Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان: یہ وہ ہیں  جن پر بات ثابت ہوچکی ان گروہوں  میں  جو ان سے پہلے گزرے جن اور آدمی بیشک وہ زیاں  کار تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: یہ وہ لوگ ہیں  جن پر بات ثابت ہوچکی ہے(یہ)جنوں  اور انسانوں  کے ان گروہوں  میں  (شامل) ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، بیشک وہ نقصان اٹھانے والے تھے۔

{اُولٰٓىٕكَ الَّذِیْنَ حَقَّ عَلَیْهِمُ الْقَوْلُ: یہ وہ لوگ ہیں  جن پر بات ثابت ہوچکی ہے۔} یعنی یہ باطل باتیں  کہنے والے وہ لوگ ہیں  جن پر جہنم میں  داخل کئے جانے کی بات ثابت ہو چکی ہے اوریہ اپنے رب کے احکام سے سرکشی کرنے اور رسولوں  کو جھٹلانے والے جنوں  اور انسانوں  کے ان گروہوں  میں  شامل ہیں جو ان سے پہلے گزرے ہیں ، بیشک وہ ہدایت کے بدلے گمراہی اور نعمتوں  کے بدلے عذاب کو اختیار کر کے نقصان اٹھانے والے تھے۔( روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۸ / ۴۷۷ ،  تفسیر طبری ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۸ ،  ۱۱ / ۲۸۸ ،  ملتقطاً)

قیامت کے دن کافر اولاد اپنے مومن والدین کے ساتھ نہ ہوگی:

            اس آیت سے معلوم ہواکہ قیامت کے دن کافر اولاد اپنے مومن ماں  باپ کے ساتھ نہ ہوگی بلکہ کفار کے ساتھ ہوگی، کیونکہ یہاں  فرمایا گیا کہ یہ اولاد پچھلے جن و اِنس کفار میں  شامل ہوگی۔ قیامت میں  ایمانی رشتہ مُعتبر ہو گا نہ کہ محض خونی رشتہ، جیسے کنعان اگرچہ حضرت نوح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام کا نسبی بیٹا تھا مگر رہا کفار کے ساتھ، انہیں  کے ساتھ ہلاک ہوا اور انہیں  کے ساتھ جہنم میں  جائے گا کیونکہ اس نے ایمان قبول نہیں  کیا تھا۔ یاد رہے کہ مومن اولاد اور مومن والدین کو ایک دوسرے سے فائدہ پہنچے گا۔ والدین کے نیک اعمال سے ان کی اولاد کو فائدہ پہنچنے کے بارے میں  یہ آیت ملاحظہ ہو ،اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:

’’وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ اتَّبَعَتْهُمْ ذُرِّیَّتُهُمْ بِاِیْمَانٍ اَلْحَقْنَا بِهِمْ ذُرِّیَّتَهُمْ وَ مَاۤ اَلَتْنٰهُمْ مِّنْ عَمَلِهِمْ مِّنْ شَیْءٍ‘‘(طور:۲۱)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جو لوگ ایمان لائے اور ان کی (جس) اولاد نے ایمان کے ساتھ ان کی پیروی کی توہم ان کی اولاد کو ان کے ساتھ ملادیں  گے اور اُن (والدین) کے عمل میں  کچھ کمی نہ کریں  گے۔

            اولاد کے نیک اعمال سے ان کے والدین کو فائدہ پہنچنے کے بارے میں  یہ حدیث ملاحظہ ہو ۔ حضرت معاذ جہنی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ سے روایت ہے، رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’جو قرآن پڑھے اور اس کے اَحکام پر عمل کرے تو قیامت کے دن اس کے ماں  باپ کو ایسا تاج پہنایا جائے گا جس کی روشنی سورج کی روشنی سے اچھی ہوگی جو دنیا میں  تمہارے گھروں  میں  چمکتا ہے ، تو خود اس شخص کے بارے تمہارا کیا خیال ہے جس نے اس پر عمل کیا۔( ابو داؤد ،  کتاب الوتر ،  باب فی ثواب قراء ۃ القرآن ،  ۲ / ۱۰۰ ،  الحدیث: ۱۴۵۳)

وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْاۚ-وَ لِیُوَفِّیَهُمْ اَعْمَالَهُمْ وَ هُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان: اور ہر ایک کے لیے اپنے اپنے عمل کے درجے ہیں  اور تاکہ اللہ  ان کے کام انہیں  پورے بھر دے اور ان پر ظلم نہ ہوگا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور سب کے لیے ان کے اعمال کے سبب درجات ہیں  اور تاکہ اللہ  انہیں  ان کے اعمال کا پورا بدلہ دے اور ان پر ظلم نہیں  ہوگا۔

