Book Name:Dilchasp Malomaat Sawalan Jawaaban Part 01

٭٭٭٭

اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیہ

از: شیخ طریقت،  امیْرِ اہلسنّت ، بانِیِ دعوتِ اسلامی حضرت علّامہ مولاناابوبلال محمد الیاس عطّاؔرقادری رضوی ضیائیدَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ

          اَ لْحَمْدُلِلّٰہِ عَلٰی اِحْسَا نِہٖ وَ بِفَضْلِ رَسُوْلِہٖصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتَبْلیْغِ قرآن و سنّت کی عالمگیرغیرسیاسی تحریک ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ نیکی کی دعوت، اِحیائےسنّت اوراشاعَتِ عِلْمِ شریعت کودنیابھرمیں عام کرنےکاعزمِ مُصمّم رکھتی ہے، اِن تمام اُمُورکوبحسن خوبی سر انجام دینے کےلئےمُتَعَدَّدمجالِس کاقیام عمل میں لایاگیاہےجن میں سےایک مجلس ’’ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیہ‘‘ بھی ہےجودعوتِ اسلامی کےعُلَماومفتیانِ کرامکَثَّرَھُمُ اللہُ السَّلَامپرمشتمل ہے، جس نےخالِص علمی، تحقیقی او راشاعتی کام کابیڑااٹھایاہے۔اس کےمندرجہ ذیل چھ شعبے ہیں:

          (۱)شعبہ کُتُبِ اعلیٰحضرت(۲)شعبہ تراجِمِ کُتُب  (۳)شعبہ درسی کُتُب

          (۴)شعبہ اِصلاحی کُتُب    (۵)شعبہ تفتیْشِ کُتُب                (۶)شعبہ تخریج ([1])

           ’’ اَلْمَدِ یْنَۃُالْعِلْمِیہ ‘‘ کی اوّلین ترجیح سرکارِاعلیٰ حضرت، اِمامِ اَہلسنّت، عظیم البَرَکت،  عظیمُ المرتبت، پروانَۂ شَمعِ رِسالت، مُجَدِّدِدین ومِلَّت، حامی سنّت، ماحی بِدعت، عالِم شَریعَت،  پیر ِطریقت، باعِثِ خَیْروبَرَکت، حضرتِ علاّمہ مولاناالحاج الحافِظ القاری شاہ امام اَحمدرَضا خانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰنکی گِراں مایہ تصانیف کوعصرحاضرکےتقاضوں کےمطابقحتَّی الْوَسْع سَہْل اُسلُوب میں پیش کرناہے۔تمام اسلامی بھائی اوراسلامی بہنیں اِس عِلمی، تحقیقی اوراشاعتی

  مَدَنی کام میں ہرممکن تعاوُن فرمائیں اورمجلس کی طرف سےشائع ہونےوالی کُتُب کاخودبھی مُطالَعَہ فرمائیں اور دوسروں کوبھی اِس کی ترغیب دلائیں۔

       اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ’’ دعوتِ اسلامی ‘‘ کی تمام مجالِس بَشُمُول ’’ اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیہ ‘‘ کودن گیارہویں اوررات بارہویں ترقّی عطافرمائےاورہمارےہرعَملِ خیرکوزیورِاِخلاص سےآراستہ فرماکر دونو ں جہاں کی بھلائی کاسبب بنائے۔ہمیں زیرِگنبدِخضراشہادت، جنَّتُ البقیع میں مدفن اور جنَّتُ الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔

اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنصَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

رمضان المبارک ۱۴۲۵ھـ

کون کب اورکہاں مرےگا؟

٭جنگ بدرکےموقع پرحضورنبی پاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےچندجاں نثاروں کے ساتھ رات میں میدانِ جنگ کامعائنہ فرمایا، اس وقت دسْتِ انورمیں ایک چھڑی تھی۔آپ اُس چھڑی سے زمین پرلکیربناتےہوئےفرمارہےتھےکہ فلاں کافرکےقتل ہونےکی جگہ ہےاورکل یہاں فلاں کافرکی لاش پڑی ہوئی ملےگی۔چنانچہ ایساہی ہواکہ آپ نے جس جگہ جس کافرکی قتل گاہ بتائی تھی اس کافر کی لاش ٹھیک اسی جگہ پائی گئی ان میں سے کسی ایک نےلکیر سےبال برابربھی تجاوُزنہیں کیا۔ (مسلم، کتاب الجھادوالسیر،  باب غزوة بدر، ص۹۸۱،  حدیث: ۱۷۷۸۔ شرح الزرقانی علی المواھب،  باب غزوة بدرالکبری، ۲  /   ۲۶۹)

