Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اللہ تعالٰی کی عطا کردہ لذیذ چیزوں  سے فائدہ اٹھانے کی مذموم اور غیر مذموم صورتیں :

            یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی لذیذاورپسندیدہ حلال چیزوں  کوحاصل کرنا اور ان سے نفع اٹھاناگناہ نہیں  کیونکہ شریعت میں  حلال اورطیب چیزکے حصول اوراس سے نفع اٹھانے کی اجازت دی گئی ہے اور نہ ہی ان چیزوں  کا استعمال جائز اور حلال سمجھتے ہوئے انہیں  ترک کرنا قابلِ مذمت ہے بلکہ مذموم یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں  سے فائدہ اٹھائے اوران کاشکرادانہ کرے ،یاحرام ذریعے سے حاصل کر کے انہیں  استعمال کرے ،یاحلال چیزوں  کی بجائے حرام چیزوں  سے فائدہ اٹھائے، لہٰذا بعض بزرگانِ دین کا حلال و طیب، لذیذ اور عمدہ چیزوں  کو استعمال کرنا مذموم نہیں  کیونکہ وہ شریعت کی دی ہوئی اجازت پر عمل کر رہے ہوتے ہیں  ،اسی طرح بعض بزرگانِ دین کاان چیزوں  کے استعمال سے گریز کرنا بھی مذموم نہیں  کیونکہ وہ ان کے ساتھ حرام جیسا سلوک نہیں  کرتے بلکہ ان کاا ستعمال جائز و حلال سمجھتے ہوئے اپنے نفس کی اصلاح کے لئے ایسا کرتے ہیں  ،البتہ ان لوگوں  کا طرزِ عمل ضرور مذموم ہے جو اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں  سے فائدہ اٹھانا اپنے اوپر حرام قرار دیتے ہوئے ان سے بچتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ كُلُوْا مِمَّا فِی الْاَرْضِ حَلٰلًا طَیِّبًا ﳲ وَّ لَا تَتَّبِعُوْا خُطُوٰتِ الشَّیْطٰنِؕ-اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌ(۱۶۸)اِنَّمَا یَاْمُرُكُمْ بِالسُّوْٓءِ وَ الْفَحْشَآءِ وَ اَنْ تَقُوْلُوْا عَلَى اللّٰهِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۱۶۸ ، ۱۶۹)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے لوگو! جو کچھ زمین میں  حلال پاکیزہ  ہے اس میں  سے کھاؤ اور شیطان کے راستوں  پر نہ چلو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ وہ تمہیں  صرف برائی اور بے حیائی کا حکم دے گا اور یہ (حکم دے گا) کہ تم اللہ کے بارے میں  وہ کچھ کہو جو خود تمہیں  معلوم نہیں ۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا كُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ وَ اشْكُرُوْا لِلّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِیَّاهُ تَعْبُدُوْنَ‘‘(بقرہ:۱۷۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ہماری دی ہوئی ستھری چیزیں  کھاؤاور اللہ کا شکر ادا کرواگر تم اسی کی عبادت کرتے ہو۔

            اور ارشاد فرمایا :

’’یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تُحَرِّمُوْا طَیِّبٰتِ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكُمْ وَ لَا تَعْتَدُوْاؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ(۸۷) وَ كُلُوْا مِمَّا رَزَقَكُمُ اللّٰهُ حَلٰلًا طَیِّبًا۪-وَّ اتَّقُوا اللّٰهَ الَّذِیْۤ اَنْتُمْ بِهٖ مُؤْمِنُوْنَ‘‘(مائدہ:۸۷ ، ۸۸)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! ان پاکیزہ چیزوں  کو حرام نہ قرار دوجنہیں  اللہ نے تمہارے لئے حلال فرمایا ہے اور حد سے نہ بڑھو۔ بیشک اللہ حد سے بڑھنے والوں  کو ناپسند فرماتا ہے۔ اور جو کچھ تمہیں  اللہ نے حلال پاکیزہ رزق دیا ہےاس میں  سے کھاؤ اوراس اللہ سے ڈرو جس پر تم ایمان رکھنے والے ہو۔

            اور ارشاد فرمایا:

