Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

نے فرمایا:اے میری قوم! اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، بیشک مجھے ڈر ہے کہ کہیں  تمہارے شرک اور توحید سے اِعراض کرنے کی وجہ سے تم پرایک بڑے دن کا عذاب نہ آجائے۔ (اگر تم اس سے بچنا چاہتے ہوتو اللہ تعالیٰ کی وحدانیّت پر ایمان لے آؤ اور صرف اسی کی عبادت کرو۔)( تفسیرکبیر ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۱۰ / ۲۴ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۱ ،  ۸ / ۴۸۰-۴۸۱ ،  ملتقطاً)

{قَالُوْا: انہوں  نے کہا۔} قوم نے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کو جواب دیا:کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم سے ہمارے بتوں  کی پوجا چھڑا کر ہمیں  اپنے دین کی طرف پھیر دو،ایسا ہر گز نہیں  ہو سکتااورتم نے ہمیں  جو عذاب کی وعید سنائی ہے ،اس میں  اگر تم سچے ہوتو ہم پر وہ عذاب لے آؤ۔( روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۲ ،  ۸ / ۴۸۱)

قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ ﳲ وَ اُبَلِّغُكُمْ مَّاۤ اُرْسِلْتُ بِهٖ وَ لٰكِنِّیْۤ اَرٰىكُمْ قَوْمًا تَجْهَلُوْنَ(۲۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  اس نے فرمایااس کی خبر تو اللہ ہی کے پاس ہے میں  تو تمہیں  اپنے رب کے پیام پہونچاتا ہوں  ہاں  ہاں  میری دانِست میں  تم نرے جاہل لوگ ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  فرمایا:علم تو اللہ ہی کے پاس ہے اورمیں  تمہیں  اسی چیز کی تبلیغ کرتا ہوں  جس کے ساتھ مجھے بھیجا گیا ہے لیکن میں  تمہیں  ایک جاہل قوم سمجھتا ہوں ۔

{قَالَ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَ اللّٰهِ: فرمایا: علم تو اللہ ہی کے پاس ہے۔} حضرت ہود عَلَیْہِ السَّلَام نے اپنی قوم کے جواب میں  ارشادفرمایا:عذاب نازل ہونے کا وقت مجھے معلوم نہیں  کیونکہ اس کا علم تو اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے اورجب عذاب کا مقررہ وقت آئے گا تو وہی اسے نازل فرمائے گااور میرا یہ کام نہیں  ہے کہ میں  اس معاملے میں  کوئی دخل دوں  بلکہ میری  ذمہ داری یہ ہے کہ مجھے جو احکام دے کر بھیجا گیا ہے وہ تم تک پہنچا دوں ،اس لئے تمہیں  تبلیغ کر کے میں  تو اپنی ذمہ داری پور ی کر رہا ہوں  لیکن تم میرے حساب سے جاہل لوگ ہو کیونکہ تم اس چیز کا مطالبہ کر رہے ہو جو میرے دائرہِ اختیار میں  ہے ہی نہیں  (اور یہ بھی تمہاری جہالت ہے کہ ایک طرف توحید کا انکار کر رہے ہو اور دوسری طرف اپنے ہی منہ سے مصیبت و بلا مانگ رہے ہو)۔( روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۳ ،  ۸ / ۴۸۱)

فَلَمَّا رَاَوْهُ عَارِضًا مُّسْتَقْبِلَ اَوْدِیَتِهِمْۙ-قَالُوْا هٰذَا عَارِضٌ مُّمْطِرُنَاؕ-بَلْ هُوَ مَا اسْتَعْجَلْتُمْ بِهٖؕ-رِیْحٌ فِیْهَا عَذَابٌ اَلِیْمٌۙ(۲۴)

ترجمۂ کنزالایمان:  پھر جب انہوں  نے عذاب کو دیکھا بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں  پھیلا ہوا اُن کی وادیوں  کی طرف آتا بولے یہ بادل ہے کہ ہم پر برسے گا بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم جلدی مچاتے تھے ایک آندھی ہے جس میں  دردناک عذاب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: پھر جب انہوں  نے اسے (یعنی عذاب کو) بادل کی صورت میں  پھیلا ہوا اپنی وادیوں  کی طرف آتا ہوا دیکھا توکہنے لگے: یہ ہمیں  بارش دینے والابادل ہے۔(کہا گیا کہ، نہیں ) بلکہ یہ تو وہ ہے جس کی تم نے جلدی مچائی تھی، یہ ایک آندھی ہے جس میں  دردناک عذاب ہے۔

