Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزالایمان:  اور وہ جو بتوں  کی پوجا سے بچے اور اللہ کی طرف رجوع ہوئے انھیں  کے لیے خوشخبری ہے تو خوشی سناؤ میرے ان بندوں  کو۔ جو کان لگا کر بات سنیں  پھر اس کے بہتر پر چلیں  یہ ہیں  جن کو اللہ نے ہدایت فرمائی اور یہ ہیں  جن کو عقل ہے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورجنہوں  نے بتوں  کی پوجا سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رجوع کیا انہیں  کے لیے خوشخبری ہے تو میرے بندوں  کو خوشخبری سنادو۔جو کان لگا کر بات سنتے ہیں  پھر اس کی بہتربات کی پیروی کرتے ہیں ۔ یہ ہیں  جنہیں  اللہ نے ہدایت دی اور یہی عقلمند ہیں ۔

{وَ الَّذِیْنَ اجْتَنَبُوا الطَّاغُوْتَ اَنْ یَّعْبُدُوْهَا: اورجنہوں  نے بتوں  کی پوجا سے اجتناب کیا۔} اس آیت اور اس کے بعد والی آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ وہ لوگ جنہوں  نے بتوں  کی پوجا کرنے سے اجتناب کیا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں  توبہ کی اوراس کی توحید کے اقر ار،صرف اسی کی عبادت اور ا س کے علاوہ تمام معبودوں  سے براء ت کا اظہار کیا ،انہیں  کے لئے دنیا میں  اور آخرت میں  خوشخبری ہے،دنیا میں  نیک اعمال کی وجہ سے اچھی تعریف ،موت کے وقت اور قبر میں  رکھے جانے کے وقت راحت اور یونہی آخرت میں  قبر وں سے نکالنے کے وقت،حساب کے لئے کھڑے ہوتے وقت، پل صرا ط پار کرتے وقت،جنت میں  داخل ہوتے وقت اور جنت میں  الغرض ان تمام مقامات پر بھلائی ، راحت اور رحمت انہیں  حاصل ہو گی ،تو اے پیارے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، میرے ان بندوں  کو خوشخبری سنادو جو کان لگا کر غور سے بات سنتے ہیں  ،پھر اس پر عمل کرتے ہیں  جس میں  ان کی بہتری ہو۔یہ ہیں  جنہیں  اللہ تعالیٰ نے اپنی عبادت اور وحدانیّت کے اقرار کی ہدایت دی اور یہی عقلمند ہیں ۔ شانِ نزول ۔حضرت عبداللہ بن عباس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمَا نے فرمایا کہ جب حضرت ابوبکر صدیق رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ ایمان لائے تو آپ کے پاس حضرت عثمان، حضرت عبدالرحمٰن بن عوف،حضرت طلحہ ،حضرت زبیر ،حضرت سعد بن ابی وقاص اور حضرت سعید بن زید رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُمْ آئے اور ان سے حال دریافت کیا ،انہوں  نے اپنے ایمان کی خبر دی تو یہ حضرات بھی سن کر ایمان لے آئے۔ ان کے حق میں  یہ آیت ’’ فَبَشِّرْ عِبَادِالاٰیہ‘‘  نازل ہوئی۔ (تفسیر طبری، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۱۰ / ۶۲۴-۶۲۵ ، جلالین، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸،ص۳۸۶، خازن، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۷-۱۸، ۴ / ۵۲)

زیادہ بہتر اَحکام پر عمل کرنے والے بشارت کے مستحق ہیں :

            قرآن و حدیث میں  مسلمانوں  کو جو احکام دئیے گئے ہیں  ان میں  ثواب کے اعتبار سے فرق ہے ، یوں  بعض اعمال بعض سے بہتر ہیں  ،جیسے تنگدست مقروض کو آسانی آنے تک مہلت دینا اور قرض معاف کر دینا دونوں  بہتر ہیں  لیکن قرض معاف کردینا مہلت دینے سے زیادہ بہتر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’ وَ اِنْ كَانَ ذُوْ عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ اِلٰى مَیْسَرَةٍؕ-وَ اَنْ تَصَدَّقُوْا خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ‘‘(بقرہ:۲۸۰)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے آسانی تک مہلت دو اور تمہارا قرض کوصدقہ کردینا تمہارےلئے سب سے بہتر ہے اگر تم جان لو۔

            اسی طرح جیسی کسی نے تکلیف پہنچائی ویسی اسے سزا دینا اور صبر کرنا دونو ں جائز ہیں  لیکن صبر کرنا سزا دینے سے زیادہ بہتر ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

