Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے دشمنوں  پر ذلت و عذاب کے تازیانے اور کوڑے برساتا رہے گا اور یہ سب کے سب غیر مُتناہی ہیں  یعنی ان کی کوئی انتہاء نہیں ، اور غیر مُتناہی کی تفصیلات کا اِحاطہ اللہ تعالیٰ کا علم ہی کر سکتا ہے ۔

            علامہ نیشا پوری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ اسی آیت کے ضمن میں  فرماتے ہیں  :تفصیلی دِرایَت حاصل نہیں  ہے۔( غرائب القرآن ورغائب الفرقان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۶ / ۱۱۸)

            اورعلامہ اسماعیل حقی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ لکھتے ہیں  ـ:ممکن ہے کہ یہاں  جس چیز کی نفی کی گئی ہے وہ تفصیلی دِرایَت ہو،یعنی مجھے اِجمالی طور پر تو معلوم ہے لیکن میں  تمام تفصیلات کے ساتھ یہ نہیں  جانتا کہ دنیا اور آخرت میں  میرے اور تمہارے ساتھ کیا کیا جائے گاکیونکہ مجھے (ذاتی طور پر )غیب کا علم حاصل نہیں  ۔

            آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ مزید فرماتے ہیں  :اس آیت سے معلوم ہوا کہ حضورِ اَقدس صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو مُبَلِّغ(یعنی بندوں  تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دینے والا )بنا کر بھیجا گیا ہے اور کسی کو ہدایت دے دینا نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کی ذمہ داری نہیں  بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور یہ بھی معلوم ہوا کہ غیبوں  کا ذاتی علم اللہ تعالیٰ کے ساتھ خاص ہے جبکہ انبیا ء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء ِعظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِمْ کا غیبی خبریں  دینا وحی، اِلہام اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم کے واسطے سے ہے۔( روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۹ ،  ۸ / ۴۶۷-۴۶۸)

(4)…یہاں  دِرایَت کی نفی ہے، علم کی نہیں  ۔دِرایَت کا معنی قیاس کے ذریعے جاننا ہے یعنی خبر کی بجائے آدمی اپنی عقل سے جانتا ہواور نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے اپنے اُخروی اَحوال کو اپنے عقلی قیاس سے نہیں  جانا بلکہ اللہ تعالیٰ کے بتانے سے جانا۔ یہ معنی اوپر دوسری تاویل میں  خزائن العرفان کے حوالے سے ضمنی طور پربھی موجود ہے۔

            خلاصہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کو ان کے ساتھ اور آپ کی امت کے ساتھ پیش آنے والے امُور پر مُطَّلع فرمادیا ہے خواہ وہ دنیا کے اُمور ہوں  یا آخرت کے اور حضور پُر نور صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ غیب کا ذاتی علم نہیں  رکھتے اور جوکچھ جانتے ہیں  وہ اللہ تعالیٰ کی تعلیم سے جانتے ہیں  ۔

            نوٹ:اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ نے اپنی کتاب ’’اِنْبَاءُ الْحَی اَنَّ کَلَامَہُ الْمَصُونُ تِبْیَانٌ لِکُلِّ شَیْئ‘‘ (قرآنِ مجید ہر چیز کا روشن بیان ہے)میں  اسی آیت کو ذکرکر کے نبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے علمِ غیب کی نفی پر بطورِ دلیل یہ آیت پیش کرنے والوں  کا رد فرمایا اور اس آیت میں  مذکور نفی ’’وَ مَاۤ اَدْرِیْ:میں  نہیں  جانتا‘‘ کے 10جوابات ارشاد فرمائے ہیں ،ان کی معلومات حاصل کرنے کے لئے مذکورہ بالا کتاب کا مطالعہ فرمائیں ۔

قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ كَانَ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ وَ كَفَرْتُمْ بِهٖ وَ شَهِدَ شَاهِدٌ مِّنْۢ بَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَ عَلٰى مِثْلِهٖ فَاٰمَنَ وَ اسْتَكْبَرْتُمْؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ۠(۱۰)

ترجمۂ کنزالایمان: تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم نے اس کا انکار کیا اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکا تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا بیشک اللہ راہ نہیں  دیتا ظالموں  کو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: تم فرماؤ: بھلا دیکھو اگر وہ قرآن اللہ کے پاس سے ہو اور تم اس کا انکار کرو اور بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہے تو وہ ایمان لایا اور تم نے تکبر کیا۔بیشک اللہ ظالموں  کو ہدایت نہیں  دیتا۔

