Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

خوبیاں  اللہ کو جو سارے جہان کا رب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور تم فرشتوں  کو دیکھو گے کہ ہرطرف سے عرش کو گھیرے ہوئے اپنے رب کی تعریف کے ساتھ اس کی پاکی بیان کررہے ہیں  اور لوگوں  میں  سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا اور کہا جائے گا : تمام تعریفیں  اللہ کیلئے ہیں  جوتمام جہانوں  کا پالنے والاہے۔

{وَ تَرَى الْمَلٰٓىٕكَةَ: اور تم فرشتوں  کو دیکھو گے۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ فرشتوں  کو دوبارہ زندہ فرمائے گا تو آپ دیکھیں  گے کہ فرشتے ہرطرف سے عرش کو گھیرے ہوئے اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی تعریف کے ساتھ ا س کی پاکی بیان کررہے ہیں  اور قیامت کے دن لوگوں  میں  سچا فیصلہ فرمادیا جائے گا کہ مومنوں  کو جنت میں  اور کافروں  کو دوزخ میں  داخل کر دیا جائے گا اور جنتی لوگ جنت میں  داخل ہو کر شکر ادا کرنے کے لئے عرض کریں  گے کہ تمام تعریفیں  اس اللہ تعالیٰ کیلئے ہیں  جوتمام جہانوں  کا پالنے والاہے۔( روح البیان، الزّمر، تحت الآیۃ: ۷۵، ۸ / ۱۴۷-۱۴۸، خازن، الزّمر، تحت الآیۃ: ۷۵، ۴ / ۶۴، ملتقطاً)

            حضرت وہب رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں ’’جو یہ جاننے کا ارادہ رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے درمیان کیسے فیصلہ فرماتا ہے تو وہ سورہِ زمر کے آخری حصے کو پڑھے۔ (درمنثور، الزّمر، تحت الآیۃ: ۷۵، ۷ / ۲۶۷)

سورۂ مومن

سورۂ مومن کا تعارف

مقامِ نزول:

            سورۂ مومن مکی سورت ہے البتہ اس کی آیت نمبر 56 ’’اِنَّ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِ اللّٰهِ‘‘ اور آیت نمبر 57 ’’لَخَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ‘‘ یہ دونوں  آیتیں  مدنی ہیں  ۔ (جلالین مع صاوی، سورۃ غافر، ۵ / ۱۸۱۳)

رکوع اور آیات کی تعداد:

             اس سورت میں  9رکوع  اور85آیتیں ہیں ۔

سورۂ مؤمن کے نام اور ان کی وجہِ تَسمِیَہ :

            اس سورت کے دو نام ہیں (1)مومن۔اس کا معنی ہے ایمان لانے والا اوراس سورت کی آیت نمبر28میں  فرعون کی قوم کے ایک مومن شخص کا ذکر ہے، ا س مناسبت سے اسے ’’سورۂ مومن‘‘ کہتے ہیں  ۔(2)غافر۔اس کا معنی ہے بخشنے والا اور ا س سورت کی آیت نمبر3 میں  اللہ تعالیٰ کا یہ وصف بیان کیاگیا کہ وہ گناہ بخشنے والا ہے،اس وجہ سے اسے ’’سورۂ غافر‘‘ کے نام سے مَوسوم کیا گیا۔

سورۂ مومن کے فضائل:

(1)…حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ بیان کرتے ہیں  کہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے صبح اٹھ کر (سورۂ مومن کی آیت نمبر1) ’’حٰمٓ ‘‘ سے لے کر (آیت نمبر 3 کے آخر) ’’اِلَیْهِ الْمَصِیْرُ‘‘ تک پڑھا اورآیت الکرسی پڑھی تو ان کی برکت سے صبح سے شام تک اس کی حفاظت کی جائے گی اورجس نے انہیں شام میں  پڑھا تو ان کی برکت سے صبح تک اس کی حفاظت کی جائے گی ۔ (سنن ترمذی، کتاب فضائل القرآن، باب ما جاء فی فضل سورۃ البقرۃ وآیۃ الکرسی، ۴ / ۴۰۲، الحدیث: ۲۸۸۸)

(2)…حضرت خلیل بن مُرَّہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’حوامیم (یعنی حٰمٓ سے شروع ہونے والی سورتیں ) 7 ہیں  اور جہنم کے دروازے بھی 7 ہیں ۔ ان سورتوں  میں  سے ہر ایک سورت جہنم کے اُن دروازوں  میں  سے ہر ایک دروازے پر جا کر کہتی ہے’’ اے اللہ عَزَّوَجَلَّ! اُس شخص کو اِس دروازے سے داخل نہ کرناجومجھ پرایمان رکھتاتھااور میری تلاوت کیا کرتاتھا۔ (شعب الایمان، التاسع عشر من شعب الایمان... الخ، ۲ / ۴۸۵، الحدیث: ۲۴۷۹)

(3)…حضرت عبداللہ بن مسعود رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں  ’’حٰمٓ سے شروع ہونے والی سورتیں  قرآنِ مجید کی زینت ہیں ۔ (مستدرک، کتاب التفسیر، تفسیر سورۃ حمٓ المؤمن، ۳ / ۲۲۳، الحدیث: ۳۶۸۶)

سورۂ مومن کے مضامین:

            سورۂ مومن چونکہ مکی سورت ہے اس لئے دیگر سورتوں  کی طرح ا س کا بھی مرکزی مضمون یہ ہے کہ اس میں  اسلام کے بنیادی عقائد جیسے توحید،نبوت و رسالت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر دلائل کے ساتھ کلام کیا گیا ہے،ان عقائد کے منکروں  کو عذاب کی وعیدیں  سنائی گئی ہیں  اور بت پرستی کا رد کیاگیاہے۔نیز اس سورت میں  یہ چیزیں  بیان کی گئی ہیں ،

(1)…اس سورت کی ابتداء میں  یہ اعلان کیا گیا کہ قرآنِ پاک ا س رب تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے جوکہ عزت والا، علم والا،گناہ بخشنے والا ، توبہ قبول کرنے والا، سخت عذاب دینے والا اوربڑے انعام عطا فرمانے والاہے،نیز باطل کے ذریعے جھگڑنے والے کفار کی مذمت بیان کی گئی اور عرش اٹھانے والے فرشتوں  کے اوصاف بتائے گئے۔

(2)…یہ بتایا گیا کہ قیامت کے دن کفار اپنے گناہوں  کا اعتراف کر لیں  گے اور عذاب کی شدت کی وجہ سے جہنم سے نکالے جانے کی فریاد کریں  گے اور ان کی فریادکو رد کر دیا جائے گا،نیزاللہ تعالیٰ کے موجود اور قادرہونے پر دلائل دئیے گئے،قیامت کی ہَولْناکیوں  سے خوف دلایا گیا اور اس دن کی سختیوں  سے کفار کو ڈرایا گیا ہے۔

(3)…انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جھٹلانے کی وجہ سے سابقہ امتوں  کی ہلاکت کے بارے میں  بیان کر کے کفارِ مکہ کو ڈرایا گیا کہ اگر وہ اپنی رَوِش سے باز نہ آئے تو ان کا انجام بھی اگلے لوگوں  جیساہو سکتا ہے اور اس سلسلے میں  حضرتموسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور فرعون ،ہامان اور قارون کا واقعہ بیان کیاگیا اور اس میں  فرعون کی قوم کے ایک مومن شخص کا بطورِ خاص



Total Pages: 250

Go To