’’وَ اِنْ عَاقَبْتُمْ فَعَاقِبُوْا بِمِثْلِ مَا عُوْقِبْتُمْ بِهٖؕ-وَ لَىٕنْ صَبَرْتُمْ لَهُوَ خَیْرٌ لِّلصّٰبِرِیْنَ‘‘(نحل:۱۲۶)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اور اگر تم (کسی کو)سزا دینے لگو تو ایسی ہی سزا دو جیسی تمہیں  تکلیف پہنچائی گئی ہو اور اگر تم صبر کرو تو بیشک صبر والوں  کیلئے صبر سب سے بہتر ہے۔

            یونہی سب سے بہتر نیک عمل وہ ہے جو اِستقامت کے ساتھ ہو اگرچہ تھوڑا ہی کیوں  نہ ہو جیسا کہ حضرت ابو ہریرہ رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے، نبیٔ  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا’’ تم اتنے عمل کی عادت بناؤ جتنے کی تم طاقت رکھتے ہو،پس بہترین عمل وہ ہے جو ہمیشہ ہو اگرچہ کم ہی ہو۔( ابن ماجہ، کتاب الزہد، باب المداومۃ علی العمل، ۴ / ۴۸۷، الحدیث: ۴۲۴۰)

            جولوگ جائز احکام پر عمل کرتے ہیں  وہ ملامت کے مستحق نہیں  اورجو ثواب کے کام کرتے ہیں  وہ قابلِ تعریف ہیں  لیکن جو زیادہ بہتر اعمال بجالاتے ہیں  وہ زیادہ ثواب کے مستحق اور زیادہ قابلِ تعریف ہیں ۔

اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِؕ-اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِۚ(۱۹)

ترجمۂ کنزالایمان:  تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی نجات والوں  کے برابر ہوجائے گا تو کیا تم ہدایت دے کر آگ کے مستحق کو بچالو گے۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے (وہ نجات والوں  کے برابر ہوجائے گا؟ ہرگز نہیں ۔) تو کیا تم اسے جو آگ کا مستحق ہے بچالو گے؟

{اَفَمَنْ حَقَّ عَلَیْهِ كَلِمَةُ الْعَذَابِ: تو کیا وہ جس پر عذاب کی بات ثابت ہوچکی ہے۔} بت پرستی سے بچنے والوں  کا حال بیان کرنے کے بعد یہاں  سے بت پرستوں  کا حال بیان کیا جارہا ہے۔اس آیت کا معنی یہ ہے کہ جس کے بارے میں  اللہ تعالیٰ کے علم میں  ہے کہ وہ جہنمی ہے کیا وہ اس کی طرح ہو سکتا ہے جس پر عذاب واجب نہیں  ہوا۔ (وہ ہر گز اس کی طرح نہیں  ہو سکتا۔)( روح البیان، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴ / ۹۱-۹۲، تفسیر سمرقندی، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۳ / ۱۴۷، ملتقطاً)

{اَفَاَنْتَ تُنْقِذُ مَنْ فِی النَّارِ: تو کیا تم اسے جو آگ میں  ہے بچالو گے؟} اس آیت کا معنی یہ ہے کہ (جو اَزلی بدبخت ہے اور) جس کے بارے میں  اللہ تعالیٰ کے علم میں  ہے کہ وہ اپنے خبیث اعمال کی وجہ سے جہنم میں  جانے کا حقدار ہے تو کیا آپ اسے ہدایت دے کر جہنم سے بچالیں  گے ،ہر گز نہیں ۔(تفسیر سمرقندی، الزمر،تحت الآیۃ:۱۹، ۳ / ۱۴۷، جلالین، الزمر،تحت الآیۃ:۱۹،ص۳۸۶، خازن، الزمر، تحت الآیۃ: ۱۹، ۴ / ۵۲، ملتقطاً)

لٰكِنِ الَّذِیْنَ اتَّقَوْا رَبَّهُمْ لَهُمْ غُرَفٌ مِّنْ فَوْقِهَا غُرَفٌ مَّبْنِیَّةٌۙ-تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ۬ؕ-وَعْدَ اللّٰهِؕ-لَا یُخْلِفُ اللّٰهُ الْمِیْعَادَ(۲۰)

ترجمۂ کنزالایمان:  لیکن جو اپنے رب سے ڈرے ان کے لیے بالا خانے ہیں  ان پر بالا خانے بنے ان کے نیچے نہریں  بہیں اللہ کا وعدہ اللہ وعدہ خلاف نہیں  کرتا۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: لیکن اپنے رب سے ڈرنے والوں  کیلئے بلند محلات ہیں  جن کے اوپر (مزید) بلند محلات بنے ہوئے ہیں۔ان کے نیچے نہریں  بہتی ہیں ،یہ اللہ کا وعدہ ہے۔ اللہ وعدہ خلافی



Total Pages: 250

Go To