Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

کرنے والوں  کا دلیل کے ساتھ رد کیا جا رہاہے ، چنانچہ ارشاد فرمایا: مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کا انکار کرنے والوں  نے اس بات پر غور نہیں  کیاکہ اللہ تعالیٰ نے کسی سابقہ مثال کے بغیر ابتداء سے آسمان اور زمین جیسی عظیم اور بڑی مخلوق بنا دی اور انہیں  بنانے میں  وہ تھکا نہیں  اور جو اللہ تعالیٰ آسمان و زمین بنا سکتا ہے کیا وہ مُردوں  کو زندہ کرنے پر قادر نہیں  جو کہ زمین و آسمان بنانے سے ظاہراً لوگوں  کے اعتبار سے کہیں  آسان ہے،کیوں  نہیں ، وہ ضرور اس پر قادر ہے ۔اس کی دوسری دلیل یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر ممکن شے پر قادر ہے، اور روح کا جسم کے ساتھ تعلق قائم ہونے کو دیکھا جائے تو یہ بھی ممکن ہے کیونکہ اگر یہ ممکن نہ ہوتا تو پہلی بار بھی قائم نہ ہوتا اور جب یہ ممکن ہے اور اللہ تعالیٰ تمام مُمکِنات پر قادر ہے تو ا س سے ثابت ہوا کہ وہ دوبارہ زندہ کرنے پر بھی قادر ہے۔

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِؕ-اَلَیْسَ هٰذَا بِالْحَقِّؕ-قَالُوْا بَلٰى وَ رَبِّنَاؕ-قَالَ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ(۳۴)

ترجمۂ کنزالایمان: اور جس دن کافر آگ پر پیش کئے جائیں  گے ان سے فرمایا جائے گا کیا یہ حق نہیں  کہیں  گے کیوں  نہیں  ہمارے رب کی قسم فرمایا جائے گا تو عذاب چکھو بدلہ اپنے کفر کا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے (توکہا جائے گا) کیا یہ حق نہیں ؟ کہیں  گے: کیوں  نہیں ، ہمارے رب کی قسم، اللہ فرمائے گا: تو اپنے کفر کے بدلے عذاب چکھو۔

{ وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے۔} اس سے پہلی آیت میں  یہ ثابت کیا گیا کہ مُردوں  کوزندہ کیا جانا حق ہے اور اس آیت میں  قیامت کے دن کافروں  کے بعض احوال بیان کئے جارہے ہیں  ،چنانچہ ارشاد فرمایا: جس دن کافر جہنم کی آگ پر پیش کیے جائیں  گے تو اس وقت ان سے فرمایا جائے گا: جوعذاب تم دیکھ رہے ہو کیا یہ حق نہیں ؟وہ کہیں  گے: کیوں  نہیں ، ہمارے رب کی قسم! بے شک یہ حق ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا: (آج یہ اقرار تمہیں  عذاب سے نہیں  بچائے گا ا س لئے اب) تم اپنے دنیوی کفر کے بدلے عذاب چکھو۔(تفسیرکبیر ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۱۰ / ۳۰ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۳۴ ،  ۸ / ۴۹۳ ،  ملتقطاً)

فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ وَ لَا تَسْتَعْجِلْ لَّهُمْؕ-كَاَنَّهُمْ یَوْمَ یَرَوْنَ مَا یُوْعَدُوْنَۙ-لَمْ یَلْبَثُوْۤا اِلَّا سَاعَةً مِّنْ نَّهَارٍؕ-بَلٰغٌۚ- فَهَلْ یُهْلَكُ اِلَّا الْقَوْمُ الْفٰسِقُوْنَ۠(۳۵)

ترجمۂ کنزالایمان:  تو تم صبر کرو جیسا ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا اور اُن کے لیے جلدی نہ کرو گویا وہ جس دن دیکھیں  گے جو انہیں  وعدہ دیا جاتا ہے دنیا میں  نہ ٹھہرے تھے مگر دن کی ایک گھڑی بھر یہ پہنچانا ہے تو کون ہلاک کئے جائیں  گے مگر بے حکم لوگ۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  تو (اے حبیب!)تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا اور ان کافروں کے لیے جلدی نہ کرو۔ جس دن وہ دیکھیں  گے اسے جس کی وعید انہیں  سنائی جاتی ہے (توسمجھیں  گے کہ)گویا وہ دنیا میں  دن کی صرف ایک گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ یہ ایک تبلیغ ہے تو نافرمان لوگ ہی ہلاک کئے جاتے ہیں ۔

