Book Name:Sirat ul Jinan Jild 9

ترجمۂ کنزُالعِرفان: مگر وہ لوگ جنہوں  نے توبہ کی اور اپنی اصلاح کرلی اور اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیا اور اپنا دین خالص اللہ کے لئے کرلیا تو یہ مسلمانوں  کے ساتھ ہیں  اور عنقریب اللہ مسلمانوں  کو بڑا ثواب دے گا۔

اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ-وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَۘ-مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰىؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ۬ؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ(۳)

ترجمۂ کنزالایمان:  ہاں  خالص اللہ ہی کی بندگی ہے اور وہ جنہوں  نے اس کے سوا اور والی بنالیے کہتے ہیں  ہم تو انہیں  صرف اتنی بات کے لیے پوجتے ہیں  کہ یہ ہمیں  اللہ کے پاس نزدیک کردیں  اللہ ان میں  فیصلہ کردے گا اس بات کا جس میں  اختلاف کررہے ہیں  بے شک اللہ راہ نہیں  دیتا اسے جو جھوٹا بڑا ناشکرا ہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے اور وہ جنہوں  نے اس کے سوا اور مددگار بنارکھے ہیں  (وہ کہتے ہیں:) ہم تو ان بتوں  کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں  تاکہ یہ ہمیں  اللہ کے زیادہ نزدیک کردیں ۔ اللہ ان کے درمیان اس بات میں  فیصلہ کردے گا جس میں  یہ اختلاف کررہے ہیں  بیشک اللہ اسے ہدایت نہیں  دیتا جو جھوٹا، بڑا ناشکرا ہو۔

{اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ: سن لو! خالص عبادت اللہ ہی کیلئے ہے۔} اس آیت کا خلاصہ یہ ہے کہ اے لوگو! سن لو کہ شرک سے خالص عبادت اللہ تعالیٰ ہی کیلئے ہے کیونکہ اس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق ہی نہیں  اور وہ بت پرست جنہوں  نے اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور معبود ٹھہرا لئے ہیں  اور بتوں  کی پوجا کرتے ہیں ،وہ (اللہ تعالیٰ کو خالق ماننے کے باوجود) کہتے ہیں  کہ ہم تو ان بتوں  کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں  تاکہ یہ ہمیں  اللہ تعالیٰ کے زیادہ نزدیک کردیں  تو یہ سمجھنے والے جھوٹے اور ناشکرے ہیں  یعنی جھوٹے تو اِس بات میں  ہیں  کہ بتوں  کو خدا کا قرب دلانے والا سمجھتے ہیں  اور ناشکرے اِس لئے ہیں  کہ خدا کی نعمتیں  کھاکر اور اس کو خالق مان کر پھر بھی شرک کرتے ہیں  تو ان کافروں  کا مسلمانوں  کے ساتھ توحید و شرک میں  جو اختلاف ہے اس کا فیصلہ قیامت میں  اللہ تعالیٰ ہی فرمائے گا اور وہ فیصلہ ایمان داروں  کو جنت میں  اور کافروں  کو دوزخ میں  داخل کرنے کے ذریعے ہوگا ۔

صرف اللہ تعالٰی کی رضاکے لئے کیا جانے والا عمل مقبول ہے:

             اس آیت سے معلوم ہوا کہ وہی عمل قابلِ قبول ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے کیا جائے ،اسی طرح حضرت یزید رقاشی رَضِیَ اللہ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے،ایک شخص نے عرض کی: یا رسولَ اللہ! صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ، ہم شہرت حاصل کرنے کے لئے اپنے اَموال دیتے ہیں ،کیا ہمیں  اس کا کوئی اجر ملے گا؟نبیٔ  کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے ارشاد فرمایا:’’اللہ تعالیٰ اسی عمل کو قبول فرماتا ہے جو خالص اس کے لئے کیا جائے ،پھر آپ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے یہ آیت تلاوت فرمائی: ’’ اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُ‘‘۔(در منثور، الزمر، تحت الآیۃ: ۳، ۷ / ۲۱۱)

اللہ تعالیٰ کے مقبول بندوں  کو وسیلہ سمجھنا شرک نہیں :

             یاد رہے کہ کسی کو اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل ہونے کا وسیلہ سمجھنا شرک نہیں  کیونکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ تک پہنچنے کے لئے وسیلہ تلاش کرنے کا قرآنِ پاک میں  حکم دیا گیا ہے،جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

’’ یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ ابْتَغُوْۤا اِلَیْهِ الْوَسِیْلَةَ‘‘(مائدہ:۳۵)