{وَ لِكُلٍّ دَرَجٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوْا: اور سب کے لیے ان کے اعمال کے سبب درجات ہیں ۔} یعنی مومن اور کافر میں  سے ہر ایک کے لئے قیامت کے دن مَنازل اور مَراتب ہیں  اور یہ ان کے دنیا میں  کئے ہوئے اچھے اور برے اعمال کے سبب ہیں  تاکہ اللہ تعالیٰ مومنوں  کو ان کی فرمانبرداری اور کافروں  کو ان کی نافرمانی کی پوری جزا دے کیونکہ قیامت کے دن کسی پر زیادتی نہیں  ہوگی۔ (جلالین ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ص۴۱۷ ،  البحر المحیط ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۹ ،  ۸ / ۶۲ ،  ملتقطاً)

وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِؕ-اَذْهَبْتُمْ طَیِّبٰتِكُمْ فِیْ حَیَاتِكُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمْ بِهَاۚ-فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْهُوْنِ بِمَا كُنْتُمْ تَسْتَكْبِرُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِ الْحَقِّ وَ بِمَا كُنْتُمْ تَفْسُقُوْنَ۠(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان: اورجس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے اُن سے فرمایا جائے گا تم اپنے حصّہ کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور انہیں  برت چکے تو آج تمہیں  ذلت کا عذاب بدلہ دیا جائے گا سزا اس کی کہ تم زمین میں  ناحق تکبر کرتے تھے اور سزا اس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے (تو کہا جائے گا) تم اپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے تو آج تمہیں  ذلت کے عذاب کابدلہ دیا جائے گا کیونکہ تم زمین میں  ناحق تکبر کرتے تھے اور اس لیے کہ تم نافرمانی کرتے تھے۔

{وَ یَوْمَ یُعْرَضُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا عَلَى النَّارِ: اور جس دن کافر آگ پر پیش کیے جائیں  گے۔} ارشاد فرمایا کہ جس دن کافر جہنم کی آگ پر پیش کیے جائیں  گے تواس وقت ان سے فرمایا جائے گا:تم لذّتوں  میں  مشغول ہو کراپنے حصے کی پاک چیزیں  اپنی دنیا ہی کی زندگی میں  فنا کرچکے اور ان سے فائدہ اٹھاچکے ،اس لئے یہاں  آخرت میں  تمہارا کوئی حصہ باقی نہ رہا جسے تم لے سکو، تو تم جودنیامیں  ایمان قبول کرنے سے ناحق تکبر کرتے تھے اوراحکامات کو ترک کر کے اور ممنوعات کا اِرتکاب کر کے نافرمانی کیا کرتے تھے ا س کے بدلے میں  آج تمہیں  ذلیل اور رسوا کردینے والا عذاب دیا جائے گا۔(صاوی ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۵ / ۱۹۳۹-۱۹۴۰ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۸ / ۴۷۹ ،  ملتقطاً)

اُخروی ثواب میں  اضافے کی خاطر دُنْیَوی لذتوں  کو ترک کر دینا:

            اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے دُنْیَوی لذتوں  اور عیش و عشرت کو اختیارکرنے پر کفار کی مذمت اور انہیں  ملامت فرمائی ہے،اسی لئے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ کے صحابہ ٔکرام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُمْ اور امت کے دیگرنیک لوگ دنیا کے عیش و عشرت اور اس کی لذتوں  سے کنارہ کَش رہتے تھے اور زہد و قناعت والی زندگی گزارنے کو ترجیح دیتے تھے تاکہ آخرت میں  ان کا ثواب زیادہ ہو۔( الوسیط ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۲۰ ،  ۴ / ۱۱۰) یہاں  اسی سے متعلق دو رِوایات ملاحظہ ہوں  :

(1)…حضرت عمر فاروق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں  : میں  نے کاشانۂ اَقدس میں  دیکھا تو خدا کی قسم! مجھے تین کھالوں  کے سوا کچھ نظر نہ آیا،میں  نے رسولِ کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی بارگاہ میں  عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے آپ کی امت پر وسعت فرمائے کیونکہ ا س نے ایران اور روم کے لئے وسعت کر کے انہیں  دنیا عطا فرمائی ہے حالانکہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت نہیں  کرتے ۔حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’اے ابنِ خطاب!کیا تمہیں  اس میں  شک ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں  جنہیں  ان کے حصے کی پاک چیزیں  دنیا میں ہی



Total Pages: 250

Go To