{فَاصْبِرْ كَمَا صَبَرَ اُولُوا الْعَزْمِ مِنَ الرُّسُلِ: تو تم صبر کرو جیسے ہمت والے رسولوں  نے صبر کیا۔} توحید ،نبوت اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ کئے جانے کو ثابت کرنے کے بعد یہاں  سے سیِّدُ المرسلین صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو کفار کی طرف سے پہنچنے والی ایذاؤں  پر صبر کرنے کی نصیحت کی جا رہی ہے ،چنانچہ ارشاد فرمایا کہ اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، جب کافروں کا انجام یہ ہے جو ہم نے ذکر کیا توآپ اپنی قوم کی طرف سے پہنچنے والی ایذا پر ایسے ہی صبر کریں  جیسے ہمّت والے رسولوں  عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے صبر کیا کیونکہ آپ بھی انہی میں  سے ہیں  بلکہ ان میں  سب سے اعلیٰ ہیں  اور ان کافروں  کے لیے عذاب طلب کرنے میں  جلدی نہ کریں  کیونکہ فی الحال اگرچہ انہیں  مہلت ملی ہوئی ہے لیکن قیامت کے دن ان (میں  سے کفر کی حالت میں  مرنے والوں ) پر عذاب ضرور نازل ہونے والاہے ، اورجس دن وہ آخرت کے اس عذاب کودیکھیں  گے جس کا انہیں  دنیا میں  وعدہ دیا جاتا ہے تو اس کی درازی اور دَوَام کے سامنے دنیا میں  ٹھہرنے کی مدت کو یہ لوگ بہت قلیل سمجھیں  گے اور خیال کریں  گے کہ گویا وہ دنیا میں  دن کی صرف ایک گھڑی بھر ٹھہرے تھے۔ یہ قرآن اور وہ ہدایت اور روشن نشانیاں  جو اس قرآن میں  ہیں  یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تبلیغ ہے تو عقلمند کو چاہئے کہ وہ اس سے فائدہ اٹھائے اور یاد رکھو کہ وہی نافرمان لوگ ہی ہلاک کئے جاتے ہیں جو ایمان اور طاعت سے خارج ہیں۔(تفسیرکبیر  ،  الاحقاف  ،  تحت الآیۃ : ۳۵  ،  ۱۰ / ۳۰-۳۱ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۳۵ ،  ۱۰ / ۴۹۴-۴۹۵ ،   ملتقطاً)

ہمّت والے رسول عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام:

            یوں  تو سبھی انبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام ہمّت والے ہیں  اور سبھی نے راہ حق میں  آنے والی تکالیف پر صبر وہمّت کا شاندارمظاہرہ کیا ہے البتہ ان کی مقدس جماعت میں  سے پانچ رسول ایسے ہیں  جن کا راہِ حق میں  صبر اور مجاہدہ دیگرانبیاء و مُرسَلین عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے زیادہ ہے اس لئے انہیں  بطورِ خاص ’’اُلُوا الْعَزْم رسول‘‘ کہا جاتا ہے اور جب بھی ’’اُلُوا الْعَزْم رسول‘‘ کہا جائے تو ان سے یہی پانچوں  رسول مراد ہوتے ہیں  اور وہ یہ ہیں :

(1)…حضور اقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ۔

(2)…حضرت ابراہیم عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔

(3)…حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔

(4)…حضرت عیسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔

(5)…حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام۔

            قرآنِ مجید میں  ان مقدس ہستیوں  کاخاص طور پر ذکر کیا گیا ہے ،جیسا کہ سورہ ِ احزاب میں  ارشاد باری تعالیٰ ہے :

 



Total Pages: 250

Go To