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔

            البتہ جسے وسیلہ سمجھا جائے اسے معبود جاننا اور اس کی پوجا کرنا ضرور شرک ہے۔یہ فرق سامنے رکھتے ہوئے اگر انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاءِ عِظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کو اللہ تعالیٰ سے قرب حاصل ہونے کا وسیلہ سمجھنے سے متعلق اہلِ حق کا عقیدہ اور نظرِیَّہ دیکھا جائے تو واضح ہوجائے گا کہ ان کا یہ عقیدہ شرک ہر گز نہیں ، کیونکہ وہ انبیاء ِکرام عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَام اور اولیاء ِعظام رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِمْ کو معبود نہیں  مانتے اور نہ ہی ان کی عبادت کرتے ہیں  بلکہ معبود صرف اللہ تعالیٰ کو مانتے ہیں  اور صرف اسی کی عبادت کرتے ہیں  جبکہ انہیں  صرف اللہ تعالیٰ کا مقبول بندہ مان کر اس کی بارگاہ تک پہنچنے کا ذریعہ اور وسیلہ سمجھتے ہیں ۔آیت میں  مشرکوں  کی بتوں  کو وسیلہ ماننے کی تردید دو وجہ سے ہے۔ ایک تو اِس وجہ سے کہ وہ وسیلہ ماننے کے چکر میں  بتوں کو خدا بھی مانتے تھے جیسا کہ ان کا اپنا قول آیت میں  موجود ہے کہ ہم ان کی عبادت اِس لئے کرتے ہیں  کہ یہ ہمیں  خدا کے قریب کردیں ۔ دوسرا رد اِس وجہ سے ہے کہ وسیلہ ماننا اصل میں  انہیں شفیع یعنی شفاعت کرنے والا ماننا ہے اور اللہ تعالیٰ  کی بارگاہ میں  شفاعت کی اجازت اَنبیاء و اَولیاء و صُلحاء کو ہے نہ کہ بتوں  کو، تو بتوں  کو شفیع ماننا خدا پر جھوٹ ہے۔

لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا لَّاصْطَفٰى مِمَّا یَخْلُقُ مَا یَشَآءُۙ-سُبْحٰنَهٗؕ-هُوَ اللّٰهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(۴)

ترجمۂ کنزالایماناللہاپنے لیے بچہ بناتا تو اپنی مخلوق میں  سے جسے چاہتا چن لیتا پاکی ہے اسے وہی ہے ایک اللہ سب پر غالب۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اگر اللہ اپنے لیے اولاد بنانے کا ارادہ فرماتا تو اپنی مخلوق میں  سے جسے چاہتا چن لیتا وہ پاک ہے۔ وہی ایک اللہ سب پر غالب ہے۔

{لَوْ اَرَادَ اللّٰهُ اَنْ یَّتَّخِذَ وَلَدًا: اگر اللہ اپنے لیے اولاد بنانے کا ارادہ فرماتا۔} کفار اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد مانتے تھے ، اس آیت میں  اللہ تعالیٰ نے کفار کا رد کرتے ہوئے اپنے اولاد سے پاک ہونے کا بیان فرمایا کہ اگر بالفرض مشرکین کے گمان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ممکن ہوتی تو وہ خود جسے چاہتا اولاد بناتا نہ کہ یہ تجویز کفار پر چھوڑتا کہ وہ جسے چاہیں  خدا کی اولاد قرار دیں  (مَعَاذَ اللہ) لیکن اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ اولاد سے اور ہر اس چیز سے پاک ہے جو اس کی شانِ اقدس کے لائق نہیں ،کیونکہ وہی ایک اللہ عَزَّوَجَلَّ سب پر غالب ہے،نہ اس کا کوئی شریک ہے اورنہ اس کی کوئی اولاد ہے۔( مدارک، الزمر، تحت الآیۃ: ۴، ص۱۰۳۰-۱۰۳۱، خازن، الزمر، تحت الآیۃ: ۴، ۴ / ۴۹، ملتقطاً)

خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّۚ-یُكَوِّرُ الَّیْلَ عَلَى النَّهَارِ وَ یُكَوِّرُ النَّهَارَ عَلَى الَّیْلِ وَ سَخَّرَ الشَّمْسَ وَ الْقَمَرَؕ-كُلٌّ یَّجْرِیْ لِاَجَلٍ مُّسَمًّىؕ- اَلَا هُوَ الْعَزِیْزُ



Total Pages: 250

Go To