Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

جلد دے دی گئی ہیں  ۔حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے لئے مغفرت کی دعا فرما دیجئے۔( بخاری ،  کتاب المظالم والغصب ،  باب الغرفۃ والعلیۃ... الخ ،  ۲ / ۱۳۳ ،  الحدیث: ۲۴۶۸)

(2)…حضرت سالم بن عبداللہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمَا سے روایت ہے،امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا: اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم!ہمیں بھی زندگی کی لذّتیں  حاصل کرنے کی خواہش ہوتی ہے اور ہم بھی یہ حکم دینا چاہتے ہیں  کہ ہمارے لئے چھوٹی بکری بھونی جائے ،میدے کی روٹی اور مشکیزے میں  نبیذ بنائی جائے، یہاں  تک کہ جب گوشت چکور(یعنی تیتر کی مثل پہاڑی پرندے کے گوشت) کی طرح(نرم) ہو جائے تواسے کھائیں  اور نبیذ پئیں ،لیکن (ہم ایسا نہیں  کرتے بلکہ) ہم یہ ارادہ رکھتے ہیں  کہ پاکیزہ چیزوں  کو آخرت کے لئے بچا لیں  کیونکہ ہم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد سن رکھا ہے:

’’اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے۔( حلیۃ الاولیاء ،  عمر بن الخطاب ،  ۱ / ۸۵ ،  الحدیث: ۱۱۸)

            اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی اُخروی ثواب میں  اضافے کی خاطر دنیا کی لذّتوں  اور اس کے عیش و عشرت کو ترک کرنے کی توفیق عطا فرمائے،اٰمین۔

تاجدارِ رسالت صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اور صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ کی دنیا سے کنارہ کشی:

            حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ اللہ تعالیٰ کی عطا سے ہر چیز کے مالک ہیں  اور آپ جیسی چاہتے ویسی شاہانہ زندگی بسر فرما سکتے تھے لیکن آپ نے اس زندگی پر قدرت و اختیار کے باوجود زُہد و قناعت سے بھر پور اور دنیا کے عیش و عشرت سے دور رہتے ہوئے زندگی بسر فرمائی اور آپ کی صحبت سے فیض یافتہ صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ نے بھی اسی طرح زندگی بسر کرنے کو ترجیح دی ،یہاں  ان کی زاہدانہ زندگی کے مزید6واقعات ملاحظہ ہوں :

(1)…حضرت ابوامامہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے مجھ پر یہ معاملہ پیش فرمایا کہ میرے لیے مکہ کی واد ی سونے کی بنادے ،میں  نے عرض کی: اے میرے رب! (عَزَّوَجَلَّ) نہیں ، میں  ایک دن پیٹ بھرکرکھاؤں  گااورایک دن بھوکارہوں  گا،پھرجب میں  بھوکارہوں  گاتوتجھ سے فریاد کروں  گااورتجھے یادکروں  گااورجب میں  سیرہوکرکھاؤں  گاتومیں  تیراشکراداکروں  گااورتیری حمد کروں  گا۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ما جاء فی الکفاف والصبر علیہ ،  ۴ / ۱۵۵ ،  الحدیث: ۲۳۵۴)

(2)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں  : پورا پور امہینہ گزر جاتا تھا مگرگھر میں  آ گ نہ جلتی تھی ، محض چند کھجوروں  اورپانی پر گزارہ کیا جاتا تھا ۔( بخاری ،  کتاب الرقاق ،  باب کیف کان عیش النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم... الخ ،  ۴ / ۲۳۶ ،  الحدیث: ۶۴۵۸)

 (3)…حضرت انس بن مالک رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ بیان کرتے ہیں  :ایک مرتبہ حضرت سیدہ فاطمہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا نے (جَو کی) روٹی کا ایک ٹکڑا نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  پیش کیاتوآپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’یہ پہلاکھاناہے جو تین دن کے بعدتمہارے والد کے منہ میں  داخل ہواہے ۔( معجم الکبیر ،  ومما اسند انس بن مالک رضی اللّٰہ عنہ ،  ۱ / ۲۵۸ ،  الحدیث: ۷۵۰)

(4)…حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہَا  فرماتی ہیں  :رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی وفات تک آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے اہلِ بیت نے کبھی جَو کی روٹی بھی دو دن مُتَواتِر نہ کھائی۔( مسلم ،  کتاب الزہد والرقائق ،  ص۱۵۸۸ ،  الحدیث: ۲۲(۲۹۷۰))

(5)…حضرت ابو طلحہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ  فرماتے ہیں : ہم نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  بھوک کی شکایت کی اوراپنے پیٹ سے کپڑااٹھاکرآپ کوپیٹ پربندھے ہوئے پتھردکھائے تو رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے پیٹ پربندھے ہوئے دوپتھردکھائے ۔( ترمذی ،  کتاب الزہد ،  باب ماجاء فی معیشۃ اصحاب النبیّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم ،  ۴ / ۱۶۴ ،  الحدیث: ۲۳۷۸)

(6)…جب حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ ملکِ شام میں  گئے توان کے لیے ایسالذیذ کھاناتیارکیاگیاکہ اس سے پہلے اتنالذیذ کھانادیکھانہیں  گیاتھا،حضرت عمرفاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے فرمایا:یہ کھاناہمارے لئے ہے توان     محتاج مسلمانوں  کے لیے کیاتھاجواس حا ل میں  فوت ہوگئے کہ انہوں  نے جَوکی روٹی بھی پیٹ بھرکرنہیں  کھائی؟ حضرت خالد بن ولید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے عرض کی:ان کے لیے جنت ہے ۔یہ سن کرحضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ کی آنکھوں  سے آنسوبہنے لگے اورآپ نے فرمایا :کاش!ہمارے لیے دنیاکاحصہ چندلکڑیاں  ہوتیں  ،وہ محتاج مسلمان اپنے حصے میں  جنت لے گئے، ہم میں  اوران میں  بہت فرق ہے ۔( قرطبی ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۸ / ۱۴۶ ،  الجزء السادس عشر)

            کائنات کی ان مُقَدّس ہستیوں  کے زُہد و قناعت کاصدقہ اللہ تعالیٰ ہمیں  بھی زہد و قناعت کی عظیم دولت عطا فرمائے،اٰمین۔

نفس کو نہ کھلی چھٹی دی جائے نہ ہر حال میں  اس کی پیروی کی جائے:

            امام محمدغزالی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ بزرگانِ دین کے زُہد و قناعت اور دُنْیَوی لذّتوں سے کنارہ کشی کے واقعات ذکر کرنے کے بعدفرما تے ہیں : خلاصہ یہ ہے کہ نفس کو جائز خوا ہشات کے لئے بھی کھلی چھٹی نہیں  دینی چاہئے اور نہ ہی یہ ہونا چاہئے کہ ا س کی ہر حال میں  پیروی کی جائے ،بندہ جس قدر خواہشات کو پورا کرتا ہے اسی قدر اسے اس بات کا ڈر بھی ہونا چاہئے کہ کہیں  قیامت کے دن ا س سے یہ نہ کہہ دیا جائے:

’’ اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَا‘‘

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھا چکے۔

            اور جس قدر بندہ اپنے نفس کو مجاہدات میں  ڈالے گا اور خواہش کو چھوڑے گا اسی قدر آخرت میں  من پسند چیزوں  سے نفع اٹھائے گا۔( احیاء علوم الدین ،  کتاب کسر الشہوتین ،  بیان طریق الریاضۃ فی کسر شہوات البطن ،  ۳ / ۱۱۸)

 



Total Pages: 250

Go To