Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

             اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کی بہت سی صورتیں  ہیں  ،ان میں  سے 7صورتیں  درج ذیل ہیں  ۔

(1)…اللہ تعالیٰ کے دین کو غالب کرنے کیلئے دین کے دشمنوں  کے ساتھ زبان،قلم اور تلوار سے جہاد کرنا۔

(2)… دین کے دلائل کو واضح کرنا،ان پر ہونے والے شبہات کو زائل کرنا،دین کے احکام ،فرائض،سُنَن،حلال اور حرام کی شرح بیان کرنا۔

(3)…نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔

(4)…دین ِاسلام کی تبلیغ و اشاعت میں  کوشش اور جدو جہدکرنا۔

(5)…وہ قابل اور مستندعلماء جنہوں  نے اپنی زندگیاں  دین کی ترویج و اشاعت کے لئے وقف کی ہوئی ہیں ، ان کے نیک مقاصد میں  ان کا ساتھ دینا۔

(6)…نیک اور جائز کاموں  میں  اپنا مال خرچ کرنا۔

(7)…علماء اور مبلغین کی مالی خیر خواہی کر کے انہیں  دین کی خدمت کے لئے فارغ البال بنانا۔

            نوٹ:ان سات صورتوں  کے علاوہ اور بھی بہت سی صورتیں  ہیں  جو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے میں  داخل ہیں ۔

بندوں  سے مددمانگناشرک نہیں :

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ غنی اور بے نیاز ہے ،اسے نہ بندوں  کی مدد کی حاجت ہے اور نہ ہی وہ اپنے دین کی ترویج و اشاعت اور اسے غالب کرنے میں  بندوں  کی مدد کا       محتاج ہے ،یہاں  جوبندوں  کو اللہ تعالیٰ کے دین کی مدد کرنے کا فرمایا گیا یہ در اصل ان کے اپنے ہی فائدے کے لئے ہے کہ اس صورت میں  انہیں  اللہ تعالیٰ کی مدد حاصل ہو گی اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے انہیں  ثابت قدمی نصیب ہو گی۔یہاں  اسی حوالے سے مزید دو باتیں  ملاحظہ ہوں ،

(1)… اللہ تعالیٰ کے دین کی مددخالص اللہ تعالیٰ کی رضا کیلئے کی جائے اس میں  کوئی دنیاوی مقصد پیش نظرنہ ہو۔

(2)…اس آیت سے معلوم ہواکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں  کی مد د لینا شرک نہیں  ، کیونکہ جب بندوں  کی مدد سے غنی اور بے نیاز رب تعالیٰ نے بندوں  کو اپنے دین کی مدد کرنے کا فرما یا ہے تو عام بندے کا کسی سے مدد طلب کرنا کیوں  شرک ہوگا؟

وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَتَعْسًا لَّهُمْ وَ اَضَلَّ اَعْمَالَهُمْ(۸)ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ كَرِهُوْا مَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ(۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جنہوں  نے کفر کیا تو اُن پر تباہی پڑے اور اللہ ان کے اعمال برباد کرے۔ یہ اس لیے کہ انہیں  ناگوار ہوا جو اللہ نے اُتارا تو اللہ نے ان کا کیا دھرا اکارت کیا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جنہوں  نے کفر کیا تو ان کیلئے تباہی و بربادی ہے اور اللہ نے ان کے اعمال برباد کردیئے۔ یہ (سزا)اس وجہ سے ہے کہ انہوں  نے اللہ کے نازل کئے ہوئے کو ناپسند کیا تو اللہ نے ان کے اعمال ضائع کردئیے۔

{وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا: اور جنہوں  نے کفر کیا۔} یہاں  سے اللہ تعالیٰ نے کفر کے دو نتیجے بیان فرمائے ہیں  ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ جنہوں  نے کفر کیا تو ان کیلئے دنیا میں  تباہی و بربادی ہے اور آخرت میں  اللہ تعالیٰ نے ان کے اعمال برباد کردیئے ۔انہیں یہ سزااس وجہ سے ملی ہے کہ انہوں  نے اللہ تعالیٰ کے نازل کئے ہوئے قرآن کو ناپسند کیا کیونکہ اس میں  شہوات اور لذّات کو ترک کرنے جبکہ طاعات اور عبادات میں  مَشَقَّتیں  اٹھانے کے احکام ہیں  جو نفس پر شاق ہوتے ہیں  توان کے اس کفر کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کے نیک اعمال برباد کردئیے۔( خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۸-۹ ،  ۴ / ۱۳۵ ،  روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۸-۹ ،  ۸ / ۵۰۱ ،  ملتقطاً)

اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا كَیْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِهِمْؕ-دَمَّرَ اللّٰهُ عَلَیْهِمْ٘-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ اَمْثَالُهَا(۱۰)ذٰلِكَ بِاَنَّ اللّٰهَ مَوْلَى الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اَنَّ الْكٰفِرِیْنَ لَا مَوْلٰى لَهُمْ۠(۱۱)

ترجمۂ کنزالایمان: تو کیا انہوں  نے زمین میں  سفر نہ کیا کہ دیکھتے ان سے اگلوں  کا کیسا انجام ہوا  اللہ نے اُن پر تباہی ڈالی اور ان کافروں  کے لیے بھی ویسی کتنی ہی ہیں ۔یہ اس لیے کہ مسلمانوں  کا مولیٰ اللہ ہے اور کافروں  کا کوئی مولیٰ نہیں ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا انہوں  نے زمین میں  سفر نہ کیاتو دیکھتے کہ ان سے پہلے لوگوں  کا کیسا انجام ہوا؟ اللہ نے ان پر تباہی ڈالی اور اِن کافروں  کے لیے بھی پہلوں  کے انجام جیسی بہت سی سزائیں  ہیں ۔ یہ اس لیے کہ اللہ  مسلمانوں  کامددگارہے اور کافروں  کا کوئی مددگارنہیں ۔

{اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ: تو کیا انہوں  نے زمین میں  سفر نہ کیا۔} یہاں  سے پچھلی امتوں  کا انجام بیان کر کے کافروں  کو ڈرایا جا رہا ہے ،چنانچہ اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ کیا اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک کرنے والے اور اس کے رسول صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو جھٹلانے والے کافر اپنے گھروں  میں  بیٹھے رہے ہیں  اور انہوں  نے شام ،یمن اور عراق کی جانب سفر کے دوران دیکھا نہیں  کہ ان سے پہلے جھٹلانے والی امتوں  عاد اور ثمود وغیرہ کا کیسا انجام ہوا ،جو اُن کے اجڑے ہوئے مکانات اور محلّات کے آثار سے خوب ظاہر ہے ۔ان کا انجام یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر ایسی تباہی ڈالی جس سے وہ خود،ان کی اولاد اور ان کے اموال سب ہلاک ہو گئے ، لہٰذا ان موجودہ کافروں  کو بے فکر نہیں  ہونا چاہئے ،اگر یہ بھی سیِّدِ عالَم محمد ِمصطفٰی صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ پر ایمان نہ لائیں  گے توان کے لئے پہلے کافروں  جیسی بہت سی سزائیں  اور تباہیاں  ہیں  اوریہ مسلمانوں  کی مددہونا اور کافروں  پر قہر ہونا اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں  کا مددگارہے اور کافروں  کا کوئی مددگارنہیں  کیونکہ کافروں  نے ان بتوں  کی پوجا کی جو بے جان ہیں  ،نہ نفع پہنچا سکتے ہیں  نہ نقصان، اس لئے ان کا کوئی مدد گار نہیں ۔( خازن ،  محمد ، تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱ ،  ۴ / ۱۳۶ ،  ابن کثیر ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱ ،  ۷ / ۲۸۷ ،  روح البیان ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۱۰-۱۱ ،  ۸ / ۵۰۲ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 250

Go To