{قُلْ اَرَءَیْتُمْ: تم فرماؤ: بھلا دیکھو۔} یعنی اے حبیب! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، آپ فرمادیں  کہ اے کافرو! میری طرف جس قرآن کی وحی کی جاتی ہے اگر وہ حقیقت میں  اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہو اور تمہارا حال یہ ہو کہ تم اس کا انکار کر رہے ہو جبکہ بنی اسرائیل کا ایک گواہ اس پر گواہی دے چکاہو کہ وہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے، پھر وہ گواہ تو ایمان لے آیا اور تم نے ایمان لانے سے تکبر کیا تو مجھے بتاؤ کہ اس کا نتیجہ کیا ہو گا ؟کیا ایسی صورت میں  تم ظالم نہیں  ہو؟ (یقینا اِس صورت میں  تم نے ایمان نہ لا کر اپنی جانوں  پر ظلم کیا اور )بے شک اللہ تعالیٰ ظالموں  کو ہدایت نہیں  دیتا۔( خازن ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۴ / ۱۲۴ ،  روح البیان ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ۸ / ۴۶۹ ،  ملتقطاً)

بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد کون ہے؟

            جمہور مفسرین کے نزدیک اس آیت میں  بنی اسرائیل کے گواہ سے مراد حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ ہیں ، اسی لئے کہا گیا ہے کہ یہ آیت مدنی ہے کیونکہ حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ مدینہ منورہ میں  ایمان لائے۔( مدارک ،  الاحقاف ،  تحت الآیۃ: ۱۰ ،  ص۱۱۲۵)

            آپ کے ایمان لانے سے متعلق حضرت انس رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ فرماتے ہیں : جب حضرت عبداللہ بن سلام رَضِیَ اللہ تَعَالٰی  عَنْہُ نے سناکہ رسولُ اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  مدینہ منورہ میں  تشریف لے آئے ہیں  تووہ آپ کی بارگاہ میں  حاضر ہوئے اور عرض کی:میں  آپ سے تین ایسی چیزوں  کے بارے میں  سوال کروں  گاجن کونبی کے سواکوئی نہیں  جانتا۔(1)قیامت کی پہلی علامت کیاہے ؟(2)اہلِ جنت کاپہلاکھاناکون سا ہوگا؟ (3)بچہ اپنے باپ یاماں  کے کیسے مشابہ ہوتاہے ؟ سرکارِ دو عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا: ’’قیامت کی پہلی نشانی ایک آگ ہے جولوگوں  کومشرق سے مغرب تک جمع کرے گی اوراہلِ جنت کاپہلاکھانامچھلی کی کلیجی کاٹکڑاہوگااورجب مرد کا پانی عورت کے پانی پرغالب آجائے تووہ بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتاہے اورجب عورت کاپانی مرد کے پانی پرغالب آجائے تووہ بچہ کی شبیہ اپنی طرف کھینچ لیتا ہے۔حضرت عبداللہ بن سلام نے (یہ سن کر) کہا: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ اِلَّا اللہ وَ اَشْھَدُ اَنَّکَ رَسُوْلُ اللہ ‘‘ میں گواہی دیتا ہوں  کہ اللہ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں  اور میں  گواہی دیتا ہوں  کہ بے شک آپ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں ۔ یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، بے شک یہودی بہت بہتان تراش قوم ہے، اگر ان کومیرے اسلام کاآپ کے اُن سے پوچھنے سے پہلے علم ہوگیا تووہ مجھ پربہتان لگائیں  گے ۔ پھر یہودی آئے تونبیٔ  اکرم صَلَّی اللہ تَعَالٰی  عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ان سے سوال کیا’’ تم میں  عبداللہ کیسے ہیں ؟انہوں  نے کہا: وہ ہم میں  سب سے بہتر ہیں ، ان کے والد بھی ہم میں  سب سے بہترتھے،وہ ہمارے سردارہیں  اورہمارے سردار کے بیٹے ہیں  ۔ارشاد فرمایا: ’’اگر عبداللہ بن سلام مسلمان ہوجائیں  تو تم کیا کہو گے؟ انہوں  نے کہا: اللہ تعالیٰ ان کواس سے اپنی پناہ میں  رکھے۔ پھر حضرت عبداللہ بن سلام باہرنکلے اور کہا: ’’اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰـہَ

Total Pages: 250

Go To