Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

مقابلے میں ان کی مدد فرما کر ان کی حالتوں  کی اصلاح فرمائی ۔

            حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا نے فرمایا :یہاں  حالتوں  کی اصلاح فرمانے سے مراد یہ ہے کہ ان کی زندگی کے دنوں  میں  ان کی حفاظت فرمائی۔ (خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ۴ / ۱۳۳ ،  مدارک ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۲ ،  ص۱۱۳۲ ،  ملتقطاً)

آیت ’’وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ‘‘ سے حاصل ہونے والی معلومات:

            اس آیت سے 3باتیں  معلوم ہوئیں  :

(1)…قرآنِ مجید پر ایمان لانے کو جداگانہ ذکر کرنے سے معلوم ہوا کہ قرآنِ مجید کی شان انتہائی بلند ہے اور جن پر یہ قرآن نازل ہوا ہے ان کی شان بھی بہت عظیم ہے ۔

(2)… ایمان کے لئے ان تمام چیزوں  کو ماننا ضروری ہے جو حضورپر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں  ، اگر کسی نے ان میں  سے ایک کابھی انکار کیا تو کافر ہوجائے گا۔

(3)… ایمان سے زمانۂ کفر کے تمام گناہ مٹ جاتے ہیں ، مگر نیکیاں  باقی رہتی ہیں ۔ یاد رہے کہ سَیِّئات گناہوں  کو کہتے ہیں  جبکہ حُقُوقُ الْعِباد  کو ضائع کرنا دوسری چیز ہے،اس لئے ایمان لانے سے زمانۂ کفر کے قرض وغیرہ معاف نہیں  ہوں  گے بلکہ نو مسلم نے کفر کے زمانہ میں  بندوں  کے جو حقوق تلف کئے ہوں  گے وہ اسے بہر حال ادا کرنے ہوں  گے۔

ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ وَ اَنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّبَعُوا الْحَقَّ مِنْ رَّبِّهِمْؕ-كَذٰلِكَ یَضْرِبُ اللّٰهُ لِلنَّاسِ اَمْثَالَهُمْ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان: یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو ہوئے اور ایمان والوں  نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے اللہ لوگوں  سے ان کے احوال یونہی بیان فرماتا ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو کارہوئے اور ایمان والوں  نے حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے ہے ۔اللہ ان کے حالات لوگوں  سے یونہی بیان فرماتا ہے۔

{ذٰلِكَ بِاَنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوا اتَّبَعُوا الْبَاطِلَ: یہ اس لیے کہ کافر باطل کے پیرو کارہوئے۔} یعنی ہم نے جوکافروں  کے اعمال ضائع کر دئیے جبکہ ایمان والے نیک بندوں  کی خطاؤں  سے درگزرفرمایا اور ان کی حالتوں  کی اصلاح فرمائی، ا س کی وجہ یہ ہے کہ کافروں نے باطل کی پیروی کر کے حق کے مقابلے میں  باطل کو اختیار کیا اور ایمان والوں  نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب عَزَّوَجَلَّ کی طرف سے ہے اوراللہ تعالیٰ لوگوں  کے سامنے دونوں  گروہوں  کے حالات یونہی بیان فرماتا ہے کہ کافروں  کے عمل ضائع ہیں  اور ایمانداروں  کی لغزشیں  بھی بخش دی جائیں  گی تاکہ وہ ان سے عبرت حاصل کریں  اور کفار کی خصلتوں  سے بچ کر مومنین کے طریقے اختیار کریں ۔( ابن کثیر ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۷ / ۲۸۳ ،  خازن ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۳ ،  ۴ / ۱۳۳-۱۳۴ ،  ملتقطاً)

            یاد رہے کہ یہاں  آیت میں  باطل سے مراد شیطان ،یا نفسِ اَمّارہ ،یا برے سردار ہیں  اور حق سے مراد اللہ تعالیٰ کی کتاب اور رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی سنت ہے۔ امت کا اِجماع اور مجتہد علماء کا قیاس چونکہ سنت کے ساتھ لاحق ہے ا س لئے یہ بھی حق میں  داخل ہے۔یا حق سے مراد حضور ِانور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ہیں  کیونکہ حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا ہر قول اور فعل شریف برحق ہے اورحق حضورِ اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ سے ایسا وابستہ ہے جیسے نو رسورج سے ، یا خوشبو پھول سے وابستہ ہے ۔

فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِؕ-حَتّٰۤى اِذَاۤ اَثْخَنْتُمُوْهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَۙ-فَاِمَّا مَنًّۢا بَعْدُ وَ اِمَّا فِدَآءً حَتّٰى تَضَعَ الْحَرْبُ اَوْزَارَهَا ﲰذٰلِكَ ﳍوَ لَوْ یَشَآءُ اللّٰهُ لَانْتَصَرَ مِنْهُمْ وَ لٰكِنْ لِّیَبْلُوَاۡ بَعْضَكُمْ بِبَعْضٍؕ-وَ الَّذِیْنَ قُتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ فَلَنْ یُّضِلَّ اَعْمَالَهُمْ(۴)سَیَهْدِیْهِمْ وَ یُصْلِحُ بَالَهُمْۚ(۵) وَ یُدْخِلُهُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَهَا لَهُمْ(۶)

ترجمۂ کنزالایمان: تو جب کافروں  سے تمہارا سامناہو تو گردنیں  مارنا ہے یہاں  تک کہ جب اُنہیں  خوب قتل کرلو تو مضبوط باندھو پھر اس کے بعد چاہے احسان کرکے چھوڑ دو چاہے فدیہ لے لو یہاں  تک کہ لڑائی اپنابوجھ رکھ دے بات یہ ہے اوراللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لیتا مگر اس لیے کہ تم میں  ایک کو دوسرے سے جانچے اور جو اللہ کی راہ میں  مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہ فرمائے گا۔ جلد اُنہیں  راہ دے گا اور اُن کا کام بنادے گا۔ اور اُنہیں  جنت میں  لے جائے گا انہیں  اس کی پہچان کرادی ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو جب کافروں  سے تمہارا سامناہوتو گردنیں  مارو یہاں  تک کہ جب تم انہیں  خوب قتل کرلو تو (قیدیوں  کو) مضبوطی سے باندھ دو پھر اس کے بعدچاہے احسان کرکے چھوڑ دو یافدیہ لے لو ،یہاں  تک کہ لڑائی اپنے بوجھ رکھ دے۔ (حکم) یہی ہے اوراگر اللہ چاہتا تو آپ ہی اُن سے بدلہ لے لیتا مگر (تمہیں  قتال کا حکم دیا) تاکہ تم میں  سے ایک کو دوسرے کے ذریعے جانچے اور جو اللہ کی راہ میں  مارے گئے اللہ ہرگز ان کے عمل ضائع نہیں  فرمائے گا۔ عنقریب اللہ انہیں  راستہ دکھائے گا اور ان کے حال کی اصلاح فرمائے گا۔ اور انہیں  جنت میں  داخل فرمائے گا، اللہ نے انہیں  اس کی پہچان کروادی تھی۔

{فَاِذَا لَقِیْتُمُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا فَضَرْبَ الرِّقَابِ: تو جب کافروں  سے تمہارا سامناہوتو گردنیں  مارو۔} یعنی جب کافروں  اور ایمان والوں  کا حال یہ ہے جو بیان ہوا ،تو اے ایمان والو!جب کافروں  کے ساتھ تمہاری جنگ ہوتواس دوران لڑنے والے کافروں  کی کوئی رعایت نہ کرو بلکہ انہیں  قتل کرویہاں  تک کہ جب تم انہیں  کثرت سے قتل کر لو(جس کی حد یہ ہے کہ کافروں  کا زورٹوٹ جائے اور مسلمانوں  پر غالب آنے کا امکان نہ رہے) اور باقی رہ جانے والوں  کو قید کرنے کا موقع آجائے تواس وقت انہیں  مضبوطی سے باندھ دو تاکہ وہ بھاگ نہ سکیں  ۔قید کرنے کے بعد تمہیں  دو باتوں  کا اختیار ہے ، چاہے ان قیدیوں  پر احسان کرکے انہیں  کوئی فدیہ لئے بغیرچھوڑ دو ،یاان سے فدیہ لے لو ۔یہ قتل اور قید کرنے کا حکم اس وقت تک ہے کہ لڑائی کرنے والے کافراپنا اسلحہ رکھ دیں  اوراس طرح جنگ ختم ہوجائے کہ مشرکین مسلمانوں  کی اطاعت قبول کرلیں  یا اسلام لائیں  ، اللہ تعالیٰ کا حکم یہی ہے ۔( مدارک ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ص۱۱۳۳ ،  روح المعانی ،  محمد ،  تحت الآیۃ: ۴ ،  ۱۳ / ۲۷۲-۲۷۷ ،  ملتقطاً)

 



Total Pages: 250

Go To