٭٭٭٭

پیش لفظ

       علمِ دینکے دینی اور دنیاوی بے شمار فوائد ہیں۔علم کی تلاش عبادت ……اس کی جستجو  جہاد……بے علم کو سکھانا صدقہ ……اور اہل کو پڑھانا نیکی ہے……یہ حلال وحرام کی پہچان ……جنتیوں کے راستے کا نشان ہے…… فرشتے علم والوں  کی دوستی میں رغبت کرتے اورانہیں  اپنے پرَوں سے چھوُتے ہیں……ان کے لیے ہر خشک و تَر شَے ،  سمندر کی مچھلیاں  اورخشکی کے درندے و چوپائے اِسْتِغْفار کرتے ہیں……بندہ  علم کے سبب  اولیاء کی منزلیں پالیتا ہے اور دنیا و آخرت میں بلند مرتبہ پر فائزہو جاتا ہے ۔

       علم وحْشَت میں تسکین……سفر میں ہم نشین ……تنہائی کا ساتھی…… تنگی و خوشحالی میں راہنما……دشمن کے مقابلے میں ہتھیار اور دوستوں کے حق میں زینت ہے …… اس کے  ذریعے قوموں کوبلندی وبرتری دے کرپیشوا بنادیاجاتاہے ……علم جہالت کے مقابلہ میں دلوں کی زندگی اور تاریکیوں کے مقابلہ میں آنکھوں کا نور ہے……علم  عمل کا امام ہے اور عمل اس کے تابع ہے…… خوش بختوں کو علم کا اِلہام کیا جاتا ہے جبکہ بدبختوں کو اس سے محروم کردیاجاتا ہے ۔

       ”دعوتِ اسلامی“کے بنیادی مقاصد میں سے ایک عظیم مقصد علمِ دین کی روشنی پھیلانا اور دنیا بھر کے لوگوں کو نورِ علم سے منوّر کرناہے اوراس  اہم کام کے لیے تحریری ،  تقریری اور عملی کوششیں مسلسل جاری ہیں ۔ دارالافتاء اہلسنّت ہو یا جامعۃُ المدینہ ،  المدینۃُ العلمیۃ ہویا مکتبۃ المدینہ ، دارُالمدینہ ہو یا مختلف تربیتی کورسز سب  کا ایک ہی مقصد ہے کہ”پیارے آقاصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی پیاری اُمت کوزیورِ علم سے آراستہ کیا جائے تاکہ وہ اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرے۔“

            ”مدنی چینل“ کے مختلف سلسلے (پروگرامز)بھی  اسی مقصد کی مختلف کڑیاں ہیں ،  ہر سلسلہ اپنی جگہ اہم مگر بعض سلسلے عوام وخواص میں بے حد مقبول ہیں جن میں”مدنی مذاکرہ“سرِ فہرست ہے جس میں قبلہ شیخِ طریقت ، امیرِاہلسنّت ، بانیِ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ شرعی،  روحانی،  طبی اور سماجی سوالات کے علم وحکمت سے بھرپورجوابات ارشاد



[1]   تادمِ تحریر(ربیع الاٰخر۱۴۳۷ھ)شعبےمزیدقائم ہوچکےہیں:(۷)فیضانِ قرآن(۸)فیضانِ حدیث (۹)فیضانِ صحابہ واہْلِ بیت(۱۰)فیضانِ صحابیات وصالحات(۱۱)شعبہ امیراہلسنّتمَدَّظِلُّہٗ (۱۲)فیضانِ مدنی مذاکرہ(۱۳)فیضانِ اولیاوعلما(۱۴)بیاناتِ دعوتِ اسلامی(۱۵)رسائِلِ دعوتِ اسلامی(۱۶)عربی تراجم۔

(مجلس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیہ(



Total Pages: 99

Go To