قسم نہیں ہوتی۔ مثلاً  کہا : تمہیں خدا کی قسم یہ کام کر دو ۔تو اِس کہنے سے (جس سے کہا گیا )اُس پر قسم نہ ہوئی یعنی  نہ کرنے سے کفارہ لازم نہیں ۔([9])

لُقْطَہ

سوال   لُقْطَہ کسے کہتے ہیں ؟

جواب   لقطہ اس مال کو کہتے ہیں جوکہیں پڑا ہوا مل جائے ۔([10])

سوال   لقطہ کس صورت میں اٹھا لینا مُستحب ہے؟

جواب   پڑا ہوا مال کہیں ملا اور یہ خیال ہو کہ میں اس کے مالک کو تلاش کر کے دے دوں گا تو اٹھا لینا مُستحب ہے ۔([11])

سوال   کس صورت میں لقطہ چھوڑ دینا بہتر ہے؟

جواب   اگر اندیشہ ہو کہ لقطہ شایدمیں خود ہی رکھ لوں اور مالک کو تلاش نہ کروں تو چھوڑ دینا بہتر ہے ۔([12])

سوال   کس صورت میں لقطہ اٹھانا جائز نہیں ؟

جواب   اگر ظنِّ غالب ہو کہ مالک کو نہ دوں گا تو اٹھاناجائز نہیں  اور اپنے لئے اٹھانا حرام ہے کیونکہ یہ غصب (یعنی کسی کا مال چھین لینے )کی طرح ہے ۔([13])

 



1   فتاوی ھندیۃ، کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمینا  ۔۔۔الخ، ۲/۵۲۔

2   بہارِ شریعت، حصہ۹، ۲/۲۹۹، ملخصاً۔

3   فتاوی ھندیۃ، کتاب الأیمان، الباب الثانی فیما یکون یمینا ۔۔۔الخ، ۲/۵۲۔

4   بہارِ شریعت، حصہ۹، ۲/۲۹۹۔

5   بخاری، کتاب الایمان والنذور، باب یمین الغموس، ۴/۲۹۵، حدیث: ۶۶۷۵۔

6   خزائن العرفان، پ ۸، الاعراف، تحت الآیۃ: ۲۲، ص ۲۸۹۔

1   تبیین الحقائق، کتاب الأیمان ، ۳/۴۲۳۔

2   تبیین الحقائق، کتاب الأیمان ، ۳/۴۲۳۔

3   بہارِ شریعت ، حصہ۹، ۲/۳۰۳۔

4   در مختار، کتاب اللقطة، ۶/ ۴۲۱۔

5   در مختار و ردالمحتار، کتاب اللقطة، ۶/ ۴۲۲۔

1   در مختار وردالمحتار ، کتاب اللقطة، ۶/ ۴۲۲۔

2   در مختاروردالمحتار، کتاب اللقطة، ۶/ ۴۲۲۔



Total Pages: 99

Go To