Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ساتھ کفرکیا کرتے تھے۔

            اس آیت میں  اللہ تعالیٰ کی جس ناراضی کا ذکر ہے اس کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ناراضی ہے جو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن کافروں  پر فرمائے گا اور ایک قول یہ ہے کہ اس سے مراد وہ ناراضی ہے جو اللہ تعالیٰ اس وقت فرماتا تھا جب دنیا میں  کافر اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا انکار کرتے اور اس کے ساتھ شرک کیا کرتے تھے۔( تفسیر کبیر ، المؤمن ، تحت الآیۃ : ۱۰، ۹ / ۴۹۳- ۴۹۴ ، خازن ، حم المؤمن ، تحت الآیۃ: ۱۰، ۴ / ۶۷، روح البیان، المؤمن، تحت الآیۃ: ۱۰، ۸ / ۱۶۰-۱۶۱، ملتقطاً)

قَالُوْا رَبَّنَاۤ اَمَتَّنَا اثْنَتَیْنِ وَ اَحْیَیْتَنَا اثْنَتَیْنِ فَاعْتَرَفْنَا بِذُنُوْبِنَا فَهَلْ اِلٰى خُرُوْجٍ مِّنْ سَبِیْلٍ(۱۱)ذٰلِكُمْ بِاَنَّهٗۤ اِذَا دُعِیَ اللّٰهُ وَحْدَهٗ كَفَرْتُمْۚ-وَ اِنْ یُّشْرَكْ بِهٖ تُؤْمِنُوْاؕ-فَالْحُكْمُ لِلّٰهِ الْعَلِیِّ الْكَبِیْرِ(۱۲)

ترجمۂ کنزالایمان: کہیں  گے اے ہمارے رب تو نے ہمیں  دوبار مُردہ کیا اور دوبار زندہ کیا اب ہم اپنے گناہوں  پر مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ۔یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے اور اس کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا۔ مُقِر ہوئے تو آگ سے نکلنے کی بھی کوئی راہ ہے ۔یہ اس پر ہوا کہ جب ایک اللہ پکارا جاتا تو تم کفر کرتے اور اس کا شریک ٹھہرایا جاتا تو تم مان لیتے تو حکم اللہ کے لیے ہے جو سب سے بلند بڑا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہ کہیں  گے: اے ہمارے رب !تو نے ہمیں  دومرتبہ موت دی اور دومرتبہ زندہ کیا تو اب ہم نے اپنے گناہوں  کا اقرار کرلیا ہے توکیا نکلنے کا کوئی راستہ ہے؟ یہ اس وجہ سے ہے کہ جب ایک اللہ کوپکارا جاتاتھا تو تم کفر کرتے تھے اور اگر اس کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے تھے توہر حکم اس اللہ کا ہے جو بلند ی والا،بڑائی والاہے۔

{قَالُوْا رَبَّنَا: وہ کہیں  گے: اے ہمارے رب!۔} اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جہنم میں  فرشتوں  کی ندا سن کر کفار کہیں  گے :اے ہمارے رب! عَزَّوَجَلَّ، تو نے ہمیں  دومرتبہ موت دی اور دومرتبہ زندہ کیا اور اب ہم نے اپنے گناہوں  کا اقرار کرلیا ہے اور ہم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرکے جو گناہ کیا کرتے تھے اب ہمیں  اس کا اعتراف ہے ، توکیا جہنم سے نکل کر دنیا کی طرف جانے کا کوئی راستہ ہے تاکہ ہم اپنے اعمال کی اصلاح کر لیں  اور صرف تیری ہی اطاعت کریں؟ اس کا جواب یہ ہوگا کہ تمہارے جہنم سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں  اور تم جس حال میں  اور جس عذاب میں  مبتلا ہو ، اس سے رہائی کی کوئی راہ نہیں  پاسکتے ۔ اس عذاب اور اس کے ہمیشہ رہنے کاسبب تمہارا یہ فعل ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت کا اعلان ہوتا اور لَا ٓاِلٰـہَ اِلَّا اللہ  کہا جاتا تو تم اس کا انکار کرتے اور کفر اختیار کرتے تھے اور اگر اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کیا جاتا تو تم مان لیتے اور اس شرک کی تصدیق کرتے تھے، توجان لو کہ حقیقی حاکم اللہ تعالیٰ ہی ہے جو ایسا بلند ی والا ہے کہ اس سے اور کوئی بلند نہیں  اور ایسابڑائی والاہے کہ اس سے اور کوئی بڑا نہیں ۔( تفسیر کبیر ، المؤمن ، تحت الآیۃ : ۱۱-۱۲، ۹ / ۴۹۴-۴۹۶، خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ۴ / ۶۷-۶۸، مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۱-۱۲، ص۱۰۵۳، ملتقطاً)

دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دینے سے کیا مراد ہے؟

            آیت نمبر10میں  دو مرتبہ موت اور دو مرتبہ زندگی دئیے جانے کا ذکر ہوا، اس کے بارے میں  ایک قول یہ ہے کہ پہلے وہ بے جان نطفہ تھے، اس موت کے بعد انہیں  جان دے کر زندہ کیا، پھر عمر پوری ہوجانے پر انہیں  موت دی، پھر اعمال کا حساب دینے اور ان کی جزاپانے کے لئے زندہ کیا۔اس کی دلیل وہ آیتِ مبارکہ ہے جس میں  ارشاد فرمایا گیا:

’’ كَیْفَ تَكْفُرُوْنَ بِاللّٰهِ وَ كُنْتُمْ اَمْوَاتًا فَاَحْیَاكُمْۚ-ثُمَّ یُمِیْتُكُمْ ثُمَّ یُحْیِیْكُمْ ‘‘(بقرہ:۲۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم کیسے اللہ کے منکر ہوسکتے ہو حالانکہ تم مردہ تھے تواس نے تمہیں  پیدا کیا پھر وہ تمہیں  موت دے گا پھر تمہیں زندہ کرے گا۔

هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ وَ یُنَزِّلُ لَكُمْ مِّنَ السَّمَآءِ رِزْقًاؕ-وَ مَا یَتَذَكَّرُ اِلَّا مَنْ یُّنِیْبُ(۱۳)فَادْعُوا اللّٰهَ مُخْلِصِیْنَ لَهُ الدِّیْنَ وَ لَوْ كَرِهَ الْكٰفِرُوْنَ(۱۴)

ترجمۂ کنزالایمان: وہی ہے کہ تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اُتارتا ہے اور نصیحت نہیں  مانتا مگر جو رجوع لائے۔تو اللہ کی بندگی کرو نرے اس کے بندے ہوکر پڑے برا مانیں  کافر۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: وہی ہے جو تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھاتا ہے اور تمہارے لیے آسمان سے روزی اتارتا ہے اور نصیحت نہیں  مانتا مگر وہی جو رجوع کرے۔تو اللہ کی بندگی کرو، خالص اسی کے بندے بن کر ،اگرچہ کافروں  کو ناپسند ہو ۔

{هُوَ الَّذِیْ یُرِیْكُمْ اٰیٰتِهٖ: وہی ہے جو تمہیں  اپنی نشانیاں  دکھاتا ہے۔} اس سے پہلی آیات میں  مشرکوں  کا دردناک انجام بیان ہو ا اور اب یہاں  سے وہ چیزیں  بیان کی جا رہی ہیں  جو اللہ تعالیٰ کی قدرت،حکمت اور وحدانیّتپر دلالت کرتی ہیں ، چنانچہ اس آیت اور ا س کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! اللہ صرف وہی ہے جو تمہیں  اپنی مصنوعات جیسے ہوا،بادل اور بجلی وغیرہ کے عجائبات دکھاتا ہے جو اس کی قدرت کے کمال پر دلالت کرتے ہیں  اور تمہارے لیے آسمان کی طرف سے بارش برساتا ہے جو کہ روزی ملنے کا سبب ہے اوران نشانیوں  سے وہی نصیحت حاصل کرتا اور نصیحت مانتاہے جوتمام اُمور میں  اللہ تعالیٰ کی طرف رُجوع کرنے والا اور شرک سے تائب ہو کیونکہ سرکش انسان نہ نصیحت حاصل کرتا ہے اور نہ ہی نصیحت قبول کرتا ہے،تو اے لوگو! تم پر لازم ہے کہ شرک سے کنارہ کشی کر کے اور خالص اللہ تعالیٰ کے بندے بن کرصرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرواگرچہ کافروں  کو یہ بات ناپسند ہو۔(تفسیرکبیر، المؤمن، تحت الآیۃ:۱۳-۱۴، ۹ / ۴۹۶-۴۹۷، خازن، حم المؤمن، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ۴ / ۶۸، مدارک، غافر، تحت الآیۃ: ۱۳-۱۴، ص۱۰۵۴، ملتقطاً)

سورۂِ مؤمن کی آیت نمبر13اور 14سے حاصل ہونے والی معلومات:

            ان آیات سے 3باتیں  معلوم ہوئیں :

(1)… روزی تو سب کے لئے ہے مگر ہدایت سب کے لئے نہیں ۔ افسوس کہ ہمیں  اپنی روزی کی تو بہت فکر ہے لیکن ہدایت کی کوئی فکرنہیں ۔

(2)…جو بھی نیک عمل کیا جائے اس میں  رِیاکاری اور لوگوں  کو دکھانا مقصود نہ ہو بلکہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کیا جائے کیونکہ اللہ تعالیٰ پاک ہے اور وہ



Total Pages: 250

Go To