’’قُلْ مَنْ حَرَّمَ زِیْنَةَ اللّٰهِ الَّتِیْۤ اَخْرَ جَ لِعِبَادِهٖ وَ الطَّیِّبٰتِ مِنَ الرِّزْقِؕ-قُلْ هِیَ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا خَالِصَةً یَّوْمَ الْقِیٰمَةِؕ-كَذٰلِكَ نُفَصِّلُ الْاٰیٰتِ لِقَوْمٍ یَّعْلَمُوْنَ‘‘(اعراف:۳۲)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: اللہ کی اس زینت کو کس نے حرام کیا جو اس نے اپنے بندوں  کے لئے پیدا فرمائی ہے؟ اور پاکیزہ رزق کو (کس نے حرام کیا؟) تم فرماؤ: یہ دنیا میں  ایمان والوں  کے لئے ہے، قیامت میں  تو خاص انہی کے لئے ہوگا۔ ہم اسی طرح علم والوں  کے لئے تفصیل سے آیات بیان کرتے ہیں ۔

            اللہ تعالیٰ ہمیں  شریعت کے اَحکام اور مَقاصد کو سمجھنے اور اِعتدال کی راہ پر قائم رہنے کی توفیق عطا فرمائے اٰمین۔

وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍؕ-اِذْ اَنْذَرَ قَوْمَهٗ بِالْاَحْقَافِ وَ قَدْ خَلَتِ النُّذُرُ مِنْۢ بَیْنِ یَدَیْهِ وَ مِنْ خَلْفِهٖۤ اَلَّا تَعْبُدُوْۤا اِلَّا اللّٰهَؕ-اِنِّیْۤ اَخَافُ عَلَیْكُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیْمٍ(۲۱) قَالُوْۤا اَجِئْتَنَا لِتَاْفِكَنَا عَنْ اٰلِهَتِنَاۚ-فَاْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنْ كُنْتَ مِنَ الصّٰدِقِیْنَ(۲۲)

ترجمۂ کنزالایمان: اور یاد کرو عاد کے ہم قوم کو جب اس نے ان کو سرزمینِ اَحقاف میں  ڈرایا اور بیشک اس سے پہلے ڈر سنانے والے گزر چکے اور اس کے بعد آئے کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پُوجو بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا اندیشہ ہے۔ بولے کیا تم اس لیے آئے کہ ہمیں  ہمارے معبودوں  سے پھیر دو تو ہم پر لاؤ جس کا ہمیں  وعدہ دیتے ہو اگر تم سچے ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان:  اورعاد کے ہم قوم کو یاد کروجب اس نے اپنی قوم کو سرزمینِ احقاف میں  ڈرایا اور بیشک اس سے پہلے اور اس کے بعد کئی ڈر سنانے والے گزر چکے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، بیشک مجھے تم پر ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈرہے۔ انہوں  نے کہا: کیا تم اس لیے آئے ہوکہ ہمیں  ہمارے معبودوں  سے پھیر دو، اگر تم سچے ہوتو ہم پر لے آؤ جس کی تم ہمیں  وعیدیں  سناتے ہو۔

{وَ اذْكُرْ اَخَا عَادٍ: اورعاد کے ہم قوم کو یاد کرو۔} اس سے پہلی آیات میں  توحید اور نبوت کو ثابت کرنے کے لئے مختلف دلائل بیان کئے گئے اور کفارِ مکہ کا حال یہ تھا کہ وہ دُنْیَوی لذّتوں  میں  ڈوبے ہوئے اور انہیں  حاصل کرنے میں  مشغول ہونے کی بنا پر ان دلائل سے منہ پھیرتے اور ان کی طرف کوئی توجہ نہ کیا کرتے تھے ،اس لئے یہاں  سے قومِ عاد کے بارے میں  بیان کیا گیا کہ وہ مال،قوت اور وجاہت میں  کفار ِمکہ سے بڑھ کر تھے اور جب وہ اپنے کفر و سرکشی پر قائم رہے تو اس کے نتیجے میں  اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب مُسلَّط کر دیا ۔اس واقعے کو ذکر کرنے سے مقصود یہ ہے کہ کفارِ مکہ اس سے عبرت پکڑیں  اور اپنے غرور و تکبُّر کو چھوڑ کر دین ِاسلام کو قبول کر لیں  ۔چنانچہ ارشاد فرمایا:اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کفارِ مکہ کے سامنے حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا وہ واقعہ بیان کریں  جب انہوں  نے اَحقاف کی سرزمین میں  بسنے والی اپنی قوم کو ایمان نہ لانے کی صورت میں  اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا اور یہ ایسی لازمی اورصحیح بات ہے کہ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام سے پہلے اور ان کے بعد بہت سے عذابِ الہٰی کا ڈر سنانے والے پیغمبر گزر چکے ہیں  ۔ حضرت ہود عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام



Total Pages: 250

Go To