{فَلَمَّا رَاَوْهُ: پھر جب انہوں  نے عذاب کو دیکھا۔} جب قومِ عاد نے کسی طرح حق کو قبول نہ کیا تو ان سے جس عذاب کا وعدہ کیا گیا تھا وہ آگیا،اس کی صورت یہ ہوئی کہ کچھ عرصہ ان کے علاقوں  میں  بارش نہ ہوئی ،پھراللہ تعالیٰ نے ان کی طرف ایک سیاہ بادل چلایا جس میں  ان پر آنے والا عذاب تھا اور جب انہوں  نے عذاب کو بادل کی طرح آسمان کے کنارے میں  پھیلا ہوا اپنی وادیوں  کی طرف آتے ہوئے دیکھا تو وہ لوگ خوش ہو گئے اور کہنے لگے: یہ ہمیں  بارش دینے والابادل ہے۔حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام نے ان سے فرمایا:یہ برسنے والا بادل نہیں  ہے بلکہ یہ تو وہ عذاب ہے جس کی تم جلدی  مچارہے تھے، اس بادل میں  ایک آندھی ہے جس میں  دردناک عذاب ہے۔( تفسیرکبیر ،  الاحقاف ، تحت الآیۃ:۲۴ ، ۱۰ / ۲۵ ،  روح البیان ، الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ۸ / ۴۸۲ ،  مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۴ ،  ص۱۱۲۸-۱۱۲۹ ،  ملتقطاً)

تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا فَاَصْبَحُوْا لَا یُرٰۤى اِلَّا مَسٰكِنُهُمْؕ-كَذٰلِكَ نَجْزِی الْقَوْمَ الْمُجْرِمِیْنَ(۲۵)

ترجمۂ کنزالایمان: ہر چیز کو تباہ کر ڈالتی ہے اپنے رب کے حکم سے تو صبح رہ گئے کہ نظر نہ آتے تھے مگر ان کے سُونے مکان ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں  مجرموں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے تو صبح کو ان کی ایسی حالت تھی کہ ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔ ہم مجرموں  کوایسی ہی سزا دیتے ہیں ۔

{تُدَمِّرُ كُلَّ شَیْءٍۭ بِاَمْرِ رَبِّهَا: اپنے رب کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے۔} یعنی اس آندھی کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر دیتی ہے ،چنانچہ اس آندھی کے عذاب نے قومِ عادکے مَردوں  ، عورتوں ، چھوٹوں  ، بڑوں  سب کو ہلاک کردیا ، ان کے اَموال آسمان وز مین کے درمیان اُڑتے پھرتے تھے اور ان کی چیزیں  پارہ پارہ ہوگئیں  اور صبح کے وقت ایسی حالت تھی کہ وہاں  ان کے خالی مکان ہی نظر آرہے تھے۔آیت کے آخر میں  ارشاد فرمایا کہ ہم مجرموں  کوایسی ہی سزا دیتے ہیں  جیسی ہم نے قومِ عاد کو دی،اس لئے کفارِ مکہ کو بھی اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ اپنے کفر و عناد پر قائم رہے تو اللہ تعالیٰ ان پر بھی قومِ عاد جیسی آندھی بھیج سکتا ہے۔( جلالین ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ص۴۱۸ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۵ ،  ۸ / ۴۸۲-۴۸۳ ،  ملتقطاً)

وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ وَ جَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّ اَبْصَارًا وَّ اَفْـٕدَةً ﳲ فَمَاۤ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَ لَاۤ اَبْصَارُهُمْ وَ لَاۤ اَفْـٕدَتُهُمْ مِّنْ شَیْءٍ اِذْ كَانُوْا یَجْحَدُوْنَۙ-بِاٰیٰتِ اللّٰهِ وَ حَاقَ بِهِمْ مَّا كَانُوْا بِهٖ یَسْتَهْزِءُوْنَ۠(۲۶)

ترجمۂ کنزالایمان: اور بیشک ہم نے انہیں  وہ مقدور دیئے تھے جو تم کو نہ دیئے اور اُن کے لیے کان اور آنکھ اور دل بنائے تو ان کے کان اور آنکھیں  اور دل کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں  کا انکار کرتے تھے اور انہیں  گھیرلیا اس عذاب نے جس کی ہنسی بناتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور بیشک ہم نے ان کو ان چیزوں  میں  قدرت دی تھی جن میں  (اے اہلِ مکہ) تمہیں  قدرت نہیں  دی اور ان کے لیے کان اور آنکھیں  اور دل بنائے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں  اور ان کے دل ان کے کچھ کام نہ آئے جبکہ وہ اللہ کی آیتوں  کا انکار کرتے تھے اورانہیں  اس عذاب نے گھیرلیا جس کا وہ مذاق اڑاتے تھے۔

{وَ لَقَدْ مَكَّنّٰهُمْ فِیْمَاۤ اِنْ مَّكَّنّٰكُمْ فِیْهِ: اور بیشک ہم نے ان کو ان چیزوں  میں  قدرت دی تھی جن میں  تمہیں  قدرت نہیں  دی۔} کفار ِ مکہ کو عذاب سے ڈرانے کے بعدیہاں  سے قومِ



Total Pages